مولانا بد رالدین اجمل رکن لوک سبھاامید ظاہر کی کہ نو منتخب صدرملک کے آئینی نظام کوبحال کر نے کا تاریخی کا رنامہ انجام دیں گے‘ ۔ گؤبھکتوں پرنریندر مودی کی تنقید ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں

نئی دہلی،27جولائی:آل انڈیایونائٹیڈڈیموکریٹک فرنٹ کے قومی صدراوررکن لوک سبھامولانابد رالدین اجمل قاسمی نے ملک کے اولین شہری و14ویں صدر جمہوریہ را م ناتھ کوو ندکوصدربننے پرمبارکباددیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ’ نو منتخب صدرملک کے آئینی نظام کوبحال کر نے کا تاریخی کا رنامہ انجام دیں گے‘ ۔انہوں نے کہاکہ’ اس عظیم عہدے کے وقارکو برقراررکھنا موصوف کاپہلاہدف اور آئین کی عزت کو برقراررکھنا ان کی ذمہ داری ہے‘۔مولانا بد رالدین نے کہاکہ ’آر ایسایس لیڈر رامناتھ کووند کے کندھوں پر اس مشکل وسنگین حالات میںیہ ذمہ داری ہے کہ وہ پورے جذبے کے ساتھ آئین کا تحفظ کریں،حالانکہ اگر آئینی تحفظ کے حوالے سے ملک کے حالات پر نظر ڈالی جائے توسب کو معلوم ہے کہ اقلیتوں اور دلتوں کے حالت بہت خراب ہیں،مختلف مقامات پر آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ،ایسے میں آئین کی حفاظت کی ذمہ داری واقعی بہت اہم ہے ‘۔مولانابدرالدین نے مذکورہ باتیں ’نامہ نگار‘ سے خصوصی گفتگو میں کہیں۔ مولانا اجمل نے کہاکہ ’نومنتخب صدر جمہوریہ کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اس عہدہ جلیلہ پر فائز ہو نے کے بعد بلا امتیاز وملت ملک کے ہر شہریوں کو تحفظ فراہم کر نے اورملک کو ہر اعتبار سے صحیح سمت میں لے جا نے والے اقدام کی پہل کریں اور حبس ونفرت بھرے ماحول میں زندگی گزارتے لوگوں کو آزادی دلائیں‘ ۔ممبر آف پارلیامنٹ نے سابق صد جمہوریہ پر نب مکھرجی سے اپنے گہرے روابط ومراسم کاذکرکیا اور دیرینہ تعلق کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ’ اپنے دور اقتدارمیں صدر عہدے کے وقار اور ساکھ کو بڑھایا نیز قومی وعالمی امور پرموصوف کے خیالات نے سب سے بالاتر عہدے کے قد میں بھی اضافہ کیا ‘۔ مولانا قاسمی نے گزشتہ دنوں وزیر اعظم کے ذریعے گؤرکشکوں کودئے گئے بیان کو محض بیان بازی قرار دیااورکہاکہ ’وزیر اعظم کے قول اور فعل میں بہت فرق ہے‘۔انہوں نے کہاکہ’ گؤ رکشا کے نام پر حملے بھاجپا حکمراں ریاستوں میں ہوئے ہیں، یہ کس طرح ممکن ہے کہ بی جے پی کی ریاستی حکومت اسے روک نہیں پا رہی ہے‘۔انہوں نے کہا کہ’ بیشتر سانحات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ا یسے واقعات جاری رہیں گے کیونکہ بی جے پی وآرایس ایس سے منسلک تنظیموں نے جانوروں کے مقابلے میں انسانی زندگی کی کم قیمت لگارکھی ہے۔‘انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’یہ سب مودی حکومت اہم مسائل سے بھٹکانے کے لیے اسطرح کے سیاسی حربے اختیار کر رہی ہے اورگؤبھکتوں پرنریندر مودی کی تنقید ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں ہے اورایسے واقعات روکنے کے لیے بیان بیان کے ساتھ ساتھ کارروائی بھی ضروری ہے۔انہوں نے حالیہ دنوں ملک بھر میں مذہبی نفرت کی تبلیغ اور ’مو ب لنچنگ‘ کے ذریعہ اقلیتوں اور دلتوں پر قاتلانہ حملہ کی بھی سخت مذمت کی اورکہاکہ ایسے ماحول سے ملک کے حالات ناگفتہ بہ ہیں ،جس پر وزیر اعظم کو نوٹس لیناازجلد ضروری ہے ۔