LOC پر ہند ۔ پاک فوج کے مابین گھمسان جاری ،2خواتین سمیت 3زخمی واٹرٹینکر تباہ ،کئی رہائشی مکانوں کو نقصان ،لوگ پریشان

سرینگر۔30جون : ایل او سی پر ہند ۔ پاک فوج کے مابین گھمسان پانچویں دن بھی رہا ،جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے دوران منجا کوٹ مینڈھر اور درد کوٹ اوڑی میں 2خواتین اور ایک فوجی اہلکار سمیت 3افراد شدید طور پر زخمی ،رہائشی علاقوں میں مارٹر شل کے گولے
گرنے سے لوگوں میں خوف و دہشت ،بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ،صورتحال انتہائی کشیدہ اور دونوں ملکوں کی جانب سے سرحدوں پر بھاری ہتھیار پہنچانے اور فوج کی تعیناتی میں اضافہ کرنے کی کارروائیاں جاری ۔ ذرائع کے مطابق حدمتارکہ اور بین الاقوامی کنٹرول لائن پر بھارت پاکستان فوج کے مابین پانچویں دن بھی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی جاری رہی ،دفاعی ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ منجا کوٹ ،مینڈھربالا کوٹ سیکٹر میں پاکستانی رینجرس نے 30جون صبح 5بجے بغیر کسی اشتعال کے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے بھارت کی چوکیوں پر گولہ بھاری کرنے کے علاوہ شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا اور پاکستانی رینجرس کی گولہ بھاری سے ایک فوجی اہلکار اور 40سالہ خاتون نسیمہ زوجہ غیاس الدین مارٹر شلوں کے چھرے لگنے سے زخمی ہوئے جنہیں علاج کیلئے راجوری کے ضلع اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالات خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے ۔ ترجمان کے مطابق بالا کوٹ سیکٹر میں پاکستانی رینجرس کی گولہ بھاری سے ایک فوجی واٹر ٹینکر کو بھی نقصان پہنچا اور پاکستانی رینجرس نے شہری آبادی پرمسلسل مارٹر گولے برسائے جس کے نتیجے میں کئی رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ۔ ادھر سرحدی قصبہ اوڑی کے درد کوٹ نامبلہ میں اس وقت سنسنی اور خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا جب بھارت پاکستان فوج کے مابین جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی اور دونوں ملکوں کی افواج نے ایک دوسرے پر ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے گولہ بھاری کی جسکی وجہ سے 45سالہ خاتون شکیلہ اختر زوجہ یار علی خان زخمی ہوئی جسے فوری طور پر سب ڈسٹرکٹ اسپتال اوڑی پہنچا یا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے ابتدائی مرہم پٹی کے بعد مزید علاج کیلئے ضلع اسپتال بارہمولہ منتقل کیا ۔ دفاعی ترجمان کے مطابق پاکستانی رینجرس کی گولہ بھاری کا سختی کے ساتھ جواب دیاگیا تاہم ان کے جانی و مالی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔ نمائندے کے مطابق بھارت پاکستان فوج کے مابین حد متارکہ پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی مسلسل جاری رہنے سے سرحد کے آر پار رہنے والے لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ پھر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔