جی ایس ٹی پرکانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو گھیرا معذورافرادکی ضروری اشیاء پرلگا ۱۸فیصدٹیکس غلط ؛ راہل گاندھی

نئی دہلی،3جولائی: کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو گھیرتے ہوئے ایک بار پھر الزام لگایا ہے کہ جی ایس ٹی کو غلط طریقے سے لاگو کیا گیا ہے، جو کہ عملی طریقے سے باہر ہے۔کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ جی ایس ٹی ایک بہت ہی متاثر کن اور مثالی ٹیکس نظام ہے لیکن یہ کس طرح غلط طریقے سے لاگو کیا جائے اسے سیکھنا ہے تو این ڈی اے سے سیکھیں۔وہیں اس سے پہلے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے معذورین سے متعلق تمام چیزوں سے جی ایس ٹی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔راہل نے پیر کو ٹوئٹ کرکے کہا کہ وہیل چیئر، بریل ٹائپ رائٹر کے مہنگا ہونے سے لاکھوں معذور لوگوں کو زیادہ مشکل کا سامنا کرنے پڑے گا۔
جی ایس ٹی کا اثرمعذور بچوں کی اشیاء اور لوگوں کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی ادویات، معذور افراد کی گاڑی پر اثر پڑ رہا ہے،اسے غلط طریقے سے لاگو کیا گیا ہے،کچھ اچھے پہلویس ٹی کے دائرے میں لانے سے ملک بھر میں حکومت کے تئیں ناراضگی دکھائی دے رہی ہے۔ہندوستان کی تقریبا 6 فیصد آبادی معذور ہے،2006سے لے کر ابھی تک معذورین کے آلات ٹیکس کے دائرے سے باہر تھے لیکن اب حکومت نے ان پر 5سے لے کر 18فیصد جی ایس ٹی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔بیساکھی، ٹرائی سائکل، مصنوعی اعضاء ، گھومنے والے لوازمات، بحالی آلات اور گاڑی پر 5فیصد جبکہ بریل پیپر، بریل گھڑیاں اور معاون اشیاء پر 12فیصد اور بریل ٹائپ رائٹر پر 18فیصد جی ایس ٹی مقرر کیا گیا ہے۔یہ تمام سامان جومعذورین کے لئے انتہائی ضروری ہوتے ہیں، اب مہنگے ہو گئے ہیں۔اس کا اثر معذورین کیلئے اس کی رسائی، روزگار، تعلیم اور روزمرہ کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔
کانگریس نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جن آلات پر حکومت کو سبسڈی دینی چاہئے تھی اسے جی ایس ٹی کے دائرے میں کیوں لایا جا رہا ہے؟ جبکہ حکومتیں خود ایسے آلات معذورین کے درمیان مفت تقسیم کرتی آئی ہیں۔ملک بھر میں ہو رہے احتجاج کے درمیان حکومت اب تمام آلات کو 5فیصد جی ایس ٹی پر لانے پر غور کر رہی ہے لیکن پانچ فیصد بھی کیوں ہو؟ سنیما کے 100روپے تک کے ٹکٹ پر 18فیصد اور بریل ٹائپ رائٹر پر بھی اتنا ہی جی ایس ٹی سے کیا احساس ہوتا ہے؟۔