برسر اقتدار ٹولے سے ملک کے دستور اور جمہوریت کو سنگین خطرات لاحق۔اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کو متحدہ پر دستور بچاو¿تحریک چلانے کی ضرورت: ڈاکٹر منظور عالم

آمنا سامنا میڈیا ،گلبرگہ ،۱۲ جولائی آج ملک پرجن طاقتوں کا تسلط ہے سےدستور اور جمہوریت کے وجود کو خطرہ لاحق ہے ۔ موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ مسلمانوں سمیت اقلیتیں اور کمزور طبقات ملک کے سیکولر ذہن کے لوگوں کے تعاون سے دستور کو بچانے کے لئے متحد ہوں ،ورنہ وہ وقت دور نہیں ہے جب منوسمرتی کو پوری طاقت سے نافذ کرکے انسانی حقوق کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ اس خدشے کا اظہار ممتاز دانشور مفکر ملت ڈاکٹر منظور عالم (جنرل سیکریٹری آل انڈیا ملّی کونسل نئی دہلی ) نے کیا۔ وہ کل دوپہر ملّی کونسل ضلع گلبرگہ کے زیر اہتمام شاداب فنکشن ہال میں منعقدہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کررہے تھے ، جو 30جولائی کو نئی دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں منعقد شدنی دستور بچاﺅ ملک بناﺅ کنونشن کے سلسلے میں الحاج ڈاکٹر قمرالاسلام سابق وزیر کی خصوصی دلچسپی سے طلب کیا گیا تھا۔ قمرالاسلام صاحب پیر میں موچ کے باعث اس میں شرکت نہیں کرسکے۔ڈاکٹر منظور عالم نے کہاکہ ہم دستور بچاﺅ ملک بناﺅ کی بات کیوں کررہے ہیں۔ کسی بھی آزاد جمہوری ملک کا دستور محفوظ نہ رہے تو ا نارکی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ کشت و خون اس کا طریقہ کار بن جاتا ہے ۔ مظلوموں کا خون اس قدر ارزاں ہوجاتا ہے کہ ماحول سازگار بنانے کے تمام طریقہ کار اختیار کئے جاتے ہیں۔ دستور اور جمہوریت کا درد ان کو ہوتا ہے جنہوںنے یا جن کے پرکھوں نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا ، قربانیاں دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہاکہ ہمیں دستور ہند کا دیباچہ پڑھنا چاہیئے ۔اس سے ہم میں اس انسانی حقوق کو بچانے کا جذبہ پیدا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں جذبے پر توجہ دینا ہے ، جذباتیت پر نہیں ۔ کیونکہ کسی مسئلہ کو جذبے سے حل کیا جاسکتا ہے ، جذباتیت سے نہیں ۔ دستور کے دیباچے میں ہر شخص کے لئے انصاف اور مساوات کی بات کی گئی ہے۔ ہر انسان کو آزادی سے رہنے ، سوچنے اور کام کرنے کی اجازت ہے۔ قرآن کریم بھی انہی باتوں پر زور دیتا ہے۔ یہ چاروں باتیں محورِ دستور ہیں ،جو قرآن سے لی گئی ہیں ۔ اس لئے یہ مسلمانوں کا دینی فریضہ بھی ہے کہ وہ ملک کے پورے معاشرے میں ان باتوں کو قائم کریں اور ان باتوں کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سینہ سپر ہوجائیں ۔ ہمارے رسول ﷺ کا پیغام بھی یہی ہے جسے ہم سب کو پہنچانا چاہئے ۔ ڈاکٹر منظور عالم نے کہاکہ سچر کمیٹی رپورٹ بھی بہت سے مسلمانوں نے نہیں پڑھی ہے ، اس کے دوسرے باب میں جسٹس راجندر سچر نے خوف کی نفسیات کا ذکر کرتے ہوئے کہاہے کہ کسی قوم کو برباد کرنا ہو تو اس میں خوفزدگی کی کیفیت پیدا کردو ۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مسلمانوں میں اس قدر خوف پیدا کیا گیا ہے کہ ہر رسی اسے سانپ لگتی ہے۔ مسلمانوں کو بُری طرح خوفزدہ کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر منظور عالم نے کہاکہ آج کل پورا ملک دو دھاروں میں چل رہا ہے۔ ، ایک دھارا منوسمرتی کا ہے ، جو اونچ نیچ اور عدم مساوات کا علمبردار ہے اس کے بقول سارے انسان برابر نہیں ہوسکتے ۔ انسانوں میں بھائی چارگی ممکن نہیں ۔ انسانوں میں کوئی بڑا ہے تو کوئی چھوٹا ہے ۔ یعنی اعلیٰ ذات کا ہے تو بڑا ہے ، کمزور اور پسماندہ ذات کا ہے تو چھوٹا ہے۔ یہ غیر انسانی فلسفہ ہے اس کے مطابق کوئی حاکم ہے تو کوئی محکوم ہے اس لئے انسانی مساوات کی بات کرنا غلط اور بے معنی ہے ۔ منوسمرتی کی دھارا کو آر ایس ایس نے اختیار کیا ہے ۔ 93سال تک آرا یس ایس نے اس حکمت پر کام کیا ۔ کمزور طبقات اور قبائل کے بارے میں منوسمرتی کیا کہتی ہے یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے (انھیں تو وہ انسان ہی نہیں مانتی ) منوسمرتی کے مقابلے میں دوسری طرف دستوری دھارا ہے آج ان دونوں دھاروں میں زبردست ٹکراﺅ ہے ۔ ہماری بد نصیبی ہے کہ تین سال قبل لوک سبھا کے انتخابات میں ہم لوگ یہ سمجھ نہیں پائے کہ کس دھارے کی جیت ہونے والی ہے۔ انھوںنے ملک میں خوف و دہشت کی فضاءکا دوبارہ حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے خود خوفزدہ نہ ہونے کی ہدایت دی ہے، یہ ڈرنے کا وقت نہیں ہے ، حالات کا مقابلہ کرنے کا وقت ہے ۔ زندگی کے بارے میں تو ہم اس بات کے قائل ہیں کہ جان دی ، دی ہوئی اس کی تھی….حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا ۔ انہوں نے کہاکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر دستور پامال ہوگیا تو یہ منوسمرتی کے دھارے کی جیت ہوگی ۔ انھوںنے کہاکہ بقول سلمان خورشید پچھلی یو پی اے حکومت میں مسلمانوں کو چیخ و پکار کی اجازت تھی موجودہ حکومت شکایت کرنے کے لئے منہ کھولنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ آر ایس ایس ، بی جے پی اور بجرنگ دل نے پہلے تو مسلمانوں کے مذہبی پہلوﺅں پر حملے کئے اور پھر مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔انھوںنے کہاکہ آگ کو جب کھانے کے لئے گچھ نہیں ملتا تو خود کو کھا جاتی ہے ۔ آر ایس ایس نے ملک میں جو آگ لگائی ہے وہ خود اس میں جل کر بھسم ہوجائے گی ،اس لئے اس سے ہمیں خوفزدہ نہیں ہونا چاہیئے۔ انھوںنے کہاکہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بالترتیب 80تا92فیصد غلط او ربے بنیاد باتیں چھپتی ہیں ۔ہم اس کا جواب دینے سے پیچھے ہیں جس کے نتیجے میں عام لوگ اس اسلام مخالف پروپیگنڈے کو صحیح سمجھنے لگتے ہیں۔ انھوںنے کہاکہ عملی طورپر مسلمانوں کو برادران وطن سے زیادہ قریب ہونے اور مساجد کے آئمہ اور علماءکو اسلام مخالف پروپیگنڈے کا جواب حقیقی تعلیمات پیش کر کے دینا چاہیئے ۔ ہمارا اتحاد اس لئے ضروری ہے کہ اسلام نے ہمیشہ وقار انسانیت پر زور دیا ہے۔ ہمیں کمزور اور پسماندہ طبقات کو قریب کرنے کی ضرورت ہے ۔ انھوںنے کہاکہ ملی کونسل نے 30جولائی کو دہلی کے تال کٹورہ انڈوراسٹیڈیم میں دستور بچاﺅ ملک بناﺅ کا نفرنس بلائی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں 50فیصد مسلمان اور 50فیصد یا اس سے زیادہ غیر مسلم دانشوران اور عوامی نمائندے شریک ہوں اور دستور اور بنیادی حقوق کا تحفظ صرف ہمارا مسئلہ نہیں ہے یہ ایک قومی مسئلہ ہے ہم اس کا قومی حل چاہتے ہیں ، ملک جن حالات سے گذر رہا ہے ہم بھی اس کا حصہ ہےں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ دستور بچاﺅ کانفرنس سے ایک ایسی چیز تخلیق پائے جس سے ایک بڑا پیغام قائم ہو ، بنیادی حقوق کا جو ڈھانچہ دستور میں ہے اسے کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ۔ 1973میں ایک کمیٹی بنا کر اس بات کا جائزہ لیا جاچکا ہے ۔ آج کے حالات میں ماہرین دستور ، ججس کا کوئی پینل بنایاجائے اور ججس کی اکثریت ایک ممبر کے فرق سے بھی کوئی غلط رائے دے دے تو بنیادی حقوق کی دستور سے چھٹی کردی جائے گی ۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں قومی مفاد کے لئے ہر مسئلے پر دستور پر یقین رکھنے والے انصاف پسند برادرانِ وطن کی حمایت حاصل کرنی ہوگی ۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں اپنی فکر نہیں لیکن ہماری آنے والی نسلوں کو کیا ان کے بنیادی حقوق کے ساتھ زندگی گذارنے کا حق دیا جائے گا۔ یہی سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے اور ملک کو لاحق خطرات کو دور کرنے کے لئے ملّی کونسل یہ کنونشن منعقد کرنے جارہی ہے ۔ صدر ملّی کونسل گلبرگہ مولانا غوث الدین قاسمی کی قرا¿تِ کلام پاک اور اسد علی انصاری کے نذرانہ نعت شریف سے کارروائی کا آغاز ہوا۔ نائب صدر ملّی کونسل ضلع گلبرگہ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے خیر مقدم کرتے ہوئے حالات کی سنگینی اور اس کے خاتمے کے لئے ملّی کونسل کی کوشش پر روشنی ڈالی ۔ اسد علی انصاری نے ملّی کونسل کی قومی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی۔ جلسہ کی سرپرستی حضرت سیّد ہدایت اللہ قادری صاحب قبلہ (سجادہ نشین بارگاہ حضرت سیّد شاہ حیات اللہ بادشاہ قادریؒ عملی محلہ ) نے فرمائی ۔ حافظ شریف احمد مظاہری، مولانا جاوید عالم قاسمی ، مولانا نصیر الدین رشادی نے خطاب کیا۔ عزیز اللہ سرمست (سکریٹری ضلع گلبرگہ ) نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ مئیر گلبرگہ شرن کمار مودی ،مولانا عبدالواحد رشادی ، مولانا شفیق احدم ، سید عبدالمقیم سید بارے ، ڈاکٹر وہاب عندلیب (سابق صدر کرناٹک اُردو اکاڈمی ) ، محمد اقبال احمد ، عبدالحمید فاران شہ نشین کی رونق تھے ۔ سابق مئیرس محمدزاہد ، سید احمد ،اختر حسین تیر انداز، حامد اکمل (ایڈیٹر روزنامہ ایقان ایکسپرس) ، محمد معراج الدین ، ولی احمد ، خواجہ پاشاہ انعامدار ، امجد جاوید ، افضال محمود ، واحد علی فاتحہ ، مرزا سرفراز بیگ وغیرہ نے شرکت کی ۔