چنگیز خان کی روح بھی شرما گئی ۔۔۔_  یہ وہ امت ھے جسکو اللہ کے نبی کہہ کے گئے تھے            المسلم کجسد واحد 

_
پیرس میں یورپ کے چند لوگ مرتے ھیں پورا یورپ اکٹھا ہوتا ھے جرمن سے جرمنی چانسلر آتی ھے پورے یورپین ممالک کے حکمران آتے ھیں خود فرانس کا صدر مظاہرے میں شریک ہوتا ھے  اور عوام کا ایک سمندر سڑکوں پہ نکل آتا ھے الکفر ملۃ واحدہ بن کے کہتا ہے ہمیں نہیں مارنا ورنہ بہت بری طرح پیش آئیں گے اور اٹھاون مسلم ممالک کے حکمران وہ بھی سو رہے ہیں خطیب بھی سورہے ہیں ممبر بھی خاموش ہیں داعی بھی خاموش ہے مبلغ بھی خاموش ہے محدث بھی خاموش ہے مفسر بھی خاموش ہے شیخ بھی خاموش ہے مرید بھی خاموش ہے امت کے انجینئر بھی خاموش ہیں وکلاء بھی خاموش ہیں نہ دبئی کی اونچی بلڈگیں شام و اہل برما کو بچا سکیں نہ عربوں کا تیل بچا سکا نہ ملیشیاء کا ایشیئن ٹائیگر بننا ان پر ہونے والے ظلم کو روک سکا نہ پاکستان کی ایٹمی قوت انکو بچا سکی نہ ہمارا سب سے بڑا جمہوری ہونا انکو بچا سکا نہ ہمارا ہندو مسلم بھائی بھائی کا نعرہ انکو بچا سکا تو پھر مان لو ان مظلوموں کو بچانے کا واحد راستہ صرف ایک ہے وہ نہ تیل سے ہوگا نہ اونچی بلڈگوں سے ہوگا نہ ایشیئن ٹائیگر بننے سے ہوگا نہ اقوام متحدہ سے ہوگا نہ فیسبک اور ٹویٹر پر ٹرینڈ چلانے سے ہوگا اس امت پر ظلم روکنے کا واحد راستہ وہی ہے جو خالد بن ولید ۔ صلاح الدین ،طارق ،محمد، تیونس سلطان ہمیں بتا گئے ہیں
ایسی بے حسی ایسی غفلت  ایسی بے غیرتی ایسا قول فعل میں تضاد کہ * زبانیں بھی خاموش ہیں قلم بھی ٹوٹ گئے ہیں ہتھیاروں کو بھی زنگ لگ گیا ہے * ہم تو اس ایثار والے نبی کے امتی ہیں کہ پانی کے پیالے پر ایک دوسرے کے لئے جانیں دے دیا کرتے تھے پیاس کی شدت میں بھی ایثار کرتے تھے ہم اس نبی کے امتی ہیں جس نے مہاجرین کو مہمان بنایا اور انصار کو میزبان بنایا اور ایک مثال قائم کی تھی لیکن آج ہم سب نے اپنے بارڈر سیل کر لئے کہ شامی ہماری طرف نہ آجائے برمی ہماری طرف نہ آجائے اور یورپ نے اپنے بارڈر کھول دئیے ذلت کا لقمہ کھلاکر انھیں عیسائی بنایا جارہا ہے امت کی با پردہ بہنیں آج عیسائی کتوں کو اپنی شکلیں دکھا رہی ہیں ان سے روٹی کے لقمے کی بھیک مانگ رہی ہیں تمھارے تیل کے کنویں کس کام کے؟ تمھاری اونچی بلڈگیں کس کام کی؟ تمھارا ایشیئن ٹائیگر بننا کس کام کا؟ تمھاری ایٹمی قوت کس کام کی؟ تمھاری  شیشوں کی مسجدیں اور مدرسے کس کام کے؟ تمھاری بڑی بڑی ہندو مسلم کا نعرہ لگانے والی جماعتیں کس کام کی؟ ظالم کو روکنا تو دور کی بات ہم تو آنسو نہیں پوچھ پا رہے ھیں اپنے بھائیوں کی   اتنی بے بسی؟ اتنی بے حسی؟ اتنی بے شرمی کہ نہ بوڑھا محفوظ ہے نہ عورت محفوظ ہے نہ بچہ محفوظ ہے نہ اسپتال محفوظ ہے نہ اسکول محفوظ ہے؟ چنگیز خان کی روح بھی شرما گئی وہ بھی گردنیں کاٹتا تھا جسم چھوڑ دیتا تھا آج تو انگ انگ بارود کی تباہی میں ہولناکی میں انگ انگ کٹ رہا ہے اس امت کے بچوں کا کیا یہ امت اتنی لاوارث تھی؟ کیا یہ امت اتنی پستیوں میں گرنے کے لئے آئی تھی ایک لاکھ چوپیس ہزار نبیوں کی امامت کرنے والے نبی کی امت اس قدر ذلت کا شکار؟
تم اللہ کو کیا سمجھتے ہو ایک جانور اور ایک تکبیر تشریق اور پانچ نمازیں اللہ کو رشوت میں دے رہے ہو؟ کیا کر رہے ہو ؟ اللہ کہہ رہا ہے انکے لئے تین کام ہونے چاہئیں وہ تین پکاریں اللہ انکی سنا رہا ہے
ربنا اخرجنا من ھذہ القریۃ الظالم اھلہا
یہ اللہ کہہ رہا ہے مسلمانوں ۔ کہ اللہ یا تو ہمیں اس بستی سے نکال دے اگر نکالتا نہیں تو کوئی ایسا دوست بھیج جو ہمارا غم دور کردے ہمیں خوشی دیدے یا کوئی ایسا مددگار بھیج جو کم از کم ظالموں کا ہاتھ تو روک لے
مجھے معلوم ہے میری آواز کتنوں تک جائے گی اگر سارے جہاں میں بھی چلی جائے تو اس امت کو تو معصوم بچوں کی چیخیں نہیں اٹھا سکیں بے بس عورتوں کی چیخ و پکار انھیں نہیں اٹھا سکیں لاچار بوڑھوں کے گلوں سے نکلتی صدائیں انھیں نہیں بیدار کر سکیں تو میرا واویلا کس کام کا ؟ میں کس لئے چیخ رہا ہوں کہ اپنا نام ابراہیمؑ پر آگ بجھانے والوں میں لکھوا سکوں میں اپنا نام یوسف کے خریداروں میں لکھوا سکوں کہ اللہ میرے پاس قلم کی طاقت تھی وہ میں نے تیرے مظلوموں کے لئے استعمال کی
*_کہاں مر گئے سڑکوں پر نکل کے جلوس نکالنے والے ؟ کہاں مر گئے امن امن اخلاق کی بات کرنے والے؟؟_*
 پانی سستاھےتوپھراس کاتحفظ کیسا
 خون مہنگاھےتوپھرشہرمیں بہتاکیوں ھے