پولیس اور ٹریفک کنٹرول سسٹم سڑ ک حادثات روکنے میں مکمل ناکام !

سہارنپور (احمد رضا) ضلع انتظامیہ کے لاکھ دعوؤں کے باوجود ضلع بھر میں لگاتار بڑھتی آبادی کے باوجود بھی سڑوں اور چوراہوں پر تیز رفتار ٹریفک کے علاوہ ناجائز قبضوں کی یہاں بھرمار ہے ریاستی سرکار لاکھ تال ٹھوکے مگر سچائی یہی ہے کہ یہاں آج بھی سوسال پرانا ہی ٹریفک سسٹم موجود ہے اس سچائی کے علاوہ مقامی پولیس اسٹاف اور ٹریفک سسٹم کی بدنظمی بھی یہاں دیکھنے لائق ہے ریاستی سرکار کی ہدایت پر جگہ جگہ پولیس بائیکوں اور باسکوٹروں کو روک کر بیٹھی نظر آتی ہے بائیک اسکوٹرس کے چالان سے ریاستی سرکار صرف دو کمشنریوں سے ہی پچاس کروڑ کا جرمانہ وصول کرچکی ہے بھلا جب پیسہ ملیگا بائیک اور اسکوٹر کے چالان سے دو با اثر کار سوارٹرک مالکان اور ان بھیڑ بھاڑ والی گھنی آبادی میں تیزرفتار سے دوڑ تی منی موٹر س گاڑیوں اور بسوں کو بھلا روکنے کی ضرورت ہی کیاہے کیونکہ اکثر حادثات میں بائیک سوار، سائیکل سوار اور اسکوٹر سوار ہی تو مرتے ہیں کار، بس یا ٹرک والا تو کبھی ہوا تو حادثہ کا شکار بن گیا ورنا پیدل اور چھوٹی وہیکل ہی ہمیشہ بڑی گاڑیوں کا شکار بنتی آرہی ہیں جس کے نتیجہ میں عوام کا زبردست جانی اور مالی نقصان ہونا اب عام ہو کر رہگیا ہیاس ناکارہ سسٹم کو یہاں کوئی دیکھنے اور سدھار نیوالا شاید نہی ہے تبھی تو سبھی کچھ رب کے بھروسہ چل رہاہے ؟اہم واقعہ تویہ ہے کہ اتنا سب کچھ گزر جانے کے بعد پھر بھی انتظامیہ اور ٹریفک پولس اس بیہودہ ٹریفک سسٹم کو سدھار پانے میں ناکام ہے ہم بار بار کہتے آئے ہیں کہ ہمارے سیاسی رہنما اور افسران ان روز مرہ ہونے والے سڑک حادثات سے خود کو محتاط کئے ہوئے ہیں عام آدمی کی زندگی ان کے لئے کوئی معنیٰ نہیں رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ حادثات ہوتے رہتے ہیں مرنے والوں کا پوسٹ مارٹم کر دیا جاتا ہے پولس جانچ کے نام پر لکھا پڑھی کرتی ہے اور معاملہ کاغذوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے ایک اندازہ کے مطابق محض دو ہفتوں کی مدت میں ہماری اس کمشنری ہی میں دو در جن سڑک حادثات روشنی میں آچکے ہیں اطلاعات کے مطابق ان حادثات میں تیز رفتار بسوں اور ٹرکوں کے تصادم سے ہلکی کار، بائیک ، پیدل، سائیکل اور اسکوٹر سوار ہی ہمیشہ بس یا ٹرک پلٹ جانیسے حادثہ کا شکار بنے ہیں، سبھی حادثات میں درجن بھرا فراد موقع پر کچل کر دم ہی توڑ گئے یا پھر اسپتال جاکر مرگئے حادثات میں چالیس سے زائد افراد بری طرح سے مجروح ہو ئے مہلوکین میں چھ کم عمر بچے اور چارخواتین بھی شامل ہیں یہ بھی اہم ہے کہ حادثہ کے شکار زیادہ زخمی افراد اپنے خرچ پرہی میڈیکل سینٹروں میں اپنا علاج کرانے کو مجبور ہیں انتظامیہ اور سیاسی نمائندے ان متاثرین کا حال تک پوچھنا گوارہ نہی کرتے ہیں اس طرح کے حالات اور سڑک حادثات ہمارے شہر کے مین روڈ کے علاوہ شہر کے چاروں جانب اہم چوراہوں، راستوں اور دیہاتی علاقوں میں ٹریفک کی بد نظمی، تیز رفتاری اور اوور لوڈنگ کے سبب عام ہے افسران چاہ کر بھی اس جان لیوا ٹریفک کی بد نظمی کو درست کر پانیمیں حد درجہ ناکام ہیں اس طرح کے حادثات یہاں عام ہیں گزشتہ بیس سالوں سے پولس کی سرپرستی میں اس ضلع میں ٹریفک کا یہی دستور جاری ہے ویسے بھی ٹریفک کے نام پر ہماری کمشنری میں بد نظمی عام ہے بھاری بھرکم لوڈ والے اور تیز اسپیڈ والے ٹریفک کی آمد شہر کے اندرونی علاقوں میں عام ہے بے ڈھنگے اسپیڈ پریکر اور سڑکونپر ناجائز قبضہ اور اسکے بعد مقامی پولس کی رشوت خوری عام بات ہے جس وجہ سے کمشنری سطح پر ٹریفک کی بد نظمی اور ان جانلیوا حادثات کو کنٹرول کر پانا شاید ممکن اب ممکن ہی نہیں ! سڑکوں پر دکان داروں ، ٹرکوں ، بسوں اور ٹیمپو والوں کے علاوہ ریڑی لگانے والوں کے ناجائز قبضوں کے باعث عام آدمی کا میں راستوں سے گزر مشکل ہے خصوصی طور پر شہر کے انبالہ روڑ، دہلی روڑ، دہرادون روڑبیہٹ روڑ اور چکروتا روڑ پر عام آدمی کا پیدل گزر اب کسی بھی صورت ممکن نہی رہ گیا ہے۔ پولس فورس ٹریفک کے نام پر اور ٹریفک کے سدھار کے نام پر ٹریفک کے بہتر انتظامات کے نام پر ہمیشہ شہر کی اہم چوراہوں پر تعینات نظر آتی ہے مگر اس فورس کا کام صرف آنے والے ٹریفک کو کنٹرول کرنا نہیں بلکہ ٹریفک سے جبراً وصولی کرنا ہے ٹرکوں ، بسوں ،ٹیمپؤں ، ٹرالیوں اور ریڑی والوں سے اپنی رشوت کی رقم وصول کرنا انکا اپنا پہلا فرض ہے !ہمارے مقامی افسران ہر حادثہ کے بعد پریس کے سامنے بار بار عوام کو اور عوام کے چنے ہوئے نمائندوں کو یہ باور کرا چکے ہیں کہ ٹریفک کے انتظام کے لئے جو فورس ہم نے شہر کے مختلف اور خاص چوراہوں پر تعینات کر رکھی ہے وہ محنت کش اور ایماندار ہے مگر یہ عام طور سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ پچھلے پانچ ماہ میں سبھی کچھ بدل گیا مگر افسران کا رویہ نہی بدل پایا آپکو بتادیں کہ مین روڈ پر اور مین چوراہوں پر ٹریفک کو کنٹرول کم اور آنے جانے والے ہیوی لوڈیڈ ٹریفک سے وصولی زیادہ کی جاتی ہے نتیجہ کے طورپر ہر روز درجن بھر حادثات سڑکوں پر رونما ہوتے رہتے ہیں جن میں جانی اور مالی نقصان ہونا عام بات ہے!