سڑکوں پر گائے کا پامال ہوتا ’تقدس‘”خوداحتسابی”: سید حسین شمسی ادارتی صفحہ: روزنامہ راشٹریہ سہارا اشاعت: جمعہ, 29 ستمبر 2017

مکتبی تعلیم کے دوران نصابی کتاب میں اسمٰعیل میرٹھی کی نظم “ہماری گائے” کے اشعار ؎
رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی
پڑھنے اور حفظ کرنے کے دوران ہمیں اپنے گھر کی سرائے میں کھونٹے سے بندھی خوبصورت گائے اور اس کا بچھڑا یاد آجاتا۔ اس نظم میں شاعر نے گائے کی جو خوبیاں بیان کی ہیں، وہ تمام خوبیاں ہم اپنی گائے میں پاتے۔ ہمیں گائے اور اس کے بچھڑے سے اس قدر اُنسیت تھی کہ درسگاہ سے گھر واپس آنے کے بعد خاصا وقت بچھڑے کے ساتھ کھیلنے میں گزارتے اور اس کی گردن میں بانہیں ڈال کر بڑے سریلے انداز میں یہ نظم گاتے۔ یہ تو تھابچپن میں گائے اور بچھڑے کے تئیں ہمارا جذبہ شوق والفت۔ اب آئیے گائے کے بی جے پی ورژن اور موجودہ ہندوستان کے دیہی معاشرے کی بات کرتے ہیں۔
ہمارے دیہی معاشرے میں جانور کو ’پشو دھن‘ تصور کیاجاتا ہے جس سے دودھ، دہی، مکھن اور گھی (حتیٰ کہ گوبر بھی) ملتا ہے اور یہ تمام چیزیں کسانوں کے مصرف اور آمدنی کا ذریعہ ہیں۔ کوئی کسان یا دیہاتی شخص اپنے لئے اگر جانور خریدتا ہے تو سب سے پہلے وہ اس جانور کی مجموعی افادیت اور ضرورت کے بارے میں غور کرتا ہے۔ جبکہ گائے خریدتے وقت اسے یوں کچھ سوچنے کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ اس کی افادیت روز ازل سے مسلّم ہے۔ گائے، بھینس اور بکری (دوسرے لفظوں میں دودھ دینے والے جانور) دیہی زندگی کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ آج کا بیچارہ کسان کسی طرح پیسے جمع کرکے بچھیاخریدتا ہے اور اسے اپنی اولادوں کی طرح پال پوس کراپنے کنبے کی کفالت کی حالت کو پہنچاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں گائے صبح و شام دودھ دیتی ہے۔ کسان کا کنبہ کچھ دودھ وصول کرتا ہے اور باقی فروخت کر کے اپنی روزمردہ کی ضروریات کا انتظام کرتا ہے۔ چونکہ گائے ایک جانور ہے اور جانور کی پروڈکٹیوٹی بھی دیگر جانداروں کی مانند محدود ہوتی ہے، اسلئے وہ وقت بھی آن پہنچتا ہے جب گائے دوھ دینا بند کر دیتی ہے۔ یقین مانیں کہ خاندانوں پر، خاص طور پر غریب خاندانوں پر، اس کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ جس طرح ندی کے کنارے بسنے والے لوگوں کو ندی کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے، اسی طرح جس شخص نے کبھی گائے پالی ہوگی، اسے اس بات کا خوب اندازہ ہوگا۔ اور پھر وہ دن آتا ہے جب کسان چار و ناچار گائے کو، اپنے پشو دھن کو، اپنی گاڑھی کمائی کو، اپنی زیر تربیت اس گئیا کو خود سے جدا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
گائے سے متعلق بی جے پی کے’فرمانِ تغلقی‘ سے پہلے یہ گائیں دیگر ضرورت مندوں یعنی قصائیوں، گائے کے گوشت کا کاروبار کرنے والوں کو فروخت کی جاتی تھیں۔۔۔۔۔ اب کسان اپنی گائے کو بس سڑک پر چھوڑ آتا ہے۔ کیا ایسا نہیں لگتا کہ دورِ حاضر میں، مذہب اور دھرم بھی ’برسراقتدار‘ لوگوں کے ہی چونچلے ہو چلے ہیں؟  ان کا ’دعویٰ‘ ہے کہ گائے کے تقدس کی حفاظت، اس کی مادرانہ عظمت کا تحفظ انہی کے ذمہ ہے، انہی کی طے کردہ چیز دھرم ہے، باقی سب ادھرم۔ دراصل مذہبی عقیدت اور دیوی دیوتا کا تصور ان غریبوں پر زبردستی تھوپا جارہاہے جن کی یہ ضرورت بھی نہیں ہے، اور اگر ہے بھی تو بس اتنی کہ وہ اپنی تمام تر محرومیوں کو آسمان کی طرف دیکھ کر اس کا گلہ کر لیں۔
بی جے پی حکومت کے گائے اور بیل کے ذبیحے پر پابندی عائد کرنے سے انہیں ہندوؤں میں سیاسی مائلیج  ملا۔ اس حکم سے کٹر ہندوؤں کو اپنے ’ماتحتین‘ کو سبق سکھانے کا موقع بھی ملا اور انعام و اکرام کے طور پر ان کے فرضی گئو شالاؤں کو سرکاری بجٹ بھی، لیکن اس سے ایک بڑا نقصان ہوا: بھارت کے دیہی علاقوں کا دیہاتی تانا بانا بکھر گیا، شبہ کی کیفیت پیدا ہو گئی، مسلمانوں کو ہندوؤں پر اور ہندوؤں کو مسلمانوں پر یقین کر پانے میں دشواری ہونے لگی۔ پہلے یہ ہوا کرتا تھا کہ جب گائے بے مصرف ہو جاتی تھی تو اسے فروخت کر دیا جاتا تھا لیکن اب معاملہ یہ ہیکہ ایک مرتبہ اگر گائے خرید لی گئی تو آخر وقت تک اس کو اپنے پاس ہی رکھو، خواہ بے مصرف ہی کیوں نہ ہوجائے۔ کھیت کھلیان سے ریٹائر ہوکر سلاٹر ہائوس کا رخ کرنے والے بیلوں کے خریدار بھی اب نہیں ملتے، کیونکہ چھوٹے سلاٹر ہاؤس میں ذبیحہ کا عمل بند ہے اورمودی ویوگی حکومت کے قیام کے بعد مبینہ گئو رکشکوں نے خوف وہراس کا ماحول برپاکردیا ہے۔ ایسی صورت میں ظاہر ہے کسی جانور کے بدلے اپنی جان گنوانا کہاں کی عقلمندی ہے۔
ہندوستان میں شاہراہوں اور شارع عام پر لاوارث و سرپھرے مویشیوں کا مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے، لیکن گزشتہ 6 ماہ میں یہ مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرگیاہے۔ پانچ سال قبل 2012میں ہوئی 19ویں جانور شماری رپورٹ میں بتایا گیاتھاکہ ملک میں گائے اور بیلوں کی تعداد 58.87 لاکھ ہے، جبکہ امسال 20ویں جانور شماری رپورٹ کے مطابق گائے اور بیلوں کی تعداد 190.90 ملین تک جاپہنچی ہے۔ واضح رہے کہ یہ سرکاری اعدادوشمار ہیں اور ان اعدادوشمار کے مطابق، ان پانچ برسوں میں اس میں96.25 فیصدکا اضافہ ہوا ہے۔ اب ذرا سوچئے آئندہ پانچ برسوں بعد یعنی 2022 میں جب 21 ویں جانور شماری ہوگی تو کیا حشر ہوگا اور اعدادوشمار کا یہ گراف کہاں جاپہنچے گا۔ صرف گائے بیل ہی نہیں، یقینی طور پر بھینسوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا، کیونکہ چھوٹے سلاٹر ہاؤس پر پابندیوں کے سبب قصائیوں نے اپنا ذریعہ معاش تبدیل کرنا شروع کردیا ہے۔ بہرحال تشویش کی بات یہ ہے کہ بے مصرف گائے بیل کے اضافے کا یہ سلسلہ روز افزوں دراز ہوتا جارہا ہے، اور اس کا ثبوت ملک کے طول وعرض میں لاوارث جانوروں کے سبب روز مرہ کے سڑک حادثات ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ شاہراہ پر تیز رفتار سے جاتی گاڑی کو یکا یک ’آوارہ‘ گائے کے سامنے آجانے پر پاور بریک لگ جاتا ہے اور اس بریک لگانے کی وجہ سے ایک کے پیچھے ایک کئی گاڑیاں آپس میں متصادم ہوجاتی ہیں، جس کی وجہ سے گھنٹوں ٹریفک جام رہتا ہے۔ نوبت بایں جا رسید کہ اب تو کسان بھی ان لاوارث اور بے مصرف جانوروں کو اپنا دشمن تصور کرنے لگے ہیں، کیوں کہ انہیں اپنے کھیتوں کی رکھوالی میں کافی وقت ضائع کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرا سی غفلت برتنے پر یہ گائے, بیل جھنڈ کی شکل میں کھیتوں میں داخل ہوجاتے ہیں اور آن کے آن تیار فصل تباہ کردیتے ہیں۔ کسان اگر ان جانوروں پر اپنا غصہ اتارتے ہیں تو نام نہاد گئورکشک ان کو دھمکی دیتے ہیں اور پولس میں ایف آئی آر درج کرنے کی بات کرنے لگتے ہیں۔ دیہی علاقوں سے نکل کر شہروں کی بات کریں تو ہر گلی کوچے میں گائے کی ٹولیاں ’مٹرگشتی‘ کرتی نظر آئیں گی۔’گئو بھکتوں‘ کی جانب سے جب ان لاوارث گائے بیلوں کو کوئی غذا نہیں ملتی تو یہ کچرے کے انبار میں اپنی غذا تلاش کرتی ہیں، کچھ نہیں ملتا تو کچرے میں پڑی پلاسٹک تھیلیاں ہی کھاجاتی ہیں۔ اپنے اکثریتی گئو بھکت ملک کی ہی مصدقہ خبر ہے کہ ایک لاواراث گائے کے پیٹ سے 40 سے 45 کلو پلاسٹک کی تھیلیاں نکلیں۔ ذرا غور کریں کہ شہروں کی سڑکوں پر آوارہ گھومنے والے جانور آخر کیا کھاتے ہیں؟
ٹائمز آف انڈیا کی تازہ رپورٹ کے مطابق جے پور کے مضافاتی علاقہ میں ہنگونیا گئوشالہ 14 ہزار گائیوں سے جوجھ رہا ہے۔ یہ تعداد گئوشالہ کی گنجائش سے دوگنی ہے۔ اس کے علاوہ میونسپل عملہ تقریباً ہر روز مزید گائے گئوشالہ میں داخل کرجاتاہے۔ مذکورہ گئوشالہ کے انچارج رادھا پریہ داس کہتے ہیں کہ گزشتہ سال محض ایک سال کے دوران اس گئوشالہ میں 8 ہزار گائے مرگئیں۔ اس رپورٹ کے مطابق راجستھان میں گرچہ 2319 گئوشالائیں موجود ہیں، جہاں 6.71 لاکھ سے زائد گائے موجود ہیں، جو دن کے اوقات میں سڑکوں پر نظر آتی ہیں اور اکثرو بیشتر سڑک حادثات کا سبب بنتی ہیں۔ راجستھان سے ہی گئو سیوا یونین کے صدر ڈاکٹر ڈی ایس بھنڈاری کہتے ہیں کہ ’’راجستھان کے مختلف اضلاع میں ہمارے زیرانتظام کُل 10 گئو شالائیں ہیں، مجھے آج تک کوئی ایسا گئو بھکت نہیں ملا جو کچھ دن گئو شالہ میں گئو سیوا کرنا چاہتا ہو، جو لوگ اپنی غیرانسانی حرکتوں سے خود کو گئو رشک باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں، وہ دراصل عوام کے جذبات بھڑکا رہے ہیں اور اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر بھنڈاری کی فکر کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جتنے ’گئو رکشک‘ آج سڑکوں پر دندناتے پھر رہے ہیں وہ اگر ایک ایک گائے اپنے گھروں میں ہی پال لیں تو ملک میں گئو شالہ بنانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
ترقی، خوشحالی اور اچھے دن کی بات کرنے والی یہ بی جے پی سرکار آخر اس جانب کیوں نہیں سوچتی؟ کسانوں کے قرض معافی اور ان کو سہولت فراہمی کی بات تو کرتی ہے لیکن اُسی روایتی انداز میں جو سابقہ حکومت کانگریس کرتی آئی ہے۔ ہمارے ایک دوست اکثر کہتے ہیں ’’یہ کانگریس بھی نا، بڑی سیانی ہے, بتاؤ! یو پی اے تھری کا پردھان منتری مودی کو بنا دیا۔‘‘ اس بات میں صداقت یوں نظر آتی ہے کہ موجودہ بی جے پی حکومت نے اب تک جو بھی کام کیا، وہ کانگریس ہی کا شروع کردہ کام تھا۔ اُسے یا تو انہوں نے آگے بڑھایا۔۔۔۔۔ یا پھر اس کا ’نام کرن‘ کر دیا۔ آدھار، جی ایس ٹی، جن دھن یوجنا (نام تبدیل) وغیرہ سب کانگریسی کام ہی تو ہیں۔ لیکن ہاں۔۔۔۔۔ بی جے پی نے دو کام بالکل نئے کئے اس ملک میں۔ ایک گائے کے ذبیحے پر پابندی اور دوسرا ڈی منیٹائزیشن۔ پہلے کا حال تو آپ اوپر دیکھ ہی رہے ہیں۔۔۔  مودی صاحب کے پرسنل ایڈوینچر ڈی منیٹائزیشن کے سبب آج معیشت کا یہ حال ہو گیا ہے کہ سنیئر بی جے پی لیڈر یشونت سنہا بھی جاگے اور بول پڑے کہ ’اب تو مجھے بولنا ہی پڑے گا۔‘