کانوڑ یاترا تحفظ کے نام پرمغربی یوپی کے عوام خوف وحراس کا شکار!

سہارنپور( خاص خبراحمد رضا) ملک میں خوف حراس پھیلاکر اقلیتی فرقہ کو نشانہ پر رکھنے کی ۷۰ سال پرانی سازش کو آج پوری طرح سے لاگو کیا جارہاہے اسمبلی میں پینٹ پاؤڈر ، کانوڑ یاترا پر حملہ ، امرناتھ یاترا پر حملہ کا بہانہ لیکر ملک کے ہر گوشہ خاص طور سے یوپی اور ہریانہ میں مسلمانوں پر طرح طرح سے حملہ جاری ہیں کانوڑ یاترا کے نام پر ، اسمبلی لکھنؤ میں پینٹ پاؤڈر بر آمد ہونے کے نام پر بھاجپاکی سرکا اور سرکار کے اپنے نمائندے از خد افواہیں اڑارہیہپیں اور خوف پھیلا رہیہیں کہیں بھی ہندو تیرتھ یاتریوں پر مسلمان حملہ نہی کر رہے ہیں اور نہ ہی یوپی اسمبلی میں ملنے والا پاؤڈر کوئی خطرناک بم بنانیوالازہریلا مادہ تھا؟ حیدرآباد کی قابل اعتماد جانچ لیبا ریٹری نے کل اپنی رپورٹ میں اس پاؤڈر کو معمولی پاؤڈر قرار دیکر یوپی سرکار ، پولیس اور انتظامیہ کی پول کھول کر رکھہ دی ہے اس طرح کی باتوں سے ظاہر ہے کہ ملک میں جو کچھ رونماہو رہاہے وہ غلط تصورات کا برا نتیجہ ہی ہے جس کے نشانہ پر مسلم فرقہ ہی کو رکھا گیاہے اور سبھی ظلم بھی اسی فرقہ پر کئے جارہے ہیں وزارت داخلہ یوپی، اے ڈیجی پولیس آنند کمار اور اسپیشل آئی جی میرٹھ کو اب کانوڑ پر حملہ کی افواہوں کے چلتے ہر لمحہ الرٹ رہنے کو کہاگیاہے جگہ جگہ جدید اسلحہ سے لیس فورسیز کا مارچ اور گزشت لگاتار جاری ہے سڑکیں کانوڑیوں اور پولیس کے جوانوں نے محصور کر رکھی ہیں عام آدمی کا گزر بیحد مشکل ہوگیاہے !
مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر مغربی یوپی میں شیو راتری کے موقع پر اور کانوڑ یاترا کے تحفظ کیلئے بہتر بندوبست کئے جارہے ہیں مگر شاید امسال کچھ زیادہ ہی جوش ظاہر کیاجارہاہے جو عام آدمی کیلئے باعث تشویش قدم ہے آپکو معلوم ہونا ضروری ہیکہ شیو راتری کے روز شیو جی پر پانی چڑھانے کی رسم کو لیکر مختلف مقامات سے چلکر ہردوار ہرکی پوڑھی سے جل یکجا کرنیوالے افراد کو کانوڑیہ پکارا جاتاہے گزشتہ تیس سال سے یہاں کے مغربی اضلاع میں ہریانہ، پنجاب ، شاملی، باغپت، بڑوت ، مظفر نگر اور میرٹھ سے آنے والے دس ہزار کے قریب پیدل اور ڈاک کانوڑیوں سے مسلسل چھہ دن تک ہمارے اہم علاقوں میں میلہ سالگا رہتا تھا مگر کہیں کوئی دقعت یا الجھن کانوڑ لیجانے والوں کو نہی تھی عوام کے بیچ سے ہزاروں کانوڑئے آتے جاتے تھے آپکو یہ بھی بتادیں کہ ایک سو دس کلومیٹر کے کانوڑ آنے جانے کے راستہ مسلم اکثریتی علاقوں سے گھرے ہوئے ہیں مگر خدا کا کرم ہیکہ گزشتہ تیس سالوں سے اس سو کلومیٹر لمبے راستہ پر کوئی اڑچن پیدا نہی ہوسکی ہریانہ کے ضلع جمنانگر سے اترا کھنڈ کے اہم ضلع ہردوار کے جوالاپور تک سیکڑوں مسلم اکثریتی علاقہ موجود ہیں اور لگاتار تیس سالوں سے یہ کانوڑیہ اسی راستہ سے گزرتے آرہے ہیں آن ریکارڈ کہیں کچھ نہی ہوا مگر پچھلے دس سالوں سے ملائم سنگھ ، مایاوتی اور اکھلیش کے راج کاج میں ان کانوڑیوں کی یاتیا کوبھی بھگوا بنا دیاگیاہے مساجد اور مدارس کے سامنے فجر سے لیکر عشاء کی نمازوں کے درمیان یہ کانوڑیہ ہر دومنٹ کے وقفہ کے بعد زبردست شور شرابہ اور ڈے جے کے ساتھ گزرتے رہتے ہیں ان کی تمام بیہودہ حرکات نظر انداز کی جاتی ہیں جبکہ سب سے زیادہ الجھن کا شکار بن تاہے اقلیتی فرقہ اور اس بد نظمی کیلئے مکمل طور پر ذمہ دار ہے مقامی پولیس اور انتظامیہ کیونکہ یہ سب کچھ دھرم کرم کیلئے نہی بلکہ داداگری ثابت کرنیکی غرض سے زور وشور سے انجام دیا جاتاہے کبھی یہ تعداد ایک ہزار تک محدود تھی مگر چند سال سے یہ تعداد اچانک دس ہزارسے تیس لاکھ تک پہنچ گئی اور اس پر تعجب یہ کہ ان سبھی کانوڑیوں کی بھاری بھیڑ کو کنٹرول کرنیکے بجائے دس دن تک عوام کوہی گھروں اور انکے علاقوں میں محصور کردیاجاتاہے سوکلو میٹر لمبے راستہ میں آنے والے سبھی مسلم کھانہ کے ہوٹل جبریہ طور سے دس دن تک بند کرادئے جاتے ہیں دس روز تک سو کلومیٹر کے بیچ پھیلی ہوئی تین کروڑ عوام کی گھنی اور ملی جلی آبادی والے اہم علاقوں میں ان کانوڑیوں کو کھلا چھوڑ دیا جاتاہے کانوڑ کے آنے جانیکے لئے مین راستوں پر خاص پلاننگ کے مطابق سبھی طرح کے وہیکل سڑکوں سے دور کردئے جاتے ہیں جگہ جگہ پولیس کی گہری نظروں کے سامنے کانوڑ یوں کینہانے سونے اور کھانے کیلئے سواگت کیمپ لگادئے جاتے ہیں جہاں ان کانوڑیوں کو مفت کھانہ ، پینا ، نہانہ اور طبی علاج کے ساتھ ساتھ بھجن اور کیرتن کا سازوسامان بہ آسانہ فراہم کیا جاتاہے ! پچھلے پانچ سالوں سے تو یہاں کانوڑ تحفظ کے نام پر عوام کو خوف میں مبتلاکیاجارہاہے لگاتار دس دن تک سبھی چھ اضلاع میں بسیں ، کاریں ، ٹرک، سائکلیں اور اسکوٹر تک کا چلنا بند رہتاہے مین راستوں پر بلیوں کی باڑ لگادیجاتی ہے ہر آنے جانے والے پر کڑی نگاہ رکھنے کے علاوہ مریضوں کا معالجوں کے پاس آنا جانا بھی مکمل طور سے بند کردیاجاتاہت پرائمری اسکول سے لیکر ڈگری کالج تک ہفتہ بھر کیلئے کانوڑیوں کے سواگے میں بند کردئے جاتے ہیں کل ملاکر کانوڑ کو تحفظ دینے کینام پر یہاں گزشتہ دس سالوں سے ایک سو دس کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والے عوام کو تنگ وپریشان کیا جارہاہے اسی لمبے روٹ پر دس دنوں کیلئے اب صرف اور صرف پولیس اور کانوڑیہوں کا دبدبہ قائم رہتاہے عام مجبور آدمی ضروریات پورا کرنیکے لئے سامان کی خرید کیلئے در در بھٹکتارہتاہے!