بن لادن کے بیٹے کی الجولانی اور المحیسنی کے درمیان ثالثی کی کہانی

ریاض16ستمبر:القاعدہ تنظیم کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کی ایک نئی صوتی ریکارڈنگ سامنے آئی ہے۔ اس ٹیپ میں حمزہ نے شام میں جنگجو گروپوں کے درمیان مصالحت پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ ان گروپوں میں “ہیء? تحر?ر الشام” اور “ج?ش الاحرار” جیسی تنظیمیں شامل ہیں۔حمزہ بن لادن کی گفتگو میں اْس مداخلت کا بھی ذکر آیا ہے جو اْس نے “ابو محمد الجولانی” کے ہیء? تحریر الشام کے منحرف شرعی قاضیوں “عبد الل? المح?سنی” اور “مصلح العل?انی” کے ساتھ اختلاف کو حل کرانے کے واسطے کی تھی۔عبداللہ المحیسنی اور مصلح العلیانی نے کچھ عرصہ قبل جاری بیان میں “ہیء? تحر?ر الشام” سے اپنی علاحدگی کا اعلان کیا تھا۔ دونوں افراد نے اپنے اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے باور کرایا کہ وہ جس مقصد کے لیے تنظیم میں شامل ہوئے تھے انہیں پورا کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔کچھ عرصہ قبل “تحر?ر الشام” کے عسکری کمانڈر ابو محمد الجولانی اور اِدلب میں تنظیم کے کمانڈر ابو الول?د عرف ابو حمزہ بنش کے درمیان گفتگو کی آڈیو ٹیپ بھی اِفشا ہو چکی ہے جس میں دونوں شرعی قاضیوں کے کام کو محض “پیوندکاری” قرار دیا گیا۔گفتگو میں ابو الولید نے الجولانی سے اجازت طلب کی تھی کہ شرعی قاضی عبداللہ المحیسنی کو گرفتار کرنے دیا جائے کیوں کہ وہ “النصرہ محاذ” کے عناصر کو “احرار الشام” تحریک کے خلاف نہ لڑنے پر اکسا رہا ہے۔ تاہم الجولانی نے معاملے کے مزید پیچیدہ ہونے کے اندیشے کے سبب گرفتاری کی منظوری نہیں دی۔ادھر ایک دوسری آڈیو ریکارڈنگ میں ابو حمزہ بنش اور ہیۂ تحریر الشام میں مرکزی فوج کے کمانڈر کے طور پر کام کرنے والے ابو حسین الاردنی کے درمیان بات چیت سامنے آئی۔ گفتگو سے انکشاف ہوا کہ دونوں میدانی کمانڈر الجولانی کی موافقت سے “احرار الشام” پر حملہ کرنے کے لیے متفق ہو گئے ہیں۔واضح رہے کہ المحیسنی اور العلیانی کے بیان کے مطابق یہ دونوں شام کے میدانوں میں ہر مجاہد کے ساتھ رابطے میں رہیں گے خواہ اس کا تعلق کسی بھی گروپ سے ہو۔جیش الاحرار تنظیم “احفادِ علی” بریگیڈز ، “الحسین بریگیڈز” ، “اجناد الشام” بریگیڈز پر مشتمل ہے۔ اس کی قیادت “احرار الشام” کے سابق کمانڈر “ابو صالح طحان” کے ہاتھ میں ہے۔ واضح رہے کہ “جیش الاحرار” تنظیم جبہ? فتح الشام اور نور الدین زنگی تحریک کے بعد ہیء? تحریر الشام میں تیسرا بڑا بلاک شمار ہوتی ہے۔گزشتہ عرصے میں “جبہی فتح الشام” اور “جیش الاحرار” کے درمیان بڑے پیمانے پر کشیدگی دیکھنے میں آئی اور نوبت فریقین کے درمیان جھڑپوں تک جا پہنچی۔یاد رہے کہ نور الدین زنگی تحریک چند ماہ قبل ہیء? تحریر الشام سے علاحدہ ہونے والا پہلا مجموعہ تھا۔ اس علاحدگی کا پس منظر ہیء? تحریر الشام اور احرار الشام تحریک کے بیچ ہونے والی جھڑپیں بنیں۔دوسری جانب حمزہ بن لادن نے اپنے پیغام میں شام میں بقیہ مسلح گروپوں کو تاکید کی کہ وہ شام کی سرزمین پر جہاد کے مرکزی مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں۔ حمزہ نے ان گروپوں کو خبردار کیا کہ وہ کسی طور بھی روس اور امریکا کے ساتھ کوئی سمجھوتہ قبول نہ کریں۔حمزہ بن لادن کی آخری آڈیو ٹیپ میں سامنے آنے والی کال القاعدہ تنظیم کی تشکیلِ نو کی کوشش معلوم ہو رہی ہے جس میں اس نے بقیہ گروپوں کو ایک قیادت اور ایک نظریے کے تحت رہنے پر زور دیا ہے۔حمزہ نے مذکورہ گروپوں کو مخاطب کر کے کہا کہ ” آپ لوگوں کا معرکہ خطروں سے بھرپور ہے اور نہایت اثر انگیز ہے۔ آپ لوگوں کا دشمن انتہائی مکار ہے ، وہ آپ لوگوں کے درمیان اختلافات کو جنم دے کر آپ کی ہوا اکھاڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آپ لوگ خبردار رہیں اور مل کر اللہ کی رسی کو تھامے رہیے”۔حمزہ کا مزید کہنا تھا کہ “عالمی نطام آپ کے خلاف برسرِ جنگ ہے کیوں کہ آپ ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ ان کی اطاعت نہ کریں یہ لوگ مکر و فریب کے ماہر ہیں۔ آپ لوگوں پر لازم ہے کہ کفار اور ان کے حلیفوں کی مخالفت کریں۔ اللہ رب العزت آپ لوگوں کی حفاظت فرمائے اور آپ لوگوں کی صفوں کو ہر قسم کے اختلاف اور تنازع سے پاک رکھے۔ یاد رکھیے کہ ہمیں روس اور امریکا کی عداوت پر فخر محسوس ہونا چاہیے۔