سیاسی دخل اندازی سے اصل ملزمان اکثر بچ جاتے ہیں ؟

سہارنپور (احمد رضا)گزشتہ سال ماہ جنوری سے امسال ماہ جون تک ویسٹ یوپی میں جس قدر جرائم سے جڑی بڑی سامنے آئی ہیں انمیں سیاسی دخل کے نتیجہ میں اکثر اصل ملزمان بچ گئے اور بے قصو روں کو جیل کی روٹی کھانے کو مجبور ہونا پڑ رہاہے اس سچ کو سبھی جانتے ہیں مگر پولیس کی رپورٹ کو عدالتیں بھی سہی تسلیم کرتی ہیں اسی بنیاد پر اصل ملزم دھن اور بل کے باعث بچا لئے جاتے ہیں؟ گزشتہ سال یہاں چار بنکوں اور دس اے ٹی ایم سے دنکے اجالے اور شام کے وقت عوام بنک اے ٹی ایم سے عوام کی رقم لوٹنے کی وارداتیں انجام دیگئی ہیں مگر سال بیت جانیکے بعد بھی اصل ملزم لمبے عرصہ بعد بھی پکڑ سے باہر ہیں جبکہ سیاست دانوں اور چند سینئر افسران کی رحم دلی سے ہر بڑی وارادات کو دبانیکے لئے اور ہنگامہ کے ڈر سے اکثر چھوٹے موٹے ملزمان کے سروں پر الزامات لگائے جارہے ہیں؟ بھاجپا سرکار کے وجود میں آجانیکے بعد سے تو ویسٹ یوپی میں جرائم کی باڑھ سے آگئی ہے جرائم پیشہ افراد سیاسی اثرو رثوخ کی بنیاد پر جرائم کرلینیکے بعد بھی بے فکر رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اب انکی سرکار ہے اسلئے خوف کس بات کا مغربی ضلع سہارنپور ، میرٹھ ، شاملی اور مظفر نگر کے درجن بھر علاقوں میں دس ہفتوں کے دوران قریب قریب قاتلانہ حملوں، قتل، فرقہ وارانہ جھڑپوں اور لوٹ پاٹ کی سنسنی خیز وارداتیں انجام دیگئی ہیں مگر چاہتے ہوئے بھی ابھی تک پولیس ان واردات میں شامل اصل لٹیروں کو ابھی تک گرفتارہی نہ کرسکی ہے آج کی یہ واردات بھی اسی انداز میں انجام دیگئی ہے ۔ آپکو بتادیں کہ ویسٹ اتر پردیش کے چند اضلاع میں گزشتہ سال کے آخری دوماہ کے دوران ڈاکہ ، لوٹ اور قتل کی وارداتیں رونما ہونے سے علاقہ کے عوام میں کافی غصہ اور دہشت پھیلی ہوئی ہے اس طرح کے سخت حالات دیکھنے کے باوجود بھی سیاسی نمائندے تماشائی بنے ہیں جبکہ جرائم پر جرائم ہوتے جارہے ہیں پولیس مجر مانہ ذہنیت رکھنے والے افراد پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کر رہی ہے سرکاری مشینری لفاظی کرکے عوام کو دلاسہ دینے میں مشغول ہیں!
ر یاستی ڈی جی پی بار بار پولیس کو سہی اور بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا بار بار اشارہ کر رہے ہیں مگر سیاسی اثر ورثوخ کے باعث پولیس اصل مجرموں کو پکڑ نہی پارہی ہے یہ چرچہ ابھی بھی گشت کر رہی ہے کہ گزشتہ سال مراد نگر کے علاقہ اندرا پوری میں رہنے والے اسکریب تاجر شاہد قریشی کے مکان پر گزشتہ ہفتہ رات کے ڈھائی بجے دھاوابولکر گھر کے سبھی افراد کو پہلے اپنے قبضہ میں لیا پھر سبھی کو باندھ کر الگ الگ کمروں میں بند کر دیا لگاتار گھنٹہ بھر گھر کا ایک ایک کونہ دیکھ کر ڈکیت قریب ۵۰ لاکھ کا مال لوٹ کر بہ آسانی فرار ہوگئے تھانہ مراد نگر کے انسپکٹر اور ایس ایس آئی نے ۲۴ گھنٹہ تک اس دلدہلادینے والی ڈکیتی کی خبر کو چھپائے رکھا اور تھانہ مراد نگر کے اندراپوری کے مقامی لوگوں کے تھانہ پر ہنگامہ کرنیپر پولیس نے شاہد ڈکیتی واقعہ کو معمولی لوٹ بتاکر خاموشی اختیار کرلی مگر نوئیڈا کے با اثر اسکرائیب تاجر شاہد کی شکایت پر جب پولیس کپتان نے از خد معاملہ کی چھان بین کرائی تو سچ سامنے آتے ہی پولیس کپتان دیپک کمار نے تھانہ انچارج سبودھ سکسینہ اور ایس ایس آئی روشن سنگھ کو لائن حاضر کر تھانہ میں دو سینئر داروغہ کو نئی تعیناتی دی گئی تاکہ جانچ سہی طور سے کیجا سکے کل دیر شام ایس ایس پی مراد نگر نے بتایاہے کہ گزشتہ ہفتہ شاہد کی گھر پڑے ڈاکہ کے ملزمان کی نشان دہی کر لی گئی ہے اور لٹیرے میرٹھ سے تعلق رکھتے ہیں ابھی اس دلدہلادینے والے معاملہ کی جانچ چل ہی رہی تھی کہ اس واردات کے کچھ ہی دن گزر نیکے بعد ہی اسی وقت اور اسی اہم علاقہ کے آس پاس دیر رات میرٹھ کے تھانہ جانی کے علاقہ گاؤں رسول پور کے رہنے والے باغات کے ٹھیکیدار آس محمد کے یہاں بھی ٹھیک اسی انداز میں درجن بھر مسلح ڈکیتوں نے حملہ بولکر گھر کے سبھی افراد کو ایک کمرے میں بند کر دیا بعد میں ڈکیتوں نے آس محمد سے الماریوں کی چابیاں چھین کر قریب ڈھائی کلو سونا، چھ کلو چاندی، قیمتی کپڑے، الیکٹرانک سامان اور نقد روپیہ لوٹ لئے اندازہ کے مطابق ڈکیت آس محمد کے مکان سے ایک کروڑ کا مال لوٹ کر بہ آسانی فرار ہوگئے ہیں جہاں مراد نگر کے ایس ایس پی دیپک کمار نے شاہد قریشی کے لٹیروں کو گرفتار کر نیکے لئے چھ ٹیمیں تشکیل دی ہیں وہیں آج میرٹھ کے ایس ایس پی جے روندر گوڑ نے دو جانچ ٹیمیں تشکیل دیکر ڈکیتوں کے خلاف مورچہ کھولا ہے تعجب ہے کہ دونوں ڈ اکہ میرٹھ کمشنری میں اقلیتی فرقہ کے افراد کے گھروں میں ایک ہی وقت اور ایک ہی انداز میں ڈالے گئے مگر سات ماہ تک بھی اصل ملزمان پکڑ سے باہر ہیں؟