پیٹرول کی قیمت 80روپیے فی لیٹر ،مودی کی تقریر’نصیب والے‘‘کی یادآگئی بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہوگئیں،عوام کوکم قیمتوں کاکوئی فائدہ نہیں

نئی دہلی13ستمبر:۲۰۱۴کے بعدپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں سب سے زیادہ سطح تک پہنچ گئی ہیں۔بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تین سال قبل سے بہت کمی ہوئی ہے۔لیکن عام عوام کواس فائدہ نہیں مل رہاہے۔پٹرول کی بے تحاشہ بڑھتی قیمتوں کے ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی کا سال 2015میں دہلی اسمبلی انتخابات کے وقت دیا گیا ان کا ایک خطاب یادآ رہاہے۔اس وقت انہوں نے یکم فروری کو ایک ریلی میں اپنے انداز میں کہاکہ کیاڈیزل پٹرول کی قیمتیں کم ہوئی ہیں کہ نہیں۔کیا آپ کی جیب میں پیسہ بچنے لگا ہے نہیں ۔اب مخالف کہتے ہیں کہ مودی نصیب والاہے۔تواگرمودی کانصیب عوام کے کام آتاہے تواس سے اچھے نصیب کی کیا بات ہوسکتی ہے۔آپ کو نصیب والا چاہیے یا بدنصیب؟۔دراصل اس سے پہلے نریندر مودی نے سال 2014میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو بڑا مسئلہ بنایا تھا اور یو پی اے حکومت کو اس پر جم کرکوسا تھا۔اس کے بعد جب پی ایم مودی نے 26مئی کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا تو دہلی میں پیٹرول 71.41 روپے فی لیٹر ڈیزل 56.71 روپے فی لیٹر تھا۔اس کے بعد خام تیل کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ میں گر گئی، جس میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بھی کم ہوگئی۔جس دن پی ایم مودی نے یہ تقریر کی تھی اس وقت دہلی میں پٹرول کی قیمت 58.91 روپے اور ڈیزل 48.26 روپے فی لیٹر تھی۔مودی حکومت کی آمد کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں53فی صد کی کمی ہوئی ہے، لیکن پٹرول ڈیزل کی قیمت کم کرنے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ممبئی میں، پیٹرول کی قیمت بدھ کو 80 فی صد تک لیٹر تک پہنچ گئی۔اس کے پیچھے اصل وجہ یہ ہے کہ تین سالوں میں حکومت نے پٹرول، ڈیزل میں کئی گناپراضافی قیمت میں اضافہ کیاہے۔کسی اندازے کے مطابق، پیٹرول پر ڈیوٹی 10لیٹرروپے سے 22روپے تک بڑھ گئی ہے۔