شہید جنید کے اہل خانہ میں دو کو نوکری اور معقول معاوضہ جمعےۃ علماء کے وفد کے سامنے ڈی سی فریدآباد کااعلان، جمعےۃ کی ہریانہ کے وزیر اعلی سے ملاقات جلد

نئی دہلی:۲۷؍ جون
جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت کے مطابق تنظیم کے ایک وفد نے کھنداؤلی گاؤں میوات پہنچ کر ٹرین میں وحشیانہ حملے کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی ۔ عید کے دن جب کہ پورا ملک خوشی اور مسرتوں میں ڈوبا ہو اتھا ، کھنداؤلی گاؤں میں ہر طرف رنج و غم کا سایہ تھا۔جمعےۃ کا وفد، کل سوموار کو نمازعید الفطر کی ادائیگی کے بعد شہید جنید کے والدین کو تسلی دینے اور غم بانٹنے کے لیے وہاں پہنچا۔واضح ہو کہ اس سانحے کے بعد جمعےۃ علماء ہند کے مقامی ذمہ داران پولس انتظامیہ اور سرکار کے رابطے میں ہیں اور جمعےۃ کے ایک وفد نے پہلے ہی دن گاؤں کا دورہ بھی کیا تھا ۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی بھیڑ کی شکل میں ہورہے ان جیسے حادثات سے اس قدر رنجیدہ ہیں کہ انھوں نے ۳۰؍جون کو ہونے والی اپنی عید ملن تقریب بھی منسوخ کردی ہے ۔
وفد ،کھنداؤلی گاؤں پہنچنے سے پہلے فرید آباد میں پولس کمشنر حنیف قریشی اور ریلوے ایس پی کمل دیپ سے ملاقات کرکے رونما ہوئے اس افسوسناک سانحہ کے سلسلے میں ملک بھر کے لوگوں کے احساسات سے ان کو باخبر کیااور فوری اقدامات کی جانب توجہ دلائی۔ وفد کی گزارش پر کمشنر ، ریلوے ایس پی ، ڈی سی فریدآباد اور ایس ڈی ایم، متاثرین کے گھر پہنچنے کو تیار ہوئے ، حالاں کہ اس سے قبل کوئی اعلی ادھیکاری وہاں نہیں پہنچا تھا۔
کھنداولی گاؤں میں مقامی ذمہ داران ، متاثرین کے والد زین العابدین اور کمشنر حنیف قریشی ، ایس ڈی ایم امر دیپ سنگھ، ڈی سی اور مقامی ایم ایل اے مولچندن شرما کے سامنے مجرموں کی گرفتاری اور معقول معاوضے کے مطالبے پر زور دیا ۔جس پر ڈی سی فرید آباد نے شہید جنید کے اہل خانہ میں دو کو نوکری دینے کااعلان کیا ، نیز بتایاکہ وہ شہید کے والد کو سرکار کی جانب سے پانچ لاکھ روپے کا چیک دے چکے ہیں اور مزید پانچ لاکھ جلد ہی دیں گے، جہا ں تک گرفتاری کی بات ہے تو پولس انتظامیہ ہر طرح کی چھان بین کررہی ہے اور مجرموں کو سزا دلانے میں کوئی غفلت نہیں برتے گی ۔
جمعےۃ علماء ہند کے وفد کی سربراہی کررہے مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعےۃ علماء ہند نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر عوامی مقامات پر اس طرح کے ہورہے حملے انتہائی شرمناک ہیں، اس پر فوری روک لگنی چاہیے ۔مولانا حکیم الدین قاسمی نے بتایا کہ دہلی اور قرب وجوار کی ٹرینو ں میں شرارتی اور شدت پسند عناصر کے ذریعے دیگر مسافروں کو پریشان کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو اہے، مولانا محمو مدنی نے اس سے متعلق وزیر ریل حکومت ہند کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے کہ اس پر قد غن لگایا جائے ۔تاہم انھوں نے یہ اطلاع دی کہ جمعےۃ کا وفد جلد ہی وزیر اعلی سے مل کر موجودہ حالات پر بات کرے گا۔
جمعےۃ کے وفد کو سانحہ میں زخمی ہو ئے حافظ ارشاد نے بتایا کہ دس پندرہ افراد تھے جو ہمیں مارر ہے تھے ، ہمیں پاکستانی ، ملا، وطن دشمن، گوشت خور کا طعنہ دے رہے تھے ، افسوس کی بات تویہ ہے کہ ہم بھاگنا چاہ رہے تھے تو دوسرے لوگ بھی ہمیں دھکیل کر ان کی جانب لوٹا دیتے تھے ۔ ارشاد نے بتایا کہ ہمارے درمیان سیٹ کا کوئی اختلاف نہیں تھا ، ہم سے تو جس نے بھی جگہ مانگی ، جگہ دے دی ۔ درحقیقت ان لوگوں نے ہم سے اختلاف مذہب کی بنیاد پرکیا ، ہمارے وضع قطع ،لباس اور حلیہ پر پھبتیاں کسیں اور مجھے اور میرے بھائی جنید اور شاکر کو بڑی بے رحمی سے مارا اور بالآخر جنید نے میرے گود میں دم توڑدیا ۔یہ ایک افسوس ناک سانحہ تھا کہ جب چند لوگ آ پ کو ماردینا چاہیں اور ٹرین کی دوسر ی بھیڑ آپ کو اسی موت کے باڑے میں بار بار دھکیل دے ۔ جمعےۃ علماء ہریانہ ، پنجاب او رہماچل کے صدر مولانا یحیے کریمی نے کہا کہ جمعےۃ علماء ہند اس مقدمے میں اپنا بھی وکیل کھڑا کرے گی تا کہ مجرموں کو سزا ملے ، جب تک سزا نہیں ملے گی اس طرح کے واقعات پر روک لگانا مشکل ہو گا ۔وفد میں مرکز کی طرف سے مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعےۃ علماء ہند ، عظیم اللہ صدیقی قاسمی انچار ج شعبہ نشرو اشاعت جمعےۃ علماء ہند،جاوید کلیم الدین قاسمی ریاستی جمعےۃ کی جانب سے مولانا یحیے کریمی صدر جمعےۃ علماء ہریانہ ، پنجاب و ہماچل ، مولانا محمد علی نائب صدر جمعےۃ علماء ہریانہ ، پنجاب و ہماچل ، قاری آس محمد ،قاری محمد اسلم،مولانا عبدالمجید،حاجی عبدالرحمن، مفتی لقمان ، مولانا ناظر کریمی ، بھائی محمد خورشید جمال گڑھ وغیرہ شریک تھے ۔