شفیق احباب میرے بعد برسوں مجھ پہ روئیں گے

نازش ہما قاسمی
9322244439
اب تو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ یہ سال امت مسلمہ کیلئے عموماً اور خصوصاً ہندوستانی مسلمانوں کیلئے عام الحزن ہے۔ کبار علمائے کرام کے جانے کا سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے، اس تیزی سے علماء کرام کی وفات تو شاید ماضی قریب میں واقع نہیں ہوئی ہے۔ امت مسلمہ جن مقدس ہستیوں کے زیر سایہ اپنی زندگی کو راہ راست پر لانے کیلئے کوشاں تھی اب یکے بعد دیگرے امت ان شجر دار سایوں سے محروم ہوتی جارہی ہے۔ شیخ عبدالحق محدث دارالعلوم دیوبند ، مولانا سلیم اللہ خان(صدر وفاق المدارس پاکستان) شاعر اسلام مولانا ریاست علی بجنوری (استادحدیث دارالعلوم دیوبند) اور مولانا ازہر صاحب رانچوی (رکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند و مہتمم مدرسہ حسینہ رانچی) جیسے کبار علماگزشتہ چار پانچ مہینے کے اندر اللہ کوپیارے ہوگئے ہیں۔ ابھی حال فی الحال میں امیر المومنین فی الحدیث شیخ یونس رحمۃ اللہ علیہ اس دار فانی سے دار جاودانی کی طرف روانہ ہوئے تھے اور ابھی یہ غم ہلکا بھی نہیں ہوا تھا کہ اہالیان ممبئی کے سروں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ وہ ذات گرامی جو نصف صدی سے اہالیان ممبئی کیلئے سایہ تھی اچانک تیز ہوا کے جھونکے ہمیشہ ہمیش کیلئے اسے اڑا لے گئے، جن کے علم و فضل سے اہالیان ممبئی اپنی تشنگی بجھا یا کرتے تھے وہ تشنگان علوم نبوت کو تشنہ لب چھوڑ کر مالک حقیقی کے پاس جا پہونچے، جن کی سرپرستی و صدارت میں ممبئی شہر کو دارالعلوم امدادیہ کی شکل میں مسلک اہلسنت والجماعت کا حقیقی ترجمان نصیب ہوا، ممبئی میں بسنے والے افراد کی زندگی کو شریعت کے مطابق لانے کیلئے پہلا دارالافتاء کا قیام عمل میں آیا۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں صفات حمیدہ کے مالک ہمارے روح رواں استاد محترم حضرت مولانا شفیق صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ بروز بدھ شام چار بجے ہم سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر چلے گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔جب یہ خبر میری سماعت سے ٹکرائی میں دم بخود رہ گیا، سوچ میں پڑگیا، مجھے اپنی سماعت پر یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میرے مربی استاد مولانا شفیق قاسمی جنہوں نے میری سات سال تک (عربی اول سے لے کر عربی ششم تک ) کفالت کی، جنہوں نے مجھے خودداری کا سبق سکھایا، جنہوں نے مجھے حق گوئی کا حوصلا دیا، جنہوں نے مجھے بتایا کہ دنیا میرے قدموں کے نیچے ہے تم بھی ایسے بننا کہ دنیا تمہارے پیچھے آئے نہ کہ تم دنیا کے پیچھے دوڑو۔ وہ اس طرح اچانک خاموش ہوجائیں گے۔ مجذوب صفت مالک استاد محترم کے جانے سے آج مدرسہ امدادیہ کی درودیواریں سوگوار ہے، وہ بچے جن کا سہارا مولانا کی شفقت تھیں آج وہ محروم ہوگئے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے ، اپنے محسن کی جدائی میں آنسو بہارہے ہیں۔ اساتذہ دارالعلوم امدادیہ اپنے مشفق سرپرست کے چلے جانے سے سکتے کے عالم میں ہیں۔

استاد محترم حضرت مولانا شفیق احمد قاسمی صاحب اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، کبار علماء سے اکتساب علم کے ساتھ ساتھ قناعت ، صبر ،جفاکشی، زہد و تقوی بھی آپ کو ورثہ میں ملا تھا، آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دارالعلوم امدادیہ میں درس و تدریس سے وابستہ رہ کر گزارا ہے۔ بلکہ آپ کی یہ خواہش رہی ہے کہ جب تک اللہ باحیات رکھے اپنے دین اور قرآن سے وابستہ رکھے، اللہ اپنے نیک بندوں کی خواہشات بھی پوری کرتا ہے، چنانچہ رمضان سے قبل پیرانہ سالی اور طبیعت کی ناسازی کے باوجود جلالین شریف کا درس دیا ہے اور عزم مصمم تھا کہ اگر اللہ نیمزید عمر میں برکت عطاء فرمائی تو جلالین شریف کا درس جاری رکھنا ہے ۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گاوں میں موجود مدرسہ ہدایت العلوم کرھی ضلع بستی میں اس وقت کے ولی کامل حضرت مولانا ہدایت اللہ علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں حاصل کی ۔بعد ازاں تکمیل علوم کی خاطر اپنے زمانہ کے مشہور و مسلم امیر المومنین فی الحدیث حضرت شیخ زکریا رحمۃ اللہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کیلئے مظاہر علوم سہارنپور تشریف لائے یہاں آپ نے کسب علم کے علاوہ حضرت شیخ اور ناظم صاحب حضرت مولانا اسعد اللہ رحمۃ اللہ علیہماسے روحانی فیض بھی حاصل کیا ۔ درس کے علاوہ آپ کا بیشتر وقت انہیں بزرگوں کی مجلس میں بسر ہوتا، مظاہر علوم سے فراغت کے بعد فن تفسیر میں کمال پیدا کرنے کیلئے آپ دارالعلوم دیوبند تشریف لائے، یہاں بھی آپ کا مشغلہ کتاب سے اس قدر شدید تھا کہ بسا اوقات کھانے کا دھیان بھی جاتا رہتا، دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوکر آپ نے اپنے گاوں کو میدان عمل بنایا اور مدرسہ ہدایت العلوم میں درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے، عربی درجات میں ابتدا سے ہفتم عربی تک کی تقریباً تمام کتابوں کو پڑھانے کا شرف حاصل رہا ہے پانچ سال تک آپ مسلسل وہاں اپنے علوم سے تشنگان علوم نبوت کو سیراب کرتے رہے پھر آپ نے ممبئی کا ارادہ فرمایا اور مدرسہ دارالعلوم امدادیہ کے مسند درس پر فائز ہوئے ، اور تفسیر کی معرکۃ الآراء کتاب جلالین شریف کا تقریباً چالیس سال تک درس دیا۔ آپ نے موجودہ دور میں بھی اپنے آپ کو دنیا کی محبت سے اس قدر دور رکھا کہ کبھی کبھار اپنے جیب پر ہاتھ مار کر فرمایا کرتے تھے دیکھو مولوی صاحب بجتا ہے بجتا ہے اور جب جیب بھرا ہوتا ہے تو دل سے خدا کا خوف نکل جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ نے ہمیشہ خود کو روپے پیسہ سے دور رکھا تھا۔ امیروں کی چاپلوسی ان کے نزدیک حرام تھی، وہ کبھی کسی صاحب زر سے مرعوب نہیں ہوئے، ان کے آگے اپنی دستار نہیں جھکائی، جب ہم اس مادیت پرستی کے دور میں حضرت الاستاذ کو دیکھتے تھے تو وہ پرانے زمانے کے درویش سے نظر آتے تھے، کپڑے انتہائی سادہ پہنتے تھے، انہیں زرق برق لباس سے الجھن سی تھی۔ بڑے بے نفس انسان تھے ، پوری زندگی خود نمائی سے کوسوں دور رہے، آپ کے بعد آنے والے لوگ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ، اپنی دنیا بنا لی لیکن آپ جہاں پچاس سال قبل تھے وہیں آخر دم تک رہے دنیا کو دیکھا تک نہیں۔ آپ مقاماتِ حریری کا یہ شعر
لولا التقی لقلت جلت قدرتہ
ترجمہ: اگر اللہ کا خوف نہیں ہوتا تو کہتا کہ سب سے بڑی طاقت پیسے کی ہی ہے ۔
کثرت سے سنایا کرتے تھے اور کہتے جب آٹھ سو سال پہلے یہ حال تھا تو اب سوچو اس زمانہ میں کیا ہوگا ۔ درس و تدریس سے اس قدر شغف کہ اگر کسی وقت کوئی طالب علم کچھ پوچھ لیتا یا کچھ پڑھانے کی فرمائش کردیا کرتا تو فوراً اس کیلئے تیار ہوجاتے ۔بیشتر وقت آپ مطالعہ میں گزارا کرتے تھے۔آج وہ نہیں ہے لیکن ان کی یادیں ان کی باتیں ہمیشہ ذہنوں میں زندہ رہے گی، ان کے چلے جانے سے مدرسہ امدادیہ یتیم سا ہوگیا ہے۔
حضرت الاستاذ مولانا شفیق صاحب شفیق جونپوری کا یہ شعر بھی ہمیشہ گنگنایا کرتے تھے ۔
شفیق احباب میرے بعد برسوں مجھ پہ روئیں گے
ابھی میں ہوں تو میری قدر پہچانی نہیں جاتی
واقعی آج شفیق کے احباب ان کی یاد میں رو رہے ہیں، اور برسوں تک روئیں گے ۔ اللہ مدرسہ امدادیہ کو نعم البدل عطاء فرمائے، خدا ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، آمین۔