جنگ بندی لائن پر کشیدگی،وادی نیلم میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی

مظفر آباد، 18؍جولائی :وادی نیلم میں حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز ہندوستانی فوج کی طرف سے پاکستان آرمی کی ایک گاڑی کو نشانہ بنانے کے بعد وادی نیلم میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اتوار کے روزہندوستانی فوج نے وادی نیلم میں کیرن کے مقام پر پاکستان آرمی کے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں چار فوجی مارے گئے تھے اور ایک ایک عام شہری زخمی ہوگیا تھا، جبکہ گاڑی دریا میں گرگئی تھی۔نیلم کے ڈپٹی کمشنر چودھری محمد فرید نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ اس واقعہ کے بعد علاقے میں موجود ہزاروں سیاحوں نے اپنے قیام میں توسیع نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی فائرنگ کے باعث دریا میں ڈوبنے والے چار پاکستانی فوجیوں میں سے اب تک صرف ایک کی لاش نکالی جا سکی ہے اور باقیوں کی تلاش کے لئے ٹیمیں سرگرداں ہیں۔کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائن پر واقع وادی نیلم سرسبز و شاداب پہاڑوں، ندی نالوں اور جھیلوں کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ لیکن، کنٹرول لائن پر متحارب افواج کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے سیاح وادی سے واپس چلے جاتے ہیں۔وادی نیلم میں عینی شاہدوں نے بتایا ہے کہ کنٹرول پار سے فوجی گاڑی پر فائرنگ کے بعد سیاحوں نے خوف و ہراس کے عالم میں علاقے سے نکلنا شروع کر دیا تھا۔ہندوستانی فوج کی طرف سے گزشتہ ہفتے کہا گیا تھا کہ کیرن سیکٹر میں پاکستانی فوج نے اس کے دو فوجیوں کو فائرنگ کر کے شہید کردیا ہے۔ اور اسی علاقے میں گزشتہ برس نومبر کے مہینے میں ہندوستانی فوج کی طرف سے مبینہ طوربر ایک مسافر کوچ پر فائرنگ کے نتیجے میں 10افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہو گئے تھے۔حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان پونچھ سیکٹر میں کشیدگی کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے علاقے راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان تیتری نوٹ کے راستے چلنے والے والی ہفتہ وار بس سروس دوہفتوں سے معطل ہے۔واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان 2003 میں ہونے والے لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کے معاہدے کے باوجودپاکستان کی جانب سے وقتاً فوقتاً جنگ بندی کی خلاف وزری کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جسکی خلاف ورزی کا الزام دونوں ملک ایک دوسرے پر عائد کرتے رہتے ہیں۔کشمیر کا علاقہ شروع سے ہی پاکستان اورہندوستان کے درمیان متنازعہ چلا آرہا ہے، ہندوستان اسے اپنا اٹوٹ حصہ اور پاکستان اسے اپنی شہ رگ قرار دیتا ہے۔وادی نیلم میں فوجی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کے بعد پیر کے روز پاکستان اور ہندوستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کا ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا ہے اور پاکستان کی طرف سے کیرن سیکٹر میں فوجی گاڑی پر فائرنگ سے چار فوجیوں کی موت اور ایک شہری کے زخمی ہونے پر احتجاج کیا گیا ہے۔