خود احتسابی رفاقتوں کے نئے خواب خوشنما ہیں مگر  

                 

مضمون نگار : سیّد حسین احمد شمسی
مدیر ، روزنامہ راشٹریہ سہارا
اتوار، ۲۳ جولائی2017
امریکی دورہ پر ڈونالڈ ٹرمپ سے پرجوش ملاقات اورتجارتی عہد وپیمان، پھر فوراً ہی اسرائیل کے سہ روزہ دورہ پر والہانہ استقبال اور “آئی فار آئی” کا اقرارباللسان، نیز دونوں وزرائےاعظم کا بار بار بغلگیر ہونا بڑے جوش وجذبے کا منظر پیش کررہاتھا۔ وزیراعظم ہند کے استقبال کیلئے ایئرپورٹ پر تمام اسرائیلی وزراء کا موجود رہنا اور سرخ قالین پر سے گزرنا نریندر مودی کیلئے بڑی سعادت تصور کیاجارہا ہے۔ میڈیا، بالخصوص الیکٹرانک میڈیا نےاسے ایک ایوینٹ میں تبدل کر دیا اور ہر پل کی مفصل خبریں نشرکیں نیز ہر قدم کو ملکِ عظیم ہندوستان کے لئے عظیم تر بتایا، نیتن یاہو کا مودی کو ہندی زبان میں پیارے دوست کہنا، بہت ہی پُروقار جملہ اور فخریہ لمحہ جتانے کیلئے بار بار نشر کیا۔ یوں بھی کسی ملک کے وزیر اعظم کے بیرون ملک دورے پر میڈیا تلخ سوالات نہیں کرتا کیونکہ معاملہ دو ممالک کے مابین ہوتا ہے۔ سوالات اور رپورٹنگ پر دونوں ممالک کے تعلقات بھی منحصر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بات اور بھی سچ ہے،  وہ یہ کہ میڈیا مجموعی طور پر حکومت کا مہمان ہوتا ہے۔
 دورہ کس حد تک کامیاب رہا اس پرحتمی کوئی رائے دینا فی الحال قبل از وقت ہوگا البتہ میڈیا نے وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ امریکی و اسرائیلی دورے کو تاریخ سازقرار دینے میں کوئی تاخیر نہیں کی۔ یہ میڈیا ان ملاقاتوں کودو طاقتور ملکوں کا ملن اور دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوارگردان رہاہے، ہتھیاروں کی خرید کو ہندوستان کی دفاعی طاقت میں اضافہ بتاتے وقت اس پہلوپر ذرا بھی غور نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حد درجہ گرمجوشی کا مظاہرہ اس لئے بھی ہوسکتاہے کہ وہ اپنی اشیاء فروخت کررہے تھے، ہم ان کے یہاں ایک خریدار کی حیثیت سے گئے تھے۔ چونکہ کاروباری کی سرشت میں خوشامد پسندی شامل ہوتی ہے سوایک ماہر سوداگر کی حیثیت سے خریدار کی آؤ بھگت کرنا ان کے پیشے کا اصول ٹھہرا۔ میڈیا تو ہمیں یہ بھی سمجھاتا رہا کہ وزیراعظمِ ہند معاہداتی دستخط لین دین اور ’’ آدان پردان‘‘ کے دستاویز پر کررہے ہیں لیکن تفصیلات جاننے پر معلوم ہواکہ ہم اُن کی چیزیں خریدتے رہے اور اپنی کوئی بھی چیز اُن کو فروخت نہ کرپائے۔ کم از کم ابھی تک تو ہمیں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی جس میں ’پردان‘ کا بھی کوئی امکان ہو۔
دورہ تاریخ ساز کس معنی کر۔۔۔۔؟
نریندر مودی کے اسرائیلی دورہ کو تاریخ ساز بتایا جارہا ہے, تاریخ ساز بتانے والے اگر وجہ کسی ہندی وزیراعظم کا پہلی بار اسرائیلی دورہ اور شاندار استقبال بتا رہے ہیں تو یہ دورہ تاریخی اس معنی کر بھی ہوسکتا ہے کہ نریندر مودی نے ان تمام قدروں کو پامال کردیا جو ہندوستان کی روایت کا حصہ ہوا کرتی تھیں اور ہندوستان جس کی وجہ سے سب سے بڑا جمہوری ملک کہلاتا تھا۔ چونکہ ہندوستان کو غلامی سے آزادی ملی تھی، اسلئے وہ غلامی، زیر عتاب ہونے کا غم خوب جانتا تھا۔  ہمیں یاد رہنا چاہئے کہ ہندوستان کاموقف ہمیشہ سے فلسطین کے حق میں رہا ہے۔ 1947 سے قبل جب ہم خود مظلوم تھے اور ہماری حیثیت ایک غلام ملک کی تھی, خودمختار وآزادانہ زندگی گزارنے کے خواہاں وکوشاں تھے اُسی دوران مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ “عربوں پر اسرائیلیوں کو اس طرح تھوپانہیں جاسکتا”۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھی اپنے دور اقتدار میں اسرائیل کو ہندوستان میں بھلے ہی قونصل خانہ کھولنے کی اجازت دے دی تھی لیکن انہوں نے عربوں کو ناراض کرکے اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کبھی نہیں کی۔ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ یاسرعرفات ہندوستان کا بار بار دورہ فلسطین و ہند کے مابین مضبوط اور خوشگوارمراسم کے سبب ہی کرتے تھے۔ کئی موقعوں پر تو خود وزیر اعظم محترمہ اندرا گاندھی نے انہیں ریسیو کیا ہے۔ ہندوستانی آرکائیو میں محفوظ تصویریں اس بات کی غماز ہیں کہ ہم نے کبھی جابر، غاصب و ظالم کا ساتھ نہیں دیا۔
آج جبکہ گلوبلائزیش کا زمانہ ہے اور اس ترقی پذیر دور میں دنیا سمٹ کر رہ گئی ہے, ہر ایک سے بنائے رکھنا عالمی سماج کا اصول بنتا جارہا ہے تو ایسے میں اسرائیل سے سفارتی وتجارتی تعلقات بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں, لیکن اپنی روایات اور اخلاقی قدروں کا بھی لحاظ رکھنا ہم پر لازم ہے, مظلوم کے مقابل ظالم کے کندھےسے کندھا ملاکر اس طرح نہیں کھڑا ہونا چاہئے کہ انگشت نمائی ہونے لگے۔ مشہور سائنسداں اسٹیفن ہاکن صرف اس لئے اسرائیل نہیں گیا کہ وہ کسی ظالم کے شانہ بہ شانہ کھڑا دکھائی نہیں دینا چاہتا تھا۔
بہرحال ہند – اسرائیل تعلقات کی استواری اور وزیراعظمِ ہند کےاسرائیلی دورہ کی اہمیت وافادیت خواہ کچھ بھی بتائی جائے لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ اس دورہ سے آر ایس ایس کو دیرینہ خواب کی تعبیر مل گئی۔ سنگھیوں کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ ہندوستان محبت کی پینگیں فلسطین کے بجائے اسرائیل کی جانب بڑھائے۔ ہمیں یاد ہے کہ 1992ء میں پہلی بار اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال ہوئے تھے, مبصرین بتاتے ہیں کہ اس وقت کے آر ایس ایس سرسنگھ چالک  بھاؤ راؤ دیورس نے وزیر اعظم نرسمہاراؤ کی ذہن سازی کی تھی۔ پھر 2003ء میں ” صابرہ شتیلہ کے قصاب” اسرائیلی وزیراعظم ایرل شیرون کو اٹل بہاری واجپئی نے ہندوستان مدعو کرکے بڑی آؤ بھگت کی۔ جبکہ موجودہ وزیراعظم نریندر مودی اس سے قبل گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے بھی اسرائیل کا دورہ کرچکے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سنگھیوں اور صہیونیوں کے مابین بڑا جذباتی اور مماثلاتی رشتہ ہے۔
پڑوسیوں کی نقل وحرکت سے “بے بہرہ”
سات سمندر پار دیشوں سے تعلقات بڑھانے اور الفت و محبت کااظہار کرنے والے نریندر مودی پڑوس ممالک کو کسی بھی خاطر میں لانے کے موڈ میں نظر نہیں آرہے ہیں۔ وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے نیپال کا دورہ کیا اور ان کے دورہ کے بعد نیپال سے ہندوستان کی دوری بڑھتی ہی چلی گئی۔ دوسری جانب پاکستان بھی ایل اوسی پر اپنی ڈرامہ بازی کے شو بڑھاتا جارہا ہے۔ رہی بات چین کی تو جس وقت نریندر مودی ڈونالڈ ٹرمپ سے گلے مل رہے تھے اس وقت ہمارا پڑوسی ملک چین بھوٹان کے راستے سکم میں داخل ہورہاتھا۔ لداخ میں بھی چین کی “گھس پیٹھ” اور نقل وحرکت ہمارے لئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ کارگزار وزیر دفاع ارون جیٹلی نے اپنی دفاعی طاقت کی تشہیر کرتے ہوئے سخت ترین بیان داغاکہ “چین ہوش میں رہے, ہندوستان اب 1962 والا ہندوستان نہیں رہا, بہت آگے نکل چکا ہے” بیان تو واقعی تیزوتند اور حوصلہ افزاء تھا لیکن چین نے بھی فوراً ہی ترکی بہ ترکی جواب دیاکہ ” ہم بھی زمانے کے ساتھ بہت آگے بڑھ چکے ہیں”۔ چین کی اس جوابی دھمکی کے بعد ہندوستان تادم خاموش ہے۔
سوچنے والی بات یہ ہیکہ نریندر مودی جی نے وزیراعظم بننے کے بعد پے درپے جو غیرممالک دورے کیے ان میں نیپال, پاکستان اور چین بھی شامل ہے۔ لیکن ان دوروں کے بعد پڑوسیوں سے تعلقات میں مٹھاس پیدا ہونے کے بجائے خلش بڑھتی گئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے کبھی اس کے اسباب جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ ہم نے یہ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی کہ نواز شریف کے ساتھ تو آپ کے ذاتی مراسم ایسے ہیں کہ آپ بلا اطلاع تقریب میں پہنچ جاتے ہیں، ملک میں کسی کو بتائے بغیر نیپال میں (برکھا دت کی کتاب کے مطابق) نواز شریف سے چوری چھپے ملاقات کرتے ہیں، اسٹیل بیرن جندل کو اپنا ذاتی ایلچی بنا کربھیجتے ہیں، لیکن قومی سطح پر آپ نے پاکستان کے ساتھ کسی ’دشمن ملک‘ جیسے posturing  کر رکھی ہے۔ اب کیا ہندوستان موصوف کی پسند, ناپسند کی بنیاد پر دوستیاں و دشمنیاں اختیار کرے گا۔
جب وزیراعظم خارجی امورخود طےکرنےلگیں
دراصل ہماری دفاعی وخارجی پالیسیاں سنجیدگی سے مرتب نہیں کی جارہی ہیں ورنہ دنیاکے بیشتر ممالک کے مہمان بن چکے نریندر مودی جی دوست و دشمن میں تمیز کرتے ہوئے یہ ضرور سوچتے کہ کہاں جانا ضروری ہے اورکس ملک سے دوری بنائے رکھنا وقت کا تقاضا اور دانشمندی ہے۔ نریندر مودی کے غیرممالک دوروں کے جو نتائج واثرات سامنے آرہے ہیں اُسے دیکھتے ہوئے یہ اندیشہ لاحق ہوچلا ہے کہ موصوف نے غیرممالک دورے کرکے وہاں کے وزرائے اعظم اور صدور سے ذاتی تعلقات اور دوستی تو گانٹھ لی ہے, لیکن اگر  پڑوسی دشمنوں کی ہم پر یلغار ہوئی تو ان کے یہ دوست ہندوستان کے دوست ثابت ہوں گے اس کے امکانات بہت کم ہیں؟
ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ 1971ء میں جب ہندوستان اور پاکستان میں جنگ ہوئی, اُس وقت امریکہ اور چین نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی تھی. ایسے میں ہندوستان کا حقیقی دوست روس ہی تھاجو کھل کر ہندوستان کے ساتھ آیا, آج جبکہ روس – ہند تعلقات میں بھی دراڑ پیدا ہوچکی ہے تو کیا کوئی ایسا دوست ہمارے ساتھ ہے جو پوری طرح ہمارا ساتھ دے۔ کل اگر کشمیر کو لے کر پاکستان سے جنگ ہو بھی جاتی ہے تو کیا امریکہ, جرمنی اور اسرائیل جیسے طاقتور ممالک ہماری حمایت میں پرواز بھریں گے؟ ہم خواہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوجائیں, لیکن اپنا حامی اور وامی انتہائی ضروری ہے۔ بلاشبہ پاکستان کی ہمارے سامنے کوئی حیثیت نہیں, لیکن یہ احتیاط بھی لازم ہے کہ چین جیسے طاقتور ملک کا مکمل سپورٹ اسے حاصل رہے گا۔ ایسے میں یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اگر پاکستان اور چین مل کر ہندوستان کے خلاف تال ٹھونکتے ہیں تو آج جن سے ہم ہاتھ ملا رہے ہیں اور گرمجوشی سے بغلگیر ہورہے ہیں یہ ہاتھوں میں ہتھیار لیکر ہمارے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔
آخر میں ایک بات اور…… کیا ہمارے اندر بحیثیت ایک ملک ’مسلّح ملک‘ ہونے کا جذبہ بیدار کیا جا رہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ خطرناک بات ہے، کیونکہ ایسا ہونے سے تعلیم اور صحت، فلاح و رفاہ پر اخراجات کم ہونگے، ہتھیار کی خریداری پر رقم زیادہ صَرف ہوگی۔
ایک بات براہِ راست مودی صاحب سے کہ جو نہرو سے بھی زیادہ عظیم بننے کے خواہش مند ہیں (کم از کم بھکتوں کی باتوں سے تو ایسا ہی لگتا ہے): نہرو اسلئے عظیم تھا کہ اس نے پاکستان اور چین جیسے “بدمعاش” ممالک کی جانب سے provocation کے باوجود ہندوستان میں مجموعی طور پر امن قائم رکھا۔ اور اسی مجموعی دائمی امن کی وجہ سے ہندوستان نے وہ ترقی کی، جو وہ کر سکا۔ امن ایک ایسا سکّہ ہے جو ہر دور میں رائج ہونے کی قوت رکھتا ہے۔ یہ کل بھی سکّہ رائج الوقت تھا اور آج بھی ہے۔ جنگ کا حال پوچھنا ہے تو یورپ کی پیدل یاترا کر آئیں۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ جنگ ۔۔۔ تباہی، بربادی، قیامت صُغریٰ کا دوسرا نام ہے.