مسلمانوں پر حملے کرنے والوں نام نہاد گؤرکھشکوں پر پابندی عائد کی جائے اورنگ آباد احتجاجی دھرنے میں ہزاروں مظاہرین نے شہداء کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی

اورنگ آباد : یکم جولائی ( رفیع الدین رفیق کی رپورٹ )
مسلمانوں اور اقلیتوں پر فسطائی خونی حملوں آور پر کاروائی کی جائے ، اخلاق سے جنید تک کے قتل عام میں ملوث نام نہاد غنڈوں پر آئی پی سی کی سخت دفعات کے تحت مقدمات درج کئے جائیں اور نام نہاد گؤرکھشکوں کے خلاف فوراً پابندی عائد کی جائے ۔ نفرت بھرے دل اورزہرا گلتی زبانوں کو بند کرنابے حد ضروری ہے ، ریاستِ اترپردیش کی حکومت اقلیتوں کے جان مال کا تحفظ کرنے کے لیے پابندی کیا جائے ۔ ہر شہید کے ورثاء کو ۲۵؍ لاکھ کا معاوضہ دیا جائے ۔ اس طرح کا مطالبہ شہر اورنگ آباد میں مسلم نوجوانوں کے قتل کی مذمت میں منعقدہ احتجاجی دھرنے کے بعد علاقائی کمشنر کی معرفت ارسال کردہ میمورنڈم میں کیا گیا ۔ شہر اورنگ آباد کی کل جماعتی مسلم نمائندہ کونسل کے بینر تلے تمام مکتب فکر کے ہزاروں افراد نے جن میں کثیر تعداد میں نوجوان شریک تھے ، آج دوپہر ۲؍ بجے سے ۳۰: ۴؍ بجے احتجاجی دھرنا دیا ۔ مظاہرین سے علماء کرام اور ملی قائدین نے خطاب کیا ۔ تیز بارش کے باوجود مظاہرین ہزاروں کی تعداد میں علاقائی کمشنر آفس کے باہر جمع تھے ۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ۔ مظاہرین آر ایس ایس اور گؤر کھشکوں پر پابندی عائد کی جائے کے نعروں سے علاقہ گونج اٹھا ۔ دھرنے کے اختتام پر صدر مسلم نمائندہ کونسل ضیاء الدین صدیقی کی امامت میں ہزاروں مظاہرین نے حافظ جیند و دیگر شہدا ء کی غائبانہ نماز ادا کی اوردعا مغفرت پر دھرنا اختتام پذیر ہوا ۔ اس کے بعدمسلم نمائندہ کونسل کے ذمہ داران نے صدر جمہوریہ ہند کو علاقائی کمشنر کی معرفت میمورنڈم ارسال کیا ۔ دھرنے کے اختتام پرنمائندہ کونسل کے صدر ضیاء الدین صدیقی نے ممبئی اُردو نیوز کو بتایا کہ : ’’ داردی کے اخلاق سے شروع ہونے والا یہ سانحہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور تازہ خبروں کے مطابق رانچی کے رام گڑھ میں علیم الدین انصاری کو اسی طرح گوشت کی افواہ پر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ : علیم الدین کا سانحہ اس وقت ہورہا تھا جبکہ وزیر اعظم مودی جانوں کی بلی پر بھاوک ( جذباتی ) ہورہے تھے ۔ بیانات ، افسوس و دل گری سے ہوتا کیا ہے ؟ گؤر کھشک بے مہارہیں خود وہ اپنوں کے کنٹرول میں بھی نہیں ہے ۔ ان کے رجسٹریشن کا لعدم قراردینے کی ضرورت ہے ۔ معصوموں کے قاتلوں کو پھانسیاں دینے کی ضرورت ہے ۔ اس مارپیٹ میں انتظامیہ اگر تماش بین بنی رہتی ہے تو ایسے کارندوں پر بھی قانون کے تحت کاروائی کی جانی چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ : سب کو مل جل کرایک امت بن کر ہی اس لڑائی کو لڑنا ہوگا تب ہی اللہ کی نصرت و مدد شامل حال ہوگی ۔ فرقہ پرستوں کی حکومت اگر سماج دشمن ،انسانیت کے دشمنوں ،ملک دشمن تنگ نظر جانوروں کے تحفظ کے نام پر انسانوں کے قاتلوں پر پابندی عائد نہیں کرتی تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے ۔مسلم نمائندہ کونسل امن پسند غیر مسلم بھائیوں کو ساتھ لے کر فرقہ پرستوں اور فرقہ پرستی کا مقابلہ کرے گی ۔