مدارس سے وابسطہ افراد نے ہمیشہ ملک وملت کی خوشحالی اور سالمیت کیلئے ہی جدوجہد کی ہےڈاکٹر عبدالمالک مغیثی

سہارنپور(احمد رضا) ناظم اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے آج یہاں مدارس کے سیکڑوں طلباء سے صوم صلوۃ کی پابندی اور سنت نبویؐ پر عمل کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ بچپن سے جو طالب علم نمازوں اور سنتوں پر عمل پیرا رہیگا انشاء اللہ ساری زندگی اس پر عمل کرتا رہیگا اور جس نے بچپن میں ہی نمازوں میں سستی سنتوں سے اعراض کیا پھر آئندہ چل کر اسکو عمل کرنا بڑامشکل ہوگا ناظم جامعہ رحمت مولاناعبدالمالک مغیثی نے طلباء کو اپنی بہتریں صلاح وتربیت کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی بھی یہ بڑی ذمہ داری ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلباء کی اصلاح وتربیت پر خاص دھیان دیں، مولانا نے مزید کہا کہ اکابرین دین تعلیم و تزکیہ کا مجموعہ ہوا کرتے تھے ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے ،الحمد للہ جامعہ میں شعبۂ حفظ وتجوید، ہائی اسکول، شعبہ فارسی ، عربی میں طلباء کی ایک بڑی تعداد باقاعدہ داخلہ لیکر حصول علم میں مشغول ہو چکی ہے، لیکن تاہنوز عربی فارسی میں داخلے جاری ہیں، خواہش مند طلباء جلد از جلد رجوع کرسکتے ہیں! مدارس کے طلباء کی اہم تقریب کے دوران اسلامی اسکالر مولانا اے آر وجدی نے فرمایاکہہمارے مدارس نے ہمیشہ ملک وملت کی خوشحالی ، بہتری اور سالمیت کیلئے جس قدر محنت اور جدوجہد کی ہے اسکا کوئی مقابلہ ہی نہی مدارس ہمارے اپنے دین کے مضبوط ستون ہیں ان ستونوں سیہی ملت اسلامیہ کا وجود باقی ہے اور یہ ہماراقومی اثاثہ بھی ہے ان کی دیکھ بھال اور ان کا تحفظ ملت اسلامیہ پر لازم و ضروری ہے،مولانا نے کہا کہ ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہمارے نبی اور قرآن نے ہمیں بے خوف زندگی گزارنے کاسبق دیاہے جامعہ گھگرولی میں ایک دینی اور علمی تقریب کے دوران اپنے اہم خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدرمحترم نے اپنے خطاب میں کہاکہ معاشرہ میں پھیلی برائیوں اور بدچلنی کو لگام دینے کیلئے ضروری ہے کہ عوام اہل اللہ کی طرف متوجہ ہوں اور ان کے ساتھ مل کر اپنے دینی اور دنیوی معاملات کی اصلاح کریں نیز صدر محترم نے مولانا عبدالمالک مغیثی مہتمم جامعہ ہذا کو اس مبارک تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اتنی قلیل مدت میں جامعہ کا اس قدر تعارف اور مقبولیت یقیناًجامعہ کے مہتمم اور اساتذہ کرام کی محنت اور خلوص کا نتیجہ ہے اور طلباء واساتذہ کو اصلاحِ نیت کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اگر نیت درست ہوگی تو طلباء کا آنا بھی مبارک اور اساتذہ کا آنا بھی مبارک نیز مولانا نے اساتذۂ جامعہ ہذا کو ہدایت کی کہ طلباء کے ساتھ اپنے بچوں کی سی شفقت کا معاملہ کریں اور بچوں کو بھی کہا کہ وہ بھی اساتذہ کو اپنے والدین کی طرح سمجھیں ،اس مبارک موقع پر صدرمحترم نے موجود تمام طلبہ کو مبارک باد پیش کی اور کہاکہ آپ حضرات کیلئے بڑی خوش نصیبی کی بات ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنے کلام عظیم کے سیکھنے سکھانے کیلئے قبول فرمایا ، اللہ تعالی جس انسان سے محبت فرماتے ہیں تو اس کو اپنے دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں تو اس لئے اللہ تعالی نے تمام انسانوں میں سے چن کر آپ حضرات کا انتخاب فرمایا ہے، اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے ،تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اسلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی نیتوں کو درست رکھیں اور علم دین صرف اور صرف اللہ کی رضا کیلئے حاصل کریں اللہ کے نبیؐ کا ارشاد ہے کہ علم دین کاحاصل کرنا ہرمسلمان عاقل بالغ مرد عورت پر فرض ہے ۔انہوں نے وقت کی قدرو قیمت اور اپنے اساتذہ اور آلات علم کا ادب احترام کو ضروری قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ علم بغیر عمل کے بے سود ہے ۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ اپنے اکابر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے امور لا یعنی سے بچتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مصروف ہوکر اپنے مستقبل کو تابناک بنانا چاہئے انہوں نے مزید کہا ، جو طالب علم زمانہ طالب علمی میں گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں ان کا علم انکو نفع پہونچاتا ہے ، اس کے بر خلاف گناہوں سے نہ بچنے والے اور دیگر امورِ دنیوی میں مشغول رہ کر علم حاصل کرنے و الے طالب علم کو انکا علم فائدہ نہیں پہونچاتا، امام شافعی ؒ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے حافظہ کی کمزوری کی شکایت اپنے استاذ امام وکیع ؒ سے کی تو انہوں نے گناہوں سے بچنے کی تلقین کی اور کہا کہ علم اللہ کا نور ہے اور اللہ کا نور گنہگار کو نہیں دیا جاسکتا انہوں نے طلبہ کو اسوہ رسول اور اسلامی شعائر کو اپنا نے پر زور دیا اور کہا کہ ہمارے اکابر کی عملی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے