موبائل کے تنازعہ کو لیکر فرقہ وارانہ چھڑپ ۱۸ زخمی فورسیز تعینات !

سہارنپور( احمد رضا) ضلع میں بات بات پر فرقہ وارانہ وارداتوں کے رونما ہوجانیکے نتیجہ میں آج بھی ضلع میں تناؤ موجود ہے پولیس فورسیز اور افسران کی سختی کے بعد بھی حالات پل پل میں کشیدہ ہونے لگتے ہیں کل دیر رات بھی گنگوہکے گاؤں بڈھا کھیڑا گاؤں میں موبائل کی معمولی سی بات نے فرقہ وارانہ تشددکی شکل اختیار کرلی جسکی وجہ سے دو فرقوں میں لاٹھی بلم چلنے لگے دیکھتے ہی دیکھتے دونوں فرقوں سے آٹھ خواتین اور آٹھ مرد بری طڑھ سے مجروح ہوگئے سبھی مجروحین سرکاری اسپتال میں زیر علاج ہیں سات مرد اور خواتین کو زیادہ سنگین حالت میں شہر کے سول اسپتال میں دیر رات بھرتی کرایاگیاہے جہاں چار کی حالت خون بہجانے سے زیادہ نازک بنی ہوئی ہے گنگوہ کے علاقہ کو سیل کرتے ہوئے گاؤں بڈھا کھیڑہ کو پولیس چھاؤنی بنا دیاگیاہے آج صبح سبھی بڑے

افسران نے موقع کا معائنہ کیا اور پولیس کو امن کے قیام کی بابت سخت ہدایت جاری کی ہیں!
قابل ذکر ہے کہ کل دیر رات بڈھا کھیڑا میں ایک موبائل کے مسئلہ سے دو بچوں کے درمیان کہاسنی ہوگئی اسی بیچ پردھان گروپ اور دوسرے فرقہ کے مکل گروپ کے دودرجن مرد اور خواتین اسی کہاسنی کولیکر سڑک پر نکل آئے بات بڑھتے بڑھتے لاٹھی ، ڈنڈوں اور بلموں تک آ پہنچی دھار دار اسلحہ سے دونوں فرقوں کی آٹھ خواتین اور آٹھ مرد بری طرح سے مجروح ہوکر امین پر گرپڑے جنکو گاؤں کے دیگر امن پسند افراد نے بہ مشکل اٹھاکر دیر رات سول اسپتال علاج کیلئے بھرتے کرایا جہاں سے معلجوں نے کچھ خواتین اور مردوں کو زیادہ خون ببہنے کی وجہ سے ضلع اسپتال میں بھرتی کادیاہے جہاں سبھی کا علاج جاری ہے نیوز کے لکھے جانے تک ضلع بھر میں دو فرقوں میں تناؤ بنا ہواہے مٹھی بھر غیر سماجی عناصر ابھی بھی عید کے موقع پر ضلع کے حالات بگاڑنے پر بضد ہیں جبکہ ضلع کا ذیشعور ہندومسلم عوام افسران کے ساتھ مل کر لگاتار دیر رات ہی سے دونوں فرقوں سے امن بنائے رکھنے کی پرزور اپیل کرتاآرہاہے گنگوہ کوتوالی کے درجن علاقوں اور مین راستوں کو پولیس کپتان ببلو کمار اور کلکٹر نے چھاؤنی میں تبدیل کردیاہے فورسیز لگاکر ؑ یر سماجی عناصر اور دنگائیوں کی پکڑ دھکڑ کیجارہی ہے ابھی تک اصل واقعات جاننے کیلئے ضلع افسران نے چھ افراد کو حراست میں لیاہے اسپتال کے باہر بھی بھاری پولیس، پی اے سی اور آر اے ایف کی بٹالین بھی تعینات ہے چپہ چپہ پر پولیس اور افسران نگرانی پر مامور ہیں عید کے باعث افسران کوئی بھی جوکھم اٹھانیکو کسی بھی صورت تیار نہی ہیں حالات کو سختی سے انڈر کنٹرول کیا گیاہے افواہ پھیلانے والوں اور بیہودہ باتیں بنانے والوں کی بھی گترفتاری جاری ہے دونوں جانب سے زخمیوں میں مکل، راجکمار، پردیپ کرشنا، سندیپ، راجیش، پوجا، کسم، شوانیاور رجت جبکہ صادق مزمل، صابرہ بیگم ، مظاہر، علی نواز، شوقین، پردھان بڈھا کھیڑہ حارث علی، جمیلہ، نسیمہ اور جلفانہ کو اسپتال بھی داخل کرایاگیاہے جہاں انکا اطمینان بخش علاج جاری ہےً!