میانمار: مزید کئی روہنگیا دیہات نذر آتش، پاکستان کا احتجاج

ینگون10ستمبر(آئی این ایس انڈیا)
میانمار میں ایسے مزید کئی دیہات کو نذر آتش کر دیا گیا ہے، جہاں راکھین سے فرار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ اس پیشرفت سے امکان بڑھ گیا ہے کہ بنگلہ دیش جانے والے روہنگیا مہاجرین کی تعداد اور بڑھ جائے گی۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے آزاد مانیٹرنگ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ میانمار کے شمال مغربی علاقے راتھیڈاؤنگ نامی علاقے میں آٹھ دیہات کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ کثیر النسلی آبادی والے اس علاقے میں تشدد کے ان تازہ واقعات کے نتیجے میں ایسا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اب وہاں موجود روہنگیا برادری کے افراد بھی جان بچا کر بنگلہ دیش جانے کی کوشش کریں گے۔ ان دیہات میں آتشزدگی کے یہ واقعات جمعے کی رات کو شروع ہوئے اور نو ستمبر بروز ہفتہ آٹھ دیہات نیست و نابود ہو چکے تھے۔میانمار کی بحرانی صورتحال کو مانیٹر کرنے والے دو ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ تشدد کی اس تازہ لہر میں غالبا? اس علاقے میں موجود مسلمانوں کی تمام آبادیوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔علاقے میں موجود آزاد معائنہ کار کرس لیوا نے بتایا،’’آہستہ آہستہ ایک کے بعد دوسرے گاؤں کو آگ لگائی گئی۔ مجھے یقین ہے کہ راتھیڈاؤنگ سے مسلمانوں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اس علاقے میں مسلمانوں کے گیارہ دیہات تھے اور گزشتہ دو دنوں کے دوران سب کو تباہ کر دیا گیا۔یہ ابھی واضح نہیں ہو سکا کہ ان دیہات کو کس نے آگ لگائی۔ تاہم یہ مقام اس علاقے سے کافی دور ہے، جہاں مبینہ روہنگیا جنگجوؤں نے پولیس تھانوں پر حملے کیے تھے۔ غیرجانبدار صحافیوں کو ایسے متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے، جہاں میانمار کے سکیورٹی دستے ’دہشت گردوں‘ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔انسانی حقوق کے اداروں اور اس تشدد سے فرار ہونے والے روہنگیا متاثرین نے بتایا ہے کہ میانمار سے مسلمانوں کو نکالنے کی ایک مہم جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس تشدد کے باعث دو ہفتوں سے کم عرصے میں دو لاکھ نوے ہزار روہنگیا افراد میانمار چھوڑ کر بنگلہ دیش جانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بنگلہ دیش میں امدادی کاموں میں خلل کی وجہ سے ان متاثرہ افراد کو شدید مصائب و مشکلات کا سامنا ہے۔راتھیڈاؤنگ کا علاقہ بنگلہ دیش سے متصل ہے اور اس علاقے میں شروع ہونے والے تشدد کے باعث امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اب بنگلہ دیش جانے والے متاثرین کی تعداد اور زیادہ ہو جائے گی۔ دوسری طرف میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے جمعرات کے دن کہا تھا کہ حکومت تمام افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہے۔ عالمی برادری کی طرف سے نوبل امن انعام یافتہ سوچی کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ادھر پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ اسلام آباد میں میانمار کے سفیر کو طلب کر کے روہنگیا مسلم کمیونٹی کے خلاف جاری اس کریک ڈاؤن کی مذمت کی گئی ہے۔ ہفتے کی دن جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاکستان کی خارجہ امور کی سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ نے میانمار کے سفیر یو وِن مائنٹ سے ملاقات کی اور انہیں کہا کہ روہنگیا افراد کے خلاف جاری تشدد کے سلسلے کو ختم کرنے کی خاطر فوری اقدامات کیے جائیں۔ بتایا گیا ہے کہ یو وِن مائنٹ نے جنجوعہ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستان کے ان تحفظات کو اپنی حکومت تک پہنچا دیں گے۔