*سہارن پور کا چراغ*      ابن الحسن عباسی

      فصیل دیوار ودر کے باوجود ہندوستان کے تین علمی مراکز سے زندگی کا تعلق بہت گہرا ہے۔۔۔۔ دارالعلوم دیوبند عقیدتوں کا مرکز اور محبتوں کی آماجگاہ ۔۔۔ مظاہر علوم جسے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمتہ اللہ علیہ کی تحریروں سے شناسائی ہوئی ۔۔۔۔اور دارالعلوم ندوة  العلماء جس کے ساتھ تعلق حضرت علی میاں رحمہ اللہ کےقلم سے بنا۔۔۔ عالم یہ ہے کے ان اداروں کی زیارت کا زندگی میں کبھی  موقع ملے تو میری  معلومات کے ذخیرے میں شاید کوئی  اضافہ نہ ہو ۔۔۔۔ آج سہارن پور کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یونس جونپوری رحمتہ اللہ علیہ مسافران آخرت میں شامل ہو گئے ۔۔۔۔۔ حضرت کے درس سے خوشہ چینی کا میرا علمی تعلق دو عشروں پر محیط ہے،
12 ذی قعدہ 1413 ھجری کو جامعہ فاروقیہ کراچی کے شعبہ تصنیف میں میرا تقرر ہوا ،  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب  نور اللہ مرقدہ اپنے گھر کے مہمان خانے میں دارالتصنیف کی طرف میرے ساتھ ریگ میں  پڑی کاپیاں  منتقل کرنے لگے،  معلوم ہوا کہ یہ حضرت مولانا یونس صاحب مظاہری کے  درس بخاری کی تقریر ہے جو کیسٹوں میں تھی اور حضرت شیخ نے اپنی نگرانی میں اسے کاپیوں میں منتقل کیا،  دوسری تقریر حضرت شیخ کی اپنی تھی وہ فائلوں میں  کیسٹوں سے منتقل کی گئی تھی ۔۔۔۔
انہیں دونوں تقریروں کو بنیاد بنا کر کشف الباری کتاب المغازی کا آغاز کیا گیا ۔۔۔۔ دوران مراجعت  اندازہ ہوا کہ حضرت مولانا یونس صاحب انتہائی کثیر المطالعہ محدث  ہیں،   بعض اوقات وہ عام مراجع سے ہٹ کر کوئی بات کہ دیتے ،  وہ نہ ملتی تو میں  کبھی کبھار اسے چھوڑ دیتا، لیکن  بعد میں وہ قول کہیں نہ کہیں مل جاتا،اس لئے   پھر معمول یہ رہا کہ حضرت مولانا یونس رحمتہ اللہ علیہ کا قول اگر کہیں نہیں ملتا تو انہی کے حوالے سے نقل کر کے لکھ دیتا۔۔۔۔ ماوجدت في ما بين يدي  من المصادر…… وہ شبلی نعمانی کی  “سیرةالنبی “کے مداح تھے، فرماتے تھے بعض تفردات کے باوجود واقعات سیرت کی جو منظر کشی اس میں کی گئی ہے وہ بے مثال ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا یونس صاحب کے علمی مقام کا عالم یہ ہے کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمتہ اللہ علیہ  نے ” الابواب و التراجم ”  میں کئ جگہ ان کا نام لے کر ان کی رائے نقل کی ہے۔۔۔  یہ برصغیر کے جلیل القدر شیخ الحدیث کے اپنے شاگرد کے لیے خراج عقیدت ہے اور اس سے بہتر ھدیہ محبت  کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمتہ اللہ  علیہ ان کے نام 23رجب 1387 کواپنے خط میں لکھتے ہیں
“ابھی تدریس دورہ کا پہلا سال ہے  اور اس سیہ کار کو تدریس دورہ کا  اکتالیسواں سال ہے اور تدریس حدیث کا سینتالیسواں سال ہے اللہ تعالی تمہاری عمر میں برکت دے اور مبارک مشغلوں میں تادیر رکھے جب سینتالیس پر پہنچ جاو گے تو انشاءاللہ مجھ سے آگے ہو گے
(اس پرچے کو نہایت احتیاط سے کسی کتاب میں رکھیں اور چالیس سال بعد پڑھیں )
حضرت شیخ کے اس خط میں آئندہ نصف  صدی تک ان کی تدریسی خدمات کی طرف اشارہ تھا اور ایسا ہی رہا
مولانا یونس سہارنپوری رحمہ اللہ  28 رجب 1355 ھجری 2 اکتوبر 1937 کو پیدا ہوئے،  1380 میں فارغ ہونے 1381 میں مظاہر علوم میں تدریس کا آغاز کیا اور 1388 سے لیکر وفات تک تقریبا نصف صدی شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے ،وہ بجاطورہمارے اس دور میں أميرالمؤمنين فی الحدیث تھے ۔
آج  ان کے جنازے میں خلق خدا کا جم غفیر تھا ؛آٹھ کلو میٹر پرپھیلا ہوا  ہواتقریبا 10 لاکھ کا مجمع تھا جو انہیں الوداع کہنے کےلئے جمع تھا ۔۔۔۔۔اللہ ان کو غریق رحمت کرے اور امت مسلمہ کو ان کا بدل عنایت کرے ـ