ملک بھر سے صدر جمہوریہ ہند کے نام مسلم تنظیموں کا میمورنڈم روہنگیامسلمانوں کے جانی ومالی تحفظ کیلئے احتجاجات میں اضافہ!

سہارنپور (احمد رضا)ملک میں چھن چھن کر آنیوالی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جبر وستم کی خبروں سے پورے ملک کے بیس کروڑ مسلمانوں میں غصہ لگاتار بڑھتاہی جارہاہے عالمی سطح پر برماکے خلاف مذمتی تجاویز زیر غور ہیں ملک کا امن پسند مسلمان لمبے عرصہ سے روہنیگیا مسلمانوں پر ہونیوالے ظلم ستم کو برداشت کرتا آرہاتھا مگر جب سے برٹش اور امریکن پریس نے اس اجتماعی قتل عام پر لکھنا شروع کیا تب سے ملک کے ہر قصبہ اور محلہ میں روہنگیا مسلمانوں کے جانی اور مالی تحفظ کیلئے مانگ کی جانیلگی ہے ملک کا مسلمان برماکے مسلمانوں کے اس جاریحانہ قتل عام سے سخت غم وغصہ میں مبتلاہے ،اب دھیرے دھیرے عوام سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں اور ہر ضلع کے سینئر افسر کو مسلمانوں کے تحفط کے بندوبست سے متقلع عرضداشت پیش کیا رہی ہیں؟ شاملی، دیوبند ، مظفر نگر، میرٹھ ، جمنا نگر ، نوح ، فیدآباد ، روڑکی ، بجنور ،نجب آباد، بلند شہر ، سہارنپور ، غازی آباد ، دہلی ، مراد آباد ، سنبھل، مین پوری ، لکھنؤ، آگرہ، اناؤ، سیتاپور، شاہجہانپور اور علیگڑھ کے ساتھ ساتھ ہریانہ ، پنجاب ، ہماچل ، اتراکھنڈ اور راجستھان جیسے صوبہ کے مسلم فرقہ میں بھی برما سرکار کے فرعونیت پر مبنی رویہ کے خلاف غصہ لگاتار بڑھنے کی خبریں ملنے لگی ہیں اسی ضمن میں ہزارتوں میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و تشدد اور قتل عام پر سہارنپور میں لگاتار دودنوں سے مدارس کے علاوہ ملی تنظیمیوں، سماجی شخصیات اور سیکولر افراد پر مشتمل تین وفد نے باری باری ضلع مجسٹریٹ سہارنپور سے ملاقات کر انھیں صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک عرضداشت پیش کی آج کی اہم ملاقات میں مسلم قوم پر جبر کے خلاف اپنی عرضداشت کلکٹر کو پیش کرنیوالوں میں نائب شہر قاضی سہارنپور قاضی ندیم اختر علیگ ، مولانا ریاض الحسن ندوی استاد مدرسہ مظاہر علوم وقف، مولانا عبدالمالک مغیثی صدر آل انڈیا ملی کونسل ضلع سہارنپور و مہتمم جامعہ رحمت گھگھرولی تحصیل بہٹ، قاری ناصر جامعی شہر صدر جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی)، مولانا شاہدمظاہری شہر صدر جمعیۃ علماء ہند (محمود مدنی)،مولانا اطہر حقانی ندوی جنرل سیکریٹری تنظیم دعوت الحق، حافظ سعیدمنیجر کتب خانہ اختری، قاری شہاب الدین قاسمی ناظم مدرسہ مفتاح العلوم، حاجی توصیف صدیقی، حیدررؤف، سید حسان، قاری سالم کاشفی ڈائریکٹر ادارہ فلاح البنات، مظہر عمر خان ضلع صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا ، راشد صدیقی، مفتی عطاء الرحمن قاسمی ناظم جامعۃ الشیخ عبدالستار نانکویؒ ، مفتی احمد خورشید مہتمم جامعہ دارالعلوم اسعدیہ سرساوہ، قاری سعید مہتمم جامعہ ہدی اللعالمین ہلال پور و صدرتنظیم دعوت الحق، مولانا فضیل مہتمم جامعہ اشاعت القرآن، ، قاری عبدالسمیع سڑک دودھلی، قاری محمد عارف مظاہری مہتمم جامعہ مصلح الامت، ڈاکٹر عبدالستار لائف کیئر اسپتال، محمد عرفان انجینئر، محمد مقیم انجینئر، مولانا انور ندوی ترجمان مدرسہ دارالتدریب الاسلامی، قاری شبیر احمد مہتمم مدرسہ دارالقرآن، ڈاکٹر شفیع اللہ، مولانا حارث مظاہری اصلاح معاشرہ سوسائٹی، قاری یوسف وغیرہ کی موجودگی قابل ذکر رہی اس میمورنڈم میں روہنگیا مسلمانوں کے جانی ومالی تحفظ کے ساتھ ساتھ ان مظلوم مسلمانوں کو انصاف دلانے کا مطالبہ بھی زبردست طریقہ سے کیا گیا ،عرضداشت میں کہا گیا کہ میانمار میں مسلم اقلیت طبقہ پر ہو رہے ظلم و ستم اور انکے قتل عام پر دنیا کا ہر انصاف پسند انسان بے چین ہے اور حکومت میانمار کے غیر منصفانہ رویہ اور اقلیتوں کی نسل کشی پر ہر دردمند دل تڑپ رہا ہے دنیا کے بیشتر ممالک اقوام متحدہ اور دیگر حقوق انسانی کی تنظیموں نے اس قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ہندوستان کی بھی قدیم روایت یہی ہے کہ یہاں کی عوام اور حکومت نے ہمیشہ ظلم کے خلاف مظلوموں کے حق میں آواز بلند کی ہے۔اس خطرناک صورتحال میں حکومت کی جانب سے ان ظالمانہ واقعات کی مذمت کی جائے اور میانمار حکومت کو اپنی قانون کی بالادستی کی ذمہ داری کو نبھانے کی طرف توجہ دلائی جائے۔میانمار میں اقلیت مسلم طبقہ کے خلاف جو ظلم ہو رہا ہے وہ نہ صرف یہ کہ غیر انسانی رویہ ہے بلکہ وہ سرکاری دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے اسلئے میانمار کے سفیر کو طلب کرکے ان سے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر جواب طلب کیا جائے۔ اس ظالمانہ کاروائی کو روکنے کیلئے حکومت میانمار منصفانہ اقدامات کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے ۔ میانمار سرکار پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اسے اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس نسل کشی کو فوراً بند کرائے اور روہنگیا مسلمانوں کو میانمار کی ظالم اور سفاک فوج کیلئے لقمہ بننے کا موقعہ نہ دیا جائے۔وزیراعظم کی اس بات سے ہم پرامید ہیں اور تعریف کرتے ہیں کہ انھوں نے بھارت اور میانمار کے بیچ جذباتی جوڑ کی بات کہی اسکا بھی تقاضہ ہے کہ میانمار میں مظلوم اور ظلم کا سامنا کرنے والے اقلیت روہنگیا مسلمانوں کی مدد کی جائے ۔میانمار میں حالات سازگار ہونے تک ہندوستان میں موجود روہنگیا مسلمانوں کو یہیں رکھا جائے اور انکی میانمار کی واپسی اقوام متحدہ کی نگرانی مین اس یقین دہانی کے ساتھ ہو کہ میانمار سرکار انکی جان ، مال اور عزت کی مکمل حفاظت کریگی انکی تہذیب و مذہب اور تعلیمی اداروں کو جمہوری آزادی مہیا کرائیگی۔ ہندوستان کی جانب سے روہنگیا مظلومین کیلئے غذاء، خوراک اور دوا وغیرہ کی شکل میں امداد بھیجی جائے!