بجلی چوری روکنے کیلئے اب صرف پچھڑے علاقہ ہی افسرانکے نشانہ پر !

سہارنپور ( جائزہ رپورٹ احمد رضا) آج ضلع کے مختلف علاقوں میں پاور کارپوریشن کے خلاف بہت سے مقامات مظاہرے کئے گئے اور بجلی آفسوں کو گھیراؤ بھی کیا گیا پچھلے کچھ دنوں سے کمزور، پچھڑے اور دلت علاقوں میں پاور کارپوریشن کے ملازمین اور افسران کا جبر کچھ زیادہ ہی بڑھ گیاہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج عوام بجلی ملازمین کے خلاف سڑکوں پر آنے لگاہے!
ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ لاکھ سہی کام کرنے اور کرائے جانے کا ڈنکا بجائیں مگر ریاست کے چند طاقتور منفی سوچ والے افسران ہمیشہ ہی اقلیتوں، پچھڑوں، پسماندہ طبقوں کے علاوہ دلت طبقوں کوہی نشانہ بناتے رہتے ہیں، اونچی ذات اور اونچی پہنچ والے افراد پر ہمیشہ ہی انکی عنایت رہتی ہے !سابق وزیر اعلیٰ کی سرکار میں جو ظلم اس فرقہ پر کیاگیا وہ کسی سے پوشیدہ نہی مایاوتی کے بعد سماجوادی کی اکھلیش سرکار جب وجود میں آئی تب بھی مسلم علاقوں میں سال۲۰۰۷ اور سال ۲۰۱۱ والی مسلم مخالف روایات کوہی دہرایاگیا اور سب سے زیادہ بجلی چوری کے نام پر انہی پچھڑے اور پسماندہ علاقوں میں جرمانہ اور چوری کے فرضی مقدمات قائم کئے گئے کوئی بھی افسر سچ اور جھوٹ میں فرق بتانے اور تلاش نے کو ہی راضی نہی ہوا نتیجہ کے طور پر یوپی میں بجلی چوری اور لاقانونیت کے نام پر زیادہ تر اقلیتی طبقہ کو نشانہ بنایاگیا؟
سوشل قائد فرقان احمد غوری نے کہاکہ وزیر اعلیٰ کا کہناہے کہ کسی بھی شکایت کے ملنے پر حکام خود موقع پر جائے اور جانچ کے بعد اس شکایت کا لازمی طور پر نپٹارا کریں اگر ایسا کرنے میں افسر ناکام رہتے ہیں تو انکے خلاف بھی سخت کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کمزوروں کو انصاف مل سکے ڈاکٹر فرقان غوری نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ وزیر اعلیٰ کے سخت لہجہ اور ہدایت کے بعد بھی افسران نے اپنا رویہ نہیں بدلا ہے اور عوام جس طرح پہلی سرکار میں تنگ و پریشان تھا اسی طرح سے اس سرکار میں بھی تنگ و پریشان ہیں عام لوگوں کا کہناہے کہ پاور کارپوریشن کے ملازمین، پولیس اور تحصیل کے افسر اور ملازمین عوام کی کسی بھی دکھ بھری بات کو سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں جو درخواست لیکر وہ محکمہ پاور کارپوریشن کے انجینئرس اور اسی طرح تحصیل کے افسران اور ملازمین کے پاس جاتے ہیں تو انکو بھگا دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے جو چاہو کرلو ضلع سہارنپور میں پاور کارپوریشن اور دیگر اہم محکموں کے افسران کی لگاتار کیجانے والی ہٹلر شاہی سب کے سامنے ہیں پچھڑے، پسماندہ، غریب ا ور مفلس عوام کے ساتھ محکمہ کے لوگوں کا رویہ شرمناک بنا ہوا ہے میٹر چیکنگ ، کٹیا سے بجلی چوری، کم یا زائد ریڈنگ اور اوورلوڈنگ کے نام پر عوام کا خون چوسا جا رہا ہے اس کے علاوہ بجلی چوری کے نام پر غریب لوگوں کے خلاف شہر اور دیہات کے علاقوں میں محکمہ کے لوگوں کا ظلم لگاتار جاری ہے عام لوگوں کا کہناہے کہ پاور کارپوریشن کے انجینئرس کے ذریعہ بجلی چوری کے نام پر زیادہ تر جھوٹی رپورٹیں ہی تھانوں میں درج کرائی جا رہی ہیں محکمہ کے افسران ان جھوٹی رپورٹوں کی جانچ کے لئے کسی بھی طرح سے تیار نہیں ہے پی سی افسران اور ملازمین کا صاف کہناہیکہ اگرآپ کو جیل سے بچنا ہے تو سیدھے ۰ ۳ ہزار کی رسید کٹواؤ اور اپنی جان بچاؤکیلاشپور ، چلکانہ، سرساوہ، نکڑا ور شہر سہارنپور کے مختلف علاقوں میں اس طرح کے معاملات سیکڑوں کے حساب سے ہر ہفتہ آن ریکارڈ ہو رہے ہیں لیکن ہٹلر شاہی کے جنون میں محکمہ کے افسران غریب عوام کی کسی بھی شکایت کو کسی بھی صورت سننے کو اور دور کرنے کو تیار نہیں ہے عوام کا صاف طور سے کہنا ہے کہ بجلی چوری کے نام پر ۴۰ فیصد پسماندہ، پچھڑے اور کمزور مسلمانوں کا استحصال عام بات ہے پولس کو بھی معلوم ہے کہ چوری کی رپورٹ جھوٹی ہے مگر پولیس بھی اور پولیس کے سینئر حکام بھی سب کچھ دیکھ کر خاموش تماشادیکھتے رہتے ہیں؟