ظہیر راہی اور مہک کیرانوی کو شان اردو کا خطاب شاعری دلوں کو جوڑتی ہے اردو پیار کی زباں ہے!

سہارنپور( احمد رضا)ملک کے نامی گرامی استاد شعراء میں ظہیرراہی کا نام بڑے ادب واحترام سے لیا جاتاہے گزشتہ روز کیرانہ کے ہردلعزیر چیئرمین بھائی راشد علی کے دولت کدہ پر مراد آباد پاک باڑہ کے استاد شاعرظہیرراہی کے اعزاز میں ایک پر وقار شعری نشست کا اہتمام کیا گیا جسمیں ملک کے نامور شعراء کرام نے شرکت فرماکر کیرانہ چیئر مین کے دولت کدہ پر منعقد ہ اس نشست کو خوب سراہا اور اور اپنے کلام سے سیکڑوں سامعین کو راحت بخشی اس خاص موقع پر اردو کو زندہ رکھنے والوں کے جذبہ کو سلام کرتے ہوئے چند معزز لب ولہجہ کے ادبی دوست عزیزی ظہیر راہی اور محترمہ مہک کیرانوی کو چیئر مین راشد علی نے گل پوشی کے ساتھ شان اردو کے خطاب سے سرفراز کیا اس موقع پر استاد شاعر ظہیر راہی اور مہک کیرانوی نے مہمانوں اور میز بان حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایاکہ شاعری دلوں کو جوڑنیکا قابل قدر عملی کام انجام دیتی آرہی ہے اور آج ہمکو اس قابل رشک اعزاز سے نواز کر کیرانہ کے عوام نے اس محبت کو ثابت بھی کر دکھایاہے اپنے خطاب میں استاد شاعر ظہیرراہی نے کہاکہ شاعری نے ہمیشہ محبتوں کے چراغ جلائے ہیں آج ہم جس مقام پر بھی ہیں یہ سبھی آپ سبھی کا پیار اور دعائیں ہی ہیں، اس خاص موقع پر کم عمر شاندار لب ولہجہ کی ممتاز شاعرہ مہک کیرانوی نے اپنے زبردست استقبال اور تالیوں کی گرج کے درمیان مغربی یوپی کے اس پر امن اور مہذب خطہ کے افراد کے ادبی شعور اور شوق کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ آپکی دعاؤں اور خوصلہ نے مجھے اور میرے قابل احترام بڑے بھائی ظہیر راہی کو اس مقام پر پہنچایاہے ہم اپنے سامعین کے بہت بہت شکر گزار ہیں!
قابل ذکر ہیکہ مہک کیرانوی کیرانہ کی ہی بیٹی ہیں کہ جو آج ملک اور بیرونی ممالک میں ممتاز شاعرہ کے طور پر اپنی پہچان رکھتی ہیں مہک کیرانوی کا کلام ملک اوربیرونی ممالک میں بھی روز بہ روز اردو شاعری کو نئی حرارت اور کبھی بھی ختم نہی ہونے والی معتبرمہکتی اور چہکتی اردو کوحقیقی الفت سے روشن کر رہاہے اسی راہ پر چلتے گزشتہ عرصہ مراد آباد کے ہزاروں سامعین نے جہاں معزز شاعرات اور شاعر حضرات کی موجودگی میں نامی گرامی استاد شعراء میں ظہیرراہی اور مہک کیرانوی کو انعام واکرام سے نواز کر مشاعروں کو مہک بخشنے والی مہک کیرانوی کی قابلیت کو سراہاتھا آج کے سخت ترین اردو مشاعروں کے دور میں کہ جہاں قابل قدرشاعروں کے عمدہ سے عمدہ سنجیدہ کلام کو نظر انداز کر صرف اور صرف جوشیلے کلام کو سراہا جا رہاہے اسلئے بھی اس سخت دور میں اپنے سنجیدہ کلام سے مہک کیرانوی ارود زبان کے ذریعہ مشاعروں کو جو تقویت اپنی سہل اردو والی شاعری کے ذریعہ عطا کر رہی ہیں اس عمدہ عمل کی جس قدر بھی تعریف کی جائے وہ کم ہی ہے یوں تو اس ملک کے عظیم کے مختلف قصبوں، شہروں اور کوچوں میں ایک سے بڑھ کر ایک شاعر پید اہوئے ہیں جو آج عالم کے ادبی حلقوں میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں مگر کم عمری اور بہت تھوڑے تجربہ سے ہی ادب نواز اردو دوست مہک کیرانوی نے اپنے کلام سے دنیا بھر کے مشاعروں میں اپنی سنجیدہ شاعری سے اردو کو جو بلند مقام عطا کیا وہ واقعی قابل کمشنری کے تاریخی قصبہ کیرانہ کے مہذب گھرانہ میں حامد خان کے گھر دلادت پائی گلفشاں خان مشہور ومعروف نام مہک کیرانوی آج کسی تعارف کی محتاج نہی سچائی بھی یہی ہیکہ کہ اندنوں مہک ہم سے دور ہوکر حیدآباد ( تلنگانہ )مقیم ہوگئی ہیں مگر سہارنپور کمشنری کی سرزمین پر رہنے والوں کوہمیشہ مہک یاد آتی رہیگی!