مسلم خواتین کے لیے حلال جنسی گائیڈ پر تنازع

لندن20جولائی:اس موضوع پر شائع ہونے والی ایک کتاب ای کامرس ویب سائٹ ایمیزون پر فروخت ہو رہی ہے اور اس کی اشاعت پر تنازع شروع ہو گیا ہے۔دی مسلمہ سیکس مینیوئل(اے حلال گائیڈ ٹو مائنڈ بلوئنگ سیکس)کے نام سے شائع ہونے والی کتاب کی مصنفہ نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ہے اور موضوع کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے تخلص کا استعمال کیا ہے۔لیکن برطانوی اخباروں میں مصنفہ کے انٹرویو چھپے ہیں۔ برطانوی اخبار ‘دی ابزرور’ کے مطابق اس کی مصنفہ مسلمان ہیں۔اخبار میں ان کے بارے میں اس سے زیادہ معلومات نہیں دی گئیں اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ مصنفہ نے خود یہ گزارش کی ہے۔مصنفہ نے انٹرویو میں کتاب لکھنے کی وجہ بھی بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت ساری مسلمان خواتین، خاص طور پر روایتی خواتین سیکس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتیں۔مصنفہ کا دعویٰ ہے کہ وہ کتاب اس لیے لکھ رہی ہیں کیونکہ وہ مسلمان خواتین کی زندگی میں خوشی لانا چاہتی ہیں۔برطانوی اخبارٹیلی گراف سے بات کرتے ہوئے ایک مسلمان مصنفہ شیلینا جان محمد نے کہا کہ اگر یہ کتاب مسلمان خواتین سے منسلک فرضی خیالات تبدیل کرنے میں مدد دیتی ہے تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔اگرچہ کتاب پر تنقید بھی ہو رہی ہے مگر کچھ حلقوں میں اس پر عورتوں کے بارے میں روایتی سوچ کو تبدیل کرنے اور ان کے جسم سے منافع حاصل کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔کتاب کی مصنفہ ان الزامات سے متفق نہیں۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اس کتاب کے بارے میں مجھے بہت لوگوں نے ای میل کر کے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ ایک مسجد کے امام نے لکھا کہ اُن کا ارادہ ہے کہ وہ نئے شادی شدہ جوڑوں کو اس کی ایک کاپی دیں گے۔مصنفہ کے مطابق اس کتاب پر ایک ہی اعتراض ان کے سامنے آیا ہے وہ یہ کہ اس میں مردوں کو نظرانداز کیا گیا ہے اور تمام تر توجہ خواتین پرہے۔برطانوی اخبار ‘دی ابزرور’ کے مطابق مسلمان خواتین کی تنظیموں نے اس کتاب کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ مسلمان خواتین کو جنسی تعلقات کی وجہ سے بگڑنے والے رشتوں سے بچانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔برطانیہ میں مسلم ویمن نیٹ ورک کی سربراہ شائستہ گوہر کہتی ہیں ‘میں مکمل طور پر اس کے حق میں ہوں اور ایسا کیوں نہ ہو؟ سیکس کے بارے میں بات کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں سائنس بھی سیکس کے ذریعے خواتین کو حاصل ہونے والی جنسی لذت کی اہمیت کے بارے میں بتاتی آئی ہے۔