کاروان امن و انصاف گروپ میں ساتھیوں سے گفتگوکرتے ہوئے:  خیر یہ شب جمعہ ہے:  *اعلاء‌حق_کے_لیےکوشش_ کرنا،* تحریر, سمیع اللہ خان 

 آمنا سامنا میڈیا۔اسلامیات

اہم ترین عبادت اور مقصد زندگی ہے، اس کے دو بنیادی ستون ہیں، ان میں سے کسی ایک ہی پر نہ تکیہ کیا جاسکتا ہے نا ہی کسی ایک کو فراموش کیا جاسکتا، دونوں لازم ملزوم ہیں، دجالی فتنوں کے اس دور میں شب جمعہ کو 

  اخیر شب کی دعاؤں اور سورۂ کہف کا خصوصی اہتمام ہونا چاہئے،  کہ وہی پاور ہاؤز ہے، اس کے بغیر سب کچھ ہیچ ہے، قرآن میں سچے پکے مؤمنوں کے بارے میں ہے، 

” وبالاسحارھم یستغفرون “

 یعنی دن کو وہ اسلام کے لیے  محنت کرتے تھے اور رات میں اپنے پروردگار کے آگے گڑگڑاتے تھے، 

 اسلام کے ہر شعبے کی ہمیں محنت کرنا ہے، صرف چند رسموں کی عبادت اسلام نہیں، بلکہ، پیاسے کو پانی پلانا، بھوکے کو کھلانا، ننگے کو پہنانا،  مظلوم کی مدد کرنا، بیواؤں کی خبر گیری، اسلامی معاشی اور سماجی نظام کے لیے کوششیں اور ہمیشہ ظلم کے خلاف انصاف کے لیے کوششیں کرنا، یہ سب عظیم ترین عبادات میں سے ہیں،

 آج ان کاموں کو انجام دینے کی محنت کرنے اور اسلام کی آفاقیت کو پیش کرنے والوں کے لیے ، انہی دو چیزوں کی اشد ضرورت ہے، 

 دن میں خوب محنت، زمینی سطح پر کوششیں، دنیاوی ملامتوں اور طعنوں سے بے پرواہ ہو کر، گراؤنڈ ورک کرتے رہیں، اور رات میں اللّٰہ سے مانگیں ، جس کو اولیاء اللّٰہ اور مشائخ کی اصطلاح میں اللّٰہ سے راز و نیاز کرنا بھی کہتے ہیں،  سنا ہیکہ جس بندے کو الله سے یہ تعلق اور اسلامی جدوجہد کے ساتھ حاصل ہوجاتا ہے وہ قلندر کہلاتا ہے پھر وہ دنیاوی اور مادّدی آلام و سماجی دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتا، اسطرح حق کے لیے کوشش کرنے والا طعن و تشنیع سے دلبرداشتہ نہیں ہوتا، اسے اللّٰہ اس کی کوششوں پر قلبی اطمینان کی دولت عطا فرماتے ہیں، وہ ہمیشہ اپنی کوششوں میں پرسکون رہتا ہے، رات کو اللّٰہ کے آگے قرآن کی تلاوت اسے روحانی غذا دیتی ہے، ائے کاش اس عظیم نعمت کا ذائقہ مجھے اور سارے ساتھیوں کو بھی مل جائے۔ 

جب یہ دو چیز کسی میں جمع ہوجائیں تو اللّٰہ اس کی کوششوں میں برکت دیتے ہیں، اس کی غیب سے مدد فرماتے ہیں، مکروفریب سے اسے بچاتے ہیں، اور اس کی فکروں کے لیے میدان فراہم کرتے ہیں، نصرتِ الٰہی کی جلوہ گری ہوتی ہے، 

 ہر تحریک اور مہم کی کامیابی کے لیے یہ دو بنیادی ستون ہیں ان کے بغیر کوئي بھی تحریک اور مہم کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتی، اور آقاﷺ، صحابہء کرام ؓ سے لیکر اب تک ہمارے اکابر واسلاف کا یہی معمول رہا ہے، لہٰذا اسلام اور انصاف کی کوشش کرنے والوں کو محنت اور اللّٰہ سے محبت کو لازم پکڑنا چاہئے، اللّٰہ اس دنیا میں ہمیں نا سہی ہماری نسلوں کو اسی دنیا میں اس کے پھل دے گا، اور آخرت میں ہمیں ہماری کوششوں کے نتائج ضرور دکھائے گا یہ اللّٰہ کا وعدہ ہے، ۔

 اخوڪم فی اللّٰہ : 

 ؞ سمیع اللّٰہ خان ؞

 جنرل سکریٹری: کاروانِ امن و انصاف