مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں جھڑپ تین اسرائیل شہری ہلاک ہو گئے

مقبوضہ یروشلم22جولائی:اسرائیل کی افواج اور فلسطینیوں کے درمیان مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں جھڑپوں کے بعد چاقو زنی کے واقعات میں تین اسرائیل شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔مقبوضہ مغربی کنارے میں رملا کے قریب ایک بستی میں تین اسرائیلی شہریوں کو چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا۔اس کے علاوہ ایک اور اسرائیلی شہری پر حلامش میں حملہ ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔خیال رہے کہ یروشلم کے مقدس مقام پر نئے سکیورٹی انتظامات کیے جانے پر اسرائیلی فوج کے ساتھ فلسطینیوں کی جھڑپوں کے بعد یہ حملہ ہوا ہے۔مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں ہونے والی ان جھڑپوں میں تین فلسطینی ہلاک اور سینکڑوں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ادھر فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ حرم الشریف میں میٹل ڈیٹکٹر لگائے جانے کے بعد اسرائیل کے ساتھ اپنے تمام رابطے ختم کر رہے ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ قبل دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد مزید سکیورٹی کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔اسرائیلی فوج نے بتایا کہ حلامش میں ‘جمعے کو چار اسرائیلوں کو چاقو مارا گیا جب ایک شخص ایک نجی گھر میں گھس آیا۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ مرنے والے میں دو مرد اور ایک خاتون ہیں۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ حملہ آور ایک فلسطینی نوجوان عمر العابد ہے جسے ہسپتال لے جایا گیا ہے اور اس کی حالت کے بارے میں کچھ واضح نہیں ہے۔اس سے قبل اسرائیل کی افواج اور فلسطینیوں کے درمیان مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ فسادیوں کی جانب سے پرانے شہر کی دیواروں کے باہر پتھراؤ اور دیگر اشیا پھینکنے کے بعد پانی کے کینز اور اشک آور گیس پھینکی گئی۔اطلاعات کے مطابق ان جھڑیوں کے نتیجے میں تین نوجوان فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے۔خیال رہے کہ گذشتہ جمعے کو دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں۔تین اسرائیلی عرب مسلح افراد نے مقدس مقام حرم الشریف کیقریب ان دو پولیس افسران کو ہلاک کر دیا۔اس مقدس مقام کو مسلمان حرم الشریف جبکہ یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔خیال رہے کہ حرم الشریف اسلام اور یہودیت کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہیں۔یہودیوں کے لیے یہ دو یہودی مزاروں کا مقام ہے جبکہ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق یہ وہ جگہ ہے جہاں سے پیغمبر اسلام نے معراج کا سفر کیا تھا۔فلسطینی دھڑوں نے اسرائیل کی جانب سے مقدس مقام کے دروازے پر میٹل ڈیٹیکرز لگانے کے خلاف جمعے کو احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔فلسطینی اور اسلامی رہنما اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے ان اقدامات پر شدید اعتراض کیا ہے، ان کا موقف ہے کہ ایسا کرنا سٹیٹس کو کی خلاف ورزی ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کے لیے اسلحہ اس مقدس مقام تک اسمگل کیے جانے کے بعد سکیورٹی کے لیے ایسے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔خیال رہے کہ سنہ 1967کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر اپنا قبضہ قائم کر لیا تھا۔اسرائیل فلسطینیوں پراشتعال انگیزی کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ فلسطینی قیادت ان حملوں کاالزام دہائیوں سے اسرائیلی قبضے سے پیداہونے والی مایوسی پرعائد کرتی ہے۔