عوام کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیاجانا افسوسناک ؟ بھاجپاسرکار میں فرقہ وارانہ وارداتوں کی بہتات !عبدالصمد

سہارنپور (احمد رضا) اقلیتی اور دلت فرقہ کے عوام کے ساتھ ۲۰۱۴ سے ملک بھر میں کئے جارہے نازیبا سلوک ، مذہبی تشدد ، نسلی حملہ ،عوام کے درمیان بڑھتی عدم رواداری اور گؤکشی کے نام پر اکثر رونما ہونیوالے مارپیٹ کے واقعات پر اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کے دوران سوشل رہبر اور پچھڑا سماج مہاسبھا کے قومی نائب صدر عبدالصمد نے کہاکہ مرکزکے بعد یوپی میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار بن جانیکے بعد سے ملک خاص طور سے یوپی، ہریانہ ، دہلی اور بہار کے حالات اچھے نہی ہیں مسلم دلت پچھڑا غریب اور پسماندہ طبقہ روٹی اور روزی کے لئے گزشتہ تین سالوں سے بیحد پریشان ہے جگہ جگہ بھاجپائیوں کے ظلم وستم کے خلاف مظاہرے اور احتجاج ہورہے ہیں مگر اس دبے اور پچھڑے عوام کا درد جاننے اور سمجھنے والا کوئی نہی یوپی میں جہاں یوگی سرکار نے ریاستی سطح پر گوشت بندی کرنیکے اپنے فیصلہ کو نافد کرتے اقلیتی طبقہ کے لاکھوں افراد کی روزی روٹی سے دور کر دیاہے اور گؤ کشی کے فرضی الزامات لگا کر اقلیتی فرقہ پر جو ظلم ہورہاہے اسے ملک کا ہر فرد جانتاہے ایک سازش کے تحت اچانک گوشت کا کام ٹھپ پڑ جانیکے نتیجہ میں صرف اتر پردیش ہی کے لاکھوں افراد کیلئے آج ایک وقت کی روٹی نصیب ہونا لگاتار مشکل سے مشکل تر ہوتاجارہاہے وہیں گؤ کشی کے نام پر حملہ ک کئے جارہے ہیں درجن بھر افراد گؤ کشی کے جھوٹے الزام میں ابھی تک مارے جاچکے ہیں مگر سرکار تماشائی بنی ہے! سوشل رہبر اور پچھڑا سماج مہاسبھا کے قومی نائب صدر عبدالصمد نے کہاکہ سرکار کو فوری طور پر پہلی فرصت میں ان لٹیپٹے گھروں کی جانب دیکھنا چاہئے اور گؤ کشی کے نام پر مار کاٹ کرنیوالوں پر سخت کاروائی کیجانی چاہئے تاکہ اقلیتی فرقہ میں اعتماد بنا رہے آج عدم رواداری کی واراداتیں عام ہے آدمی آدمی کی مدد سے پرہیز کانے لگاہے عوام ہندو مسلم بنتے جارہے ہیں انڈین کہلانیسے خد کو بچایا جارہاہے ہندو مسلم کا چرچہ عام ہے یہ شور شرابہ اور حرکات بد نصیبی کے سوائے کچھ بھی نہی ؟ اے صمد نے کہاکہ سرکار سلاٹر ہاؤس ہمیشہ کیلئے بند رکھے یا اپنی شرائط پر چلائے یہ سرکار کا معاملہ ہے گؤ رکشا کے لئے ایک اہم محکمہ قائم کرے اور ہر گائے کا حساب کتاب رکھاجائے جانوروں کے کٹے ہوئے گوشت کی جانچ کے لئے ایکسپرٹ ڈاکٹروں کی جانچ ٹیم کی تشکیل کیجائے تب جاکر فیصلہ نکالاجائے کہ گوشت کس جانور کاہے ہر گوشت کو گائے کا گوشت بتانا غیر آئینی فعل ہے اس افواہ پر لگام کسی جائے ! سوشل قائد نے کہاکہ ہمیں تو صرف غریبوں کے چولہوں کو جلتاہوا دیکھناہے لازم ہے کہ سرکار ان بیروزگاروں کے لئے روزی روٹی کا بندوبست کرے پھر جو چاہے کرے مسلمانوں کیلئے یہی کاروبار فرض نہی اگر سرکار چاہے تو مسلم فرقہ کے لئے بہتر روگار کے مواقع فراہم کرے؟
پچھڑا سماج مہاسبھا کے قومی نائب صدر بھائی عبدالصمد نے کہا ہیکہ ہمارے اکابرین اور علماء نے اس ملک کو اپنے خون سے سینچا ہے آج اسی ملک میں ہمارے ساتھ حق تلفی کی جا رہی ہے جو باعث شرم عمل ہے سچ یہ ہے دوسو پچاس سالہ دور میں ملک کا مسلمان آزادی کی جنگ میں دیگر اقوام کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلا اور آزادی کی جنگ میں ہزاروں وطن پرست ہمارے علماء کرام نے ہزاروں جاں باز مسلمانوں کو ساتھ لیکر انگریزوں کے خلاف شاملی کے تاریخی میدان میں جنگ لڑی اور شہادت کا جام پیا مگر اسکے باوجود بھی آج تک ہماری وفاداری پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں جو ایک عظیم اور سیکولر کردار والے ملک کے سوا ارب عوام کیلئے باعث شرم بات ہے ،سوشل رہبر اور پچھڑا سماج مہاسبھا کے قومی نائب صدر بھائی عبدالصمد نے کہا ہیکہ مالدار کو مالدا ر اور غریب کو نادار کرنیوالا مرکزی سرکار نے ماہ نومبر میں نوٹ بندی کے لئے سخت ا قدام اٹھاتے ہوئے ملک کے کروڑوں مفلسوں کوفاقہ کشی پر مجبور کیا اسکے بعد یوپی کی بھاجپا سرکار نے سلاٹر ہاؤس اچانک بند کراکر اور پچھلے دنوں جی ایس ٹی لاگو کئے جانے سے دوبارہ سے مفلس طبقہ پر اقتصادی تباہی کا حملہ بول دیاہے لگنے لگاہے کہ بھاجپا سرکاریں اب عوام کی کمر ہی توڑ دینے پر آ مادہ بیٹھی ہیں آپنے کہاکہ سرکار کو کوئی بھی کاروائی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ہی کرنی چاہئے مفلس اور نادار طبقہ کو روزی روٹی سے تنگ کیاجانا بھی آئین ہند کے خلاف ایک مجرمانہ عمل ہے آج پورے ملک میں مسلم فرقہ کے ساتھ ساتھ دلت اور پسماندہ طبقہ کو جس طرح سے اپنی سڑی گلی ذہنیت کا نشانہ بنایا جارہاہے وہ کسی طرح سے ملک کے مفاد میں نہی ہے پورے ملک میں مزارات، مدارس اور مساجدکے خلاف نازیبہ حملہ کرنے والے ، گؤکشی کے نام پر بھولے بھالے اقلیتی افراد کو نشانہ بنانے والے اور بار بار مسلم فرقہ کو ڈرانے اور دھمکانے والے متعصب سوچ کے لوگ سب کچھ کہنے اور کرنیکے کے بعد بھی آزاد گھوم رہے ہیں یہ غیر مہذب، خطرناک اور خلاف آئین فعل ہے بھاجپا سرکار ایسا جرم کرنے والوں کے خلاف بھی ایکشن لے افسوس کی بات ہے کہ بلاوجہ کمزور اور تنگ حال اقلتی فرقہ کو برا بھلا کہنے والے گندی ذہنیت کے لوگ سب کچھ کہنے اور کرنیکے بعد بھی آزاد گھوم تے ہیں جبکہ بناکچھ کئے اقلیتی طبقہ کو بار بار نشانہ پر رکھا جاتاہے ہماری مرکز سے مانگ ہے کہ ایسے غیر سماجی عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیاجائے تاکہ مسلم فرقہ خد کو اس سرکار میں غیرمحفوظ نہ سمجھے اور اطمینان سے زندگی گزارسکے ! اے صمد نے زور دیکر کہا کہ ملک میں ہمارے نوجوان، ہماری املاک، ہمارے مذہبی حقوق، ہماری مسجدیں ، مدارس اور خانقاہیں تک بھی اب محفوظ نہیں ہیں جو مراعات ملک میں گزشتہ ۲۷ سالوں میں بننے والی پچھلی سرکاریں ہمیشہ ہی اپنے فرقہ کہ لوگوں کو بڑھاوا اور تحفظ دیتی آ رہی ہے اسکا دس فیصد حصہ بھی آج تک اس ملک کے مرکز ی یا ریاستی سطح کے کسی بھی شہر، قصبہ یا محلہ میں ملک کے مسلم فرد کو کبھی بھی نہیں دیاگیاہے صرف کانگریس، سماجوادی اور بہوجن سماج پارٹی کی سرکاروں نے بلاوجہ کا شور شرابہ مچایاہے اقلیتی بہبودگی صرف کاغذات میں درج ہے عملی سطح پر کہیں بھی کچھ نہی ہے سرکاری ریکارڈ موجود ہے!