حملے کے خدشہ کے باوجودکیوں ناکام رہی سرکار ،،بی جے پی دورحکومت میں دوسراحملہ قابل مذمت اویسی نے چین کی سرگرمیوں پرنظررکھنے کامشورہ دیا،کہا،سندیپ شرماکی گرفتاری اہم سوال کھڑاکرتی ہے

حیدرآباد11جولائی:امرناتھ یاتریوں پردہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے منگل کو مودی حکومت سے پوچھا کہ جب مسافروں پر حملے کے خدشہ کی خفیہ معلومات تھیں،پھر وہ انہیں بچانے میں کیوں ناکام رہی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ چین سکم سرحد پر کیا کر رہا ہے۔لشکر کے ساتھ رابطے پراترپردیش کے سندیپ کمار کی گرفتاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ممبرپارلیمنٹ نے کہا کہ اس نے ایک اہم سوال کھڑاکیاہے۔انہوں نے امرناتھ یاترا کو عازمین حج کے ساتھ جوڑنے کے لئے شیوسینا کی تنقید کی۔اویسی نے کہا کہ اگرشیوسینا دہشت گردانہ حملے کو لے کر ناراض ہے تو اسے اپنا غصہ حکومت پر خالی چاہئے۔حیدرآباد کے ایم پی نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ وہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں، کیونکہ جان لینے کا کسی کو حق نہیں ہے۔اویسی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے اقتدار میں آنے کے بعد امرناتھ زائرین پر دوسری بار حملہ ہوا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کواس بات کا جواب دینا چاہئے کہ حملے کے خدشہ کی خفیہ معلومات کے باوجود وہ ان کی حفاظت کو یقینی بنانے میں کیوں ناکام رہی۔یہ خبر میڈیا میں بھی 26جون کو آئی تھی۔لوک سبھا رکن نے کہاکہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت برسر اقتدار ہے اور جموں و کشمیر میں بھی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)کے ساتھ اس کی مخلوط حکومت ہے۔حکومت کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ وہ کیوں ناکام رہی۔انہوں نے کشمیر کے دہشت گرد سید صلاح الدین کی طرف سے دی ٹیلیگراف کو دیے گئے اس انٹرویو کی طرف اشارہ کیا جس میں اس نے اس طرح کے حملے کے اشارے دیے تھے۔اویسی نے کہاکہ یہی وقت ہے، جب مرکزمیں بی جے پی اپنی سمت کو بہتر کرے۔انہوں نے الزام لگایا کہ لشکر طیبہ اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر صلاح الدین وادی کشمیر میں 2008جیسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے۔عقیدت مندوں کی موت پر سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کی تنقید کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ انہیں لشکر اور آئی ایس آئی کو مسائل کھڑی کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے