ممبئی میں خبر پر نظر گروپ کی تشکیل ،سوشل میڈیا پر جھوٹی اور مشتعل کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنیو الوں کے خلاف پولیس میں شکایت کریگی ۔ہے زمانے میں غم اور بھی بہت اس کے سِوا

راشد عظیم ، چیف ایڈیٹر

۱۲ ستمبر ،ممبئی آمنا سامنا میڈیا : ممبئی کے ایک اردو روزنامہ اخبار کے ذریعے جے ہو فاونڈیشن نامی تنظیم کے دفتر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق خبر ملی کہ کرلا میں مختلف سماجی تنظیموں کی ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں طے پایا کے روہنگیامسلمانوں پر ہو رہے ظلم کے خلاف حکومتِ برما سے اپیل کی جائے کہ وہ حقوق انسانی کی پاسداری کریں اور ساتھ ہی پرامن شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اقوام متحدہ کے دفتر میں لاکھوں کی تعداد میں خطوط لکھیں اور اپیل کرے کہ وہ برما کے تعلق سے خاموشی توڑے۔ اور یہ بھی طے پایا گیا کہ خط یا ملاقات کرکے پویس کے سائبر سیل کے سربراہ سے اپیل کی جائے کہ وہ سوشل میڈیا کی ذریعے جھوٹی تصاویر اور ویڈیوز جاری اور شیئر کرنے والے شرپسند افراد کے خلاف کارروائی کرے ۔ یہ گروپ پہلے تو ایسے افراد کو تنبیہ کریگا نہ مانے توبصورتِ دیگر ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کی جائے گی بہت اہم قدم ہے ہم آپ کے جذبے کی قدر کرتے ہیں۔بلکل درست کسی کوامن وامان برباد کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔اوربرما کے مسلمان ہو یا دنیا کی کوئی بھی مظلوم قوم ان کے حق میں آواز بلند کرنا پر امن احتجاج کرناانسانیت کا تقاضہ بھی ہے اور خاص طور سے ہم مسلمانوں کا مذہبی فریضہ بھی اس سے کوئی بھی عاقل شخص انکار نہیں کرسکتا ۔پر ان حضرات کا یہ اعلان کے سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹی تصاویر اور ویڈیوز جاری اور شیئر کرنے والے شرپسند افراد کے خلاف خبر پر نظرگروپ کے ذریعے پہلے تو ایسے افراد کو تنبیہ کی جائے گی۔اگر باز نہ آئے تب بصورتِ دیگر ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کی جائے گی، بظاہر تو بہت اہم قدم ہے ہر امن پسند شہری یہ چاہے گا کہ موجودہ صورتحال جو نہایت خطرناک موڑ کی طرف ہیں اس طرح کی اشتعال انگیزی پر روک لگے ۔
ایک اور اہم بات اس میٹنگ میں سماجی کارکن کویتا شیوپوری صاحبہ نے بلخصوص مسلم نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مشتعل نہ ہوں امن وامان قائم رکھنے میں تعاون کرے ۔ ہم محترمہ کو بتاتے چلے مسلمانوں پر ہوئے پچھلے سارے ظلم وستم کی ہم بات نہ بھی کرے صرف ملک کے موجودہ حالات پر نظر ڈالے تو گائے کے نام پر جس طرح سے بھگوا پرتشّدد ہجوم کے ہاتھوں مسلم نوجوانوں کو مارا گیا پیٹا گیا ،قتل کیا گیا ، جے این یو کے اسٹوڈنٹ نجیب کا آج تک پتا نہیں ،جنید کو ٹرین میں مار دیا گیا ، کویتا جی یہ بتائیے مسلم نوجوان کتنا مشتعل ہوئے ؟ گزشتہ دو ہفتے سے برما میں روہنگیا کے مسلمانوں کا قتل عام نسل کشی ، خواتین کی عزتوں کو تا ر تار کیا جارہا ہے ، کیمپوں سے مسلم لڑکیوں کو اغوا کرکے ان کی اجتماعی عصمت دری کی خبریں آئی ۔معصوم بچوں کے جسموں پر چڑھ کران کو کچل کے مارنے کی خبروں کی اشاعت ملک کے بڑے معتبر اخبارات کے ذریعے آتی رہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ان سارے حقائق کے باوجود اور سوشل میڈیا پر دل دہلانے والے ویڈیوز اور تصاویر کے پبلش ہونے کے باوجود کویتا صاحبہ اور ہمارے خبر پر نظر رکھنے والے صاحبان کوئی ایک واقعہ بتا دیجئے کہ مسلمان مشتعل ہوا ہے ؟ ممبئی کیا سارے بھارت سے لیکرعالمی سطح پر مسلمانوں نے صبر و تحمل ، امن وشانتی اور رواداری کا ساری دنیا کے سامنے نمونہ پیش کیا ہے ۔مسلم نوجوان مشتعل نہ ہو یہ کہکر مسلمانوں کو کٹہرے میں نہ کھڑا کریں ۔
ایک اور اہم سوال ہر باشعور شخص کے ذہن میں اٹھ سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کو یہ حضرات کس طرح روکے گے؟ کس کس کی شکایت کرینگے ؟ ان کا دائرہ کار کتنا ہوگا ؟کہا ں تک ہوگا؟
جو سوشل میڈیا آج بھی ساری کوششوں کے بعد بھی سرکار کے قابو سے باہر ہے۔ کسی پولیس یا سائبر کرائم سربراہ کو ہماری اپیل کی قطعی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اپنی ذمہ داری بخوبی جانتے ہیں او رپولیس ہو یا سرکار کی دیگر ایجنسیاں وہ سائبر کرائم کو کنٹڑول کرنے کی کوشش میں ہیں اس کے باوجودآج تک کامیابی نہیں مل پارہی ہیں ۔ان حضرات سے ہمارا سوال ہیکہ آپ کے ذرائع کیاسرکار اوران ایجنسیوں کے سامنے کتنے ہیں ؟ یہ سمجھنے کی بات ہے ۔ آپ حضرات کو پتا ہونا چاہیے اور شاید ہوگا بھی کہ سوشل میڈیاسات سمندروں کی مانند ہے۔۔۔ آپ صرف ممبئی شہر میں نکلنے والے تقریباًدس ہزار ہفتہ واراور پندرہ روزہ اخبارات پر کنٹرول کرکے بتا دیجیے جن میں اکثریت ایسے اخبارات کی ہے جو ہر طرح کی خبروں کے ماہر ہیں ۔ آپ اچھی طرح جانتے ہونگے کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا آپ کے بس کی بات نہیںآپ کی پہنچ ایک حد تک محدود سے بھی محدودہے۔ان حالات میں ان صاحبان سے اہم سوال یہ ہیکہ آپ بتایئے جب آپ کا ایک مختصر حلقہ ہے آپ صرف ان ہی افراد کو روکنے کی کوشش کرسکتے ہیں جو آپ سے سوشل میڈیا پریا ذاتی طور سے جڑے ہوے ہیں کسی نہ کسی طریقے سے یا جن کو آپ جانتے ہیں۔ آپ چند گنے چنے افراد کے خلاف شکایت درج کراکر ان کو قانونی شکنجے میں ضرور پھنسا سکتے ہیں۔آپ حضرات کی نیت پر ہم شک نہیں کررہے ہاں آپ حضرات کے ذریعے شاطر افراد اپنی ذاتی دشمنی ضرورنکال سکتے ہیں

کیا آپ سوشل میڈیا پر ایک خاص شرپسند طبقے کے خلاف کارروائی یا شکایت کرسکتے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دل کھول کر زہر اگلتے ہیں آج کسی مسلمان میں یہ دم خم نہیں کے ہمارے بھگوا نیشنل چینل جو ملک میں فرقہ پرستی کا زہر گھول رہے آئے دن مسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی نیا شوشہ چھوڑ کر پوری قوم کے خلاف برادران وطن کے دلوں نفرت پیدا کرہے ہیں ۔ٹی وی مباحثوں میں بلا کر ہمارے علمائے کرام اور دانشوران کو بے عزت کیا جاتا ہے ۔یہ الگ بحث ہیکہ یہ مولوی حضرات ان مباحثوں میں حصّہ کیوں لیتے ہیں ۔ کسی مسلمان میں یہ ہمت ، طاقت اور جذبہ ہے جو ان بھگوا نیشنل چینل کی اشتعال انگیزی پرپابندی لگا سکے ؟ ملک کے دستوری حق کا استعمال کرتے ہوئے ان چینل کے خلاف مقدمہ دائر کرسکے ۔۔۔ہم صرف درپردہ ایسے اداروں کے اعلی کار بن جاتے ہیں جانے یا انجانے میں اور ان کے مفادات کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں ہم صرف اپنے ان بھائیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں جو قومی ہمدردی میں بہک کر جانے انجانے میں سچ یا جھوٹ کو عام کرنے کی غلطی کر جاتے ہیں ۔ ہم ان حضرات
سے صرف اتنی سی گزارش کرتے ہیں پولیس کو اپنا کام کرنے دیجئے ان کی مدد کے لیے ہمارے محلوں میں پہلے ہی مخبر بہت ہیں ۔آپ کے سامنے اور بہت سے مسائل ہے قوم مفادات میں کام کرنے کے لیے ۔اس طرح کے اعلانات وہی افراد کرتے ہیں جو سرکار اور سرکاری مشنری کے نور نظر رہنا چاہتے ہیں ۔پر آپ تو ایسے نہ تھے، ہے زمانے میں غم اور بھی بہت اس کے سِوا۔