مغربی اتر پردیش میں ایک ساتھ گیارہ درجن چھوٹے بڑے پولیس ملازمین معطل کئے گئے

سہارنپور ( خاص خبر احمد رضا) مغربی اتر پردیش میں بڑھتے جرائم سے پریشان اعلیٰ افسران نے ایک رائے ہوکر لاپرواہ پولیس ملازمین کیخلاف سخت ایکشن لئے جانیکا موڈ بنا لیاہے اسی اقدام پر عمل کرتے ہوئے گزشتہ دنوں کوتوالی مراد نگر میں تعینات سبھی ۱۳۲ ملازمین پر مشتمل پولیس عملہ کو ہمارے چیف سیکریڑری راجیو کمار نے معطل کر دیاہے اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی ہیں کہ اب اگلے چھ ماہ تک اس عملہ کا کوئی بھی ملازم کسی بھی تھانہ یا چوکی میں تعیناتی نہی لیپائیگا؟ محنتی اور ایماندار پولیس افسران سیاسی دخل کے رہتے کرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دینے میں مجبور لگ رہے ہیں پولیس کے چند افسران، سیاسی لیڈران اور دبنگوں کی ملی بھگت قابل مذمت ہے اور یہ عمل پولیس کو پریشانی میں ڈالنے والاہے ہمارے زون کے تیز ترار آئی جی لاء اینڈ آڈر،ڈی آئی جی اور قابل ایس ایس پی ببلو کمار تنہا بدمعاشوں اور چند مفادپرست پولیس ملازمین کے اس بڑے نیٹورک کو ختم کرپانیکی پوزیشن میں نہی ہیں کیونکہ پچھلی سرکاروں کی طرح ہی اس سرکار میں بھی کچھ وزراء کے معاونکچھ بدمعاشوں اور زمین مافیاؤں کے نیٹ ورک کی پشت پناہی کرتے نظر آرہے ہیں قابل آئی جی لاء اینڈ آڈر ، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی ببلوکمار اس سچائی سے خوب واقف ہیں اسی لئے چاہ کربھی میرٹھ، سہارنپور اور مراد آباد کمشنری کی پولیس سخت جدوجہد کے بعد بھی غیر سماجی عناصر کا صفایا کر پانے میں ابھی تک ناکام بنی ہے! مراد نگر میں تعینات سبھی ۱۳۲ ملازمین پر مشتمل پولیس عملہ کو ہمارے چیف سیکریڑری راجیو کمار نے صرف اسی بنیاد پر گھروں میں بیٹھنیکو مجبور کر دیاہے، ریاست کے سینئر افسر راجیو کمار نیکہاکہ جب کوتوالی کا اتنا بڑا عملہ زانیوں، ڈکیتوں اور مافیاؤں کو گرفتار نہی کرپارہاہے تو ایسے پولیس عملہ کو کام پر بنے رہنیکا کوئی حق ہی نہی کسی بھی ملازم میں فرض کو سہی طور پر انجام دینے کی صلاحیت ہی نہی رہگئی ہے اسلئے سبھی کو معطل کیا جانا بیحد ضروری ہوگیاہے! اخبارنویسوں سے کرائم کے معاملہ پر گفتگو کرتے ہوئے سابق ریاستی وزیر کابینہ صاحب سنگھ سینی نے کہا ہے کہ اکھلیش سرکار کو بدنام کرنیوالی بھاجپا سرکار جان بوجھ کر جرائم کو چھپارہی ہے سینی نے بیخوف بتایاکہ آج کمشنری میں جرائم اور جرائم پیشہ افراد کی باڑھ سی آگئی ہے جسکا نتیجہ ۱۳۲ پولیس ملازمین کی معطلی سے ہم سبھی کے سامنے ہے سینئر افسران خد مان رہیہیں کہ پولیس جرائم روکنے میں لاپرواہ بنی ہے، سینی نے کہاکہ یوپی سرکار جرائم کو قابو کرنے میں ناکام بنی ہوئی ہے ایمانداری سے پولیس افسران کو کام ہی نہی کرنے دیاجارہاہے پولیس کو سختی کرنے اور محکمہ میں موجود سیاسی پشت والے بد عنوان اسٹاف کوبھی نہی ہٹایاجارہاہے جس وجہ سے صوبہ کا اعلیٰ پولیس نیٹ ورک ذہنی طور پر بھاری دباؤ میں ہے سرکار تو بدلی ہے مگر افسران کو سہی کام سے روکا جارہاہے اسی لئے کرائم کا گراف لگاتار بڑھتاجارہاہے ! سابق وزیر کابینہ صاحب سنگھ سینی نے کہاہیکہ گزشتہ چھ ماہ سے ویسٹ یوپی میں خواتین سے چھیڑ چھاڑ، زناکاری، قاتلانہ حملوں، فرقہ وارانہ جھڑپوں اور لوٹ پاٹ کی سنسنی خیز وارداتیں عام بات ہوچکی ہیں ہماری پولیس سب کچھ دیکھ تے ہوئے بھی سیاسی دخل کے نتیجہ میں اصل مجرموں کو گرفتار کرنے میں ناکام بنی ہوئی ہے پولیس بدمعاشوں، قاتلوں اور ڈکیتوں کو قابو کرنے میں چاہ کر بھی سختی نہی کر پارہی ہے کیونکہ ہر شاطر بدمعاش کا سیاسی آقاؤں سے تعلق بناہوا ہے جس وجہ سے اصل ملزمان کو پولیس گرفتار کرنیمیں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے چیف منسٹر کی مداخلت کے بعدپولیس کی محنت سے کمشنری کے آٹھ نامی بدمعاشوں کو مٹھ بھیڑ میں ماراگیاہے اور سات کو بہ مشکل گرفتار بھی کیا گیاہے جو اچھی شروعات ہے عام چرچہ یہ بھی ہیکہ کہ چند بااثر بھاجپائی کارکنان کے ذریعہ پولیس کے کام کرنے کے عمل کو غلط دشا دیجارہی ہے چند بھاجپائی اپنی مرضی پولیس پر لادنا چاہتے ہیں جو ایماندار افسران کے بس سے باہر ہے ! بھاجپا سرکار کے وجود میں آجانیکے بعد سے تو ویسٹ یوپی میں جرائم کی باڑھ سے آگئی ہے جرائم پیشہ افراد سیاسی اثرو رثوخ کی بنیاد پر جرائم کرلینیکے بعد بھی بے فکر رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اب انکی سرکار ہے اسلئے خوف کس بات کا مغربی ضلع نوئیڈا، غازی آباد ،سہارنپور ، میرٹھ ، شاملی اور مظفر نگر کے درجن بھر علاقوں میں تین ہفتوں کے دوران قریب قریب درجن بھر سے زائد قاتلانہ حملوں، قتل، فرقہ وارانہ جھڑپوں، اغوا ، زناکاری اور لوٹ پاٹ کی سنسنی خیز وارداتیں انجام دیگئی ہیں مگر چاہتے ہوئے بھی ابھی تک پولیس ان واردات میں شامل اصل لٹیروں کو ابھی تک گرفتارہی نہ کرسکی ہے بڑھتی ہوئیمجرمانہ واردات نے خوف میں مزید اضافہ کر دیاہے اس طرح کے سخت حالات دیکھنے کے باوجود بھی سیاسی عہدے داران اپنی مفادپرستی کے باعث تماشائی بنے ہیں!