ایران میں قلم پروزارت ثقافت کا کنڑرول تصنیف و تالیف میں ’’ذرائع اہلِ سنت‘‘کی عبارت کا استعمال ممنوع

تہران22جولائی:ایران میں وزارت ثقافت نے ملک میں اہلِ سنت سے متعلق لکھنے والے مصنفین اور مؤلفین کو اپنی تحریروں میں “ذرائع اہلِ سنت” یا “سنی ذرائع کے مطابق” جیسی عبارتیں استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ وزارت نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ مصنفین کو کتابوں کے مرکزسی عنوانات کے تحت صرف “اہلِ سنت کے لیے مخصوص” کی عبارت استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی اِسنا کے مطابق وزارت ثقافت کے بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ “ان اصول و ضوابط کا مقصد ایرانی آئین میں تسلیم شدہ مذاہب کی اہانت نہیں بلکہ یہ اصول قانونی دائرہ کار میں بنائے گئے ہیں اور سپریم انقلابی کونسل نے ان کی منظوری دی ہے جس کے سربراہ ایرانی صدر حسن روحانی ہیں۔بیان کے مطابق وزارت ثقافت نے سنی مصنفین اور مؤلفین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فقہی اور مذہبی روایات نقل کرتے ہوئے “خصوصی سنی ذرائع” یا “سنی ذرائع کے مطابق” جیسی عبارتوں کا استعمال ختم کر دیں۔ایرانی وزارت ثقافت نے باور کرایا ہے کہ مؤلف کے عقائد و نظریات سے قطع نظر مختلف سیاسی ، سماجی ، فلسفیانہ اور ادبی موضوعات پر اہل سنت کی کسی بھی تحریر میں “سنی ذرائع کے مطابق” کی عبارت استعمال کرنے کی کسی طور اجازت نہیں ہے۔ادھر ایران میں 173 سنی مصنفین اور مؤلفین نے وزارت ثقافت کو ایک اپنے احتجاج پر مبنی ایک کھلا خط بھیجا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اہل سنت سے تعلق رکھنے والے لکھاریوں اور مترجموں کی کتابوں کے عنوانات کے نیچے “اہل سنت کے لیے مخصوص” کی عبارت حذف کی جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ وزارت ثقافت کے غیر قانونی فیصلے کے تحت ناشرین کو اہل سنت کی کتابوں کے سرِ ورق پر کئی برسوں سے “اہل سنت کے لیے مخصوص” جیسی امتیاز پر مبنی عبارت تحریر کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔خط پر دستخط کرنے والوں نے باور کرایا ہے کہ اس حوالے سے کسی قانون کے نہ ہونے اور اس امر کے قرآنی متون کے خلاف ہونے کے پیشِ نظر ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر نظرِ ثانی کی جائے اور کتابوں کے غلافوں پر سے امتیاز پر مبنی مذکورہ عبارت کو ختم کیا جائے۔ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے سنی ارکان نے ایک خط کے ذریعے صدر حسن روحانی سے مطالبہ کیا ہے کہ نئی حکومتی تشکیل میں اہل سنت کو بھی شامل کیا جائے اور مسلکی وجوہات پر ان کو کمزور کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ علاوہ ازیں زاہدان میں جمعے کی نماز کے امام و خطیب شیخ عبدالحمید اسماعیل سمیت ایران میں متعدد سنی مذہبی شخصیات نے حسن روحانی سے مطالبہ کیا ہے کہ اہل سنت کی موزوں ترین شخصیات کو ملک میں انتظامی اور قائدانہ منصبوں کے لیے چُنا جائے۔