گیروادھاری یوگی اور اُن کے”تغلقی فرمان”

“امروز فردا”
سید حسین شمسی
روزنامہ سہارا ممبئی
اشاعت: ہفتہ, 12 اگست, 2017
سیاسی ’واقعات‘ خواہ کتنے ہی چھوٹے کیوں نہ ہوں اہمیت کے حامل اور آئندہ وقتوں کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔
اس بات کو ذرا اس تناظر میں دیکھیں کہ ابھی کل ہی سابق نائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنے درد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ “اس ملک میں مسلمان سراسیمگی کا شکار ہیں” اور ابھی ابھی اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی کا “فرمانِ تغلقی” نازل ہوا ہے کہ ’یوم جمہوریہ کے موقع پر مدارس میں ترنگا پرچم لہرایا جائے، قومی ترانہ گایا جائے اور (ثبوت کے طور پر) اس کی ویڈیو تیار کی جائے۔‘
فرمان کا متن ہے کہ مدارس کے بچے ’قومی ترانہ جوش و خروش‘ سے پڑھیں۔ گویا اس ملک سے وفاداری کا ویڈیو پروف طلب کیا جارہا ہے، ثبوت مانگا جارہا ہے، کیا یہاں یہ کہنا بجا نہ ہوگا کہ ’جاؤ! پہلے اس ساورکر سے حب الوطنی کا ثبوت لے کر آؤ جس نے انگریزوں سے تحریری طور پر معافی مانگی تھی؟ ہر چند کہ موجودہ حکومت کا تعلق تاریخ کے پچھلے اسباق میں ان لوگوں سے جا ملتا ہے جنہوں نے کبھی بھی اس ملک کیلئے کوئی قربانی نہیں دی، بلکہ ان کے ’تھنک ٹینکس‘ نے تو برطانوی حکومت سے تحریری معافیاں مانگی ہیں، مخبریاں کی ہیں۔ وہیں دوسری طرف، تاریخ گواہ ہے کہ انگریزوں کے ساتھ ہونے والی جنگ آزادی میں میدان جنگ اور اس کے اطراف کا کوئی پیڑ ایسا نہ تھا جس پر مسلم علماءکی لاشیں نہ ٹنگی ہوں، ان کی ڈیوڑھیاں زمین بوس نہ کر دی گئی ہوں۔ یہ “تغلقی فرمان” آزاد ہندوستان میں کسی بھی حکومت کی جانب سے جاری کردہ انتہائی مکروہ، انتہائی نفرت آمیز، انتہائی امتیازی، انتہائی بچکانا فرمان ہے۔ اگر نشے میں چُور گیروا دھاری وزیر اعلی تاریخ سے نا بلد ہیں تو غیر جانبدار مؤرخین کی چند کتابیں پڑھ لیں۔
یوگی اور مودی حکومت کا ہر قدم مسلمانوں کے تشخص کو روندنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔ مسلمانوں کی یہ اضطرابی کیفیت یوں ہی نہیں ہے، گزشتہ دو برسوں میں کچھ ایسے احکامات صادر کئے گئے جس کا راست اثر مسلم طبقہ پر ہی پڑا۔ تازہ ترین واقعہ ضلع بارہ بنکی اتر پردیش کے مدرسہ حفصہ للبنات کو بند کئے جانے کے نوٹس کاہے۔ مقامی بلاک آفیسر نے آرٹی ایکٹ باب 4کی دفعہ 1-19 کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ” فوری طور پر اپنی درسگاہوں کو بند کردیں، اگر کوئی غیر تسلیم شدہ ادارہ چلاتاہے تو اسے ایک لاکھ روپے جرمانہ تک دینا ہوگا، خلاف ورزی کی صورت میں دس ہزار روپیہ یومیہ جرمانہ عائد ہوگا۔“
حالانکہ بلاک آفیسر نے آر ٹی ای کی جس شق 4 کا اطلاق مدارس پر کیاہے، وہ فارمل تعلیم دینے والے اسکولوں پرنافذ ہوتی ہے نہ کہ مدارس پر۔ آر ٹی ای امینڈمینٹ ایکٹ 2012کی دفعہ 1 کی شق 5 میں صاف طور پر لکھا ہے کہ ’ اس قانون کی کوئی شق مدرسوں، ویدک پاٹھ شالاﺅں اور بنیادی طور سے مذہبی تعلیم مہیا کرانے والے تعلیمی اداروں پر نافذ نہیں ہوگی‘ پھر بھی اس طرح کے نوٹس آنے پر اہلِ مدرسہ کا متشوّش ہوجانا فطری ہے۔عین ممکن ہے کہ ’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘ کے مصداق، افسران نے اپنے ذاتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ نوٹس جاری کیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس نے یہ کام محض رقم وصول کرنے کیلئے کیا ہو۔ اوریہ بھی ممکن ہے کہ اس نے ’اوپر کے لوگوں‘ کے حکم پر ایسا کیا ہو تاکہ اس سلسلے میں مسلمانوں کے جذبات کی پیمائش کی جا سکے۔
سوال یہ ہے کہ جب حکومت مدارس کی تعلیم کو ’فارمل ایجوکیشن‘ مانتی ہی نہیں تو اس پر روک لگانے کی بات کیوں کی جارہی ہے؟ جب مدارس کے پڑھے ہوئے بچے انتظامیہ کی نظر میں ’ناخواندہ‘ ہیں تو ان اداروں میں دی جانے والی تعلیم سے ’پیٹ میں مروڑ‘ کیوں ہورہا ہے؟ مدارس کے فارغین نہ تو کسی سرکاری ملازمت کے اہل ہیں، اور نہ ہی وہ کسی سرکاری نوکری کے خواہاں ہوتے ہیں۔ وہ صرف رضائے الہٰی اور فروغ دین کیلئے دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں، پھر اس نوٹس کے کیا معنی؟
مذکورہ نوٹس کے پیچھے کیا منشا ہے، یہ محض کسی ایک افسر کی غلطی ہے یامنظم سازش ، اس کی پرتیں تو عنقریب کھل ہی جائیں گی، لیکن یہ بات بھی مسلّمہ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت ہوکہ سابقہ، مسلمانوں کا آزادانہ طور پر تعلیمی ادارہ چلانا انہیں قطعی ناپسند رہا۔ اسی لئے مختلف حیلہ حربہ سے مدارس میں دراندازی کی کھڑکی کھولنے کی کوشش ہمیشہ سے ہوتی رہی ہے۔ کبھی مدارس کو ماڈرنائز کرنے کے نام پر، تو کبھی عصری علوم کے نام پر نصاب میں تبدیلی جیسے ایشوز اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
اس ضمن میں’حاکمِ وقت‘ سے یہی کہنا چاہیں گے: یوگی جی! گیروا رنگ فقیری اور دنیا سے بے نیازی کا رنگ ہے اسے نفرت کا رنگ نہ بنائیں، درخواست ہے بس۔
                  کچھ اربابِ مدارس سے
ماضی میں ہمارے مادرعلمی کے اکابر وعلماءکرام نے حکمراں طبقہ کی ان سازش وریشہ دوانیوں کو بھانپتے ہوئے بڑے شد و مد سے اس نظریے کی مخالفت کی اور صاف طور پر کہدیا کہ نہ تو ہمیں دینی مدارس کیلئے کسی قسم کی سرکاری مراعات درکار ہے اور نہ ہی کسی قسم کی مداخلت ہم مسلمانوں کے باہمی تعاون اور صدقات وعطیات سے مدارس چلانے کے پوری طرح متحمل ہیں۔بلاشبہ ان اکابر نے اپنی دور اندیشی کے باعث ہی سخت موقف اختیار کیا اور تمام مدارس کے ذمہ داران و مہتمم حضرات کو یہ تلقین بھی کرتے رہے کہ کسی بھی صورت میں سرکاری محکمات سے مربوط نہ ہوں، لیکن وقت بدلا، دور بدلا، ملک میں جیسے جیسے مدارس کی تعداد بڑھی ویسے ویسے ”انقلابی فکر“ کے نام پر نئی پیڑھی کے علماءکرام وذمہ دارانِ مدارس کی سوچ بھی بدلتی گئی۔ انہوں نے دارالافتاءسے یہ استفتاءتو لیا کہ مدارس دینیہ کے لئے سرکاری مراعات حاصل کرنا جائز ہے کہ نہیں لیکن ماہرین سے دور کی کوڑی لینے کی کوشش نہیں کی کہ آیا اس سے مدارس کی آزادی تو سلب نہیں ہوجائےگی.
ہم دیکھ رہے ہیں کہ مدرسہ بورڈ کے نام پر سرکاری مراعات حاصل کرنے کے لئے ہمارے یہ چھوٹے بڑے مدارس اتاؤلے نظر آرہے ہیں, یہ چلن اتر پردیش اور بہار میں کچھ زیادہ ہی عام ہوتا جارہا ہے۔ جن مدارس کو مدارس بورڈ کے نام پر اچھی خاصی مراعات حاصل ہے وہ بظاہر خوش اور خودکفیل نظر آرہے ہیں لیکن وہ ان اندیشوں سے بے بہرہ ہیں کہ جس طرح سے اسکولوں میں صحت اور حب الوطنی کے نام پر یوگا ، وندے ماترم اور بھارت ماتا….. جیسی چیزوں کو لازم قرار دیا جارہا ہے کوئی بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں مدارس پر بھی یہ سب تھوپنے کی ناپاک کوشش ہو۔ یہ اندیشہ اس لئے بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ ہم نے گزشتہ دنوں ”یوگا اور بھارت ماتا کی….. “ سے متعلق بعض ”علماء“ کو حکمراں طبقہ کی ہاں میں ہاں ملاتے دیکھا، ’یہ حضرات‘ اپنی ”دانشوری اورفہم وفراست“ سے ایسی تاویلیں گڑھ رہے تھے جس سے یہ باور ہوسکے کہ یوگا کرنے اور’ بھارت ماتا کی…..‘ کہنے میں کوئی قباحت نہیں۔
المیہ یہ ہے کہ رفتار زمانہ کے ساتھ ہم لوگوں کی مصلحت پسندیاں بھی بڑی متقاضی ہوتی جارہی ہیں۔ حیرت ہے کہ اپنے مدارس میں کسی قسم کی سرکاری مداخلت پر ہم سراپا احتجاج بن جاتے ہیں لیکن سرکاری گرانٹ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے تو ذرا بھی نہیں چوکتے اور اسے اپنا جمہوری حق سمجھتے ہوئے حِلّت وحُرمت کی تمیز تک کھو بیٹھتے ہیں۔ بہرحال ابتدائی سطروں میں مذکور, بارہ بنکی کے مدرسہ کو دیئے گئے نوٹس کو بھی ہمیں نظرانداز نہیں کرنا چاہئے، رہنمایانِ ملت اس موضوع پر خاموش نہ بیٹھیں، یہ نہ سوچیں کہ “ایک چھوٹے مدرسے کو دیئے گئے نوٹس کاہی معاملہ ہے، کوئی عدالتی یا سرکاری فیصلہ تو ہے نہیں۔” دراصل ہماری یہی خام خیالی اور سرد مہری ان فرقہ پرستوں کو اپنی مرضی تھوپنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ ہم دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی پر چلنے والی بی جے پی حکومت نے آج ایک چھوٹے سے مدرسہ کو نشانہ بناتے ہوئے شوشہ چھوڑا ہے, جس کے ذریعہ مسلمانوں کی حسّیت وجبلّت کوٹٹولنے اور ناپنے کی کوشش کررہی ہے، زیادہ احتجاج نہ ہونے کی صورت میں آرڈیننس بھی تو جاری کیا جاسکتا ہے؟ اور جب ایک ریاست میں یہ حربہ کارگر ثابت ہوگیا تو دیگر ریاستوں میں بھی یہ احکام نافذ کیوں نہیں ہوسکتے؟ جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ عمومی سطح پر کوئی بھی سرکاری فرمان کی مخالفت خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہورہی ہو لیکن مودی سرکار اپنا کوئی بھی فیصلہ واپس لینے کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔