نیشنل گرین ٹریبونل کے احکامات دھول بھری فائلوں میں دفن؟ بیس اضلاع کا پانی زہرآلودہ ہوجانیکے بعد بھی سرکار خاموش!

سہارنپور ( تجزیاتی رپورٹ احمد رضا ) ویسٹ اتر پردیش کی مشہور ومعروف ہنڈن ندی، کرشناندی اور کالی ندی ایک صدی پرانی اہم، خاص اور لمبی ندیوں میں شمار کیجاتی ہیں مگر مقامی فیکٹریوں کے گندے رساؤ، غلاظت، آلودگی اور لگاتار کیمیکل کے ان ندیوں میں گرتے رہنے کے سبب اب ان اہم اور خاص ندیوں کاپانی زہریلا ہوچکاہے ان ندیوں کے آس پاس بسے گاؤں میں کینسر، ٹی بی اور سانس کی بیماریوں کی بہتات ہے یہاں کے ۸۰ پانی کے نمونہ ٹیسٹ کیلئے بھیجے گئے تو ۶۸ نمونہ فیل پائے گئے اتناہی نہی بلکہ معالجوں نے گاؤں میں چار سالوں میں ہونے والی درجنوں موتوں کیلئے بھی اسی پانی کو ذمہ دار ماناہے آج بھی آس پاس کینسر کے سیکڑوں مریض یہاں موجود ہیں مگر سب کچھ جانتے ہوئے بھی مقامی انتظامیہ اور سرکار خاموش بیٹھی ہوئی ہے؟ گز شتہ سال ہنڈن ندی، کرشناندی اور کالی ندی کے علاوہ گاؤں میں موجود سیکڑوں ہینڈ پمپس سے نکل نے والے پینے کے پانی کی بابت ایک اپیل نمبر ۶۶ سن ۲۰۱۵ کی سماعت کے دوران سابق ماحولیاتی سینئر سائنسداں دوآب ماحولیاتی کمیٹی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر چندر ویر سنگھ نے اپنی پینے کے پانی سے متعلق خاص رپورٹ میں پانی میں موجود زہریلے جراثیم پر سوال اٹھائے تھے ڈاکٹر چندر ویر سنگھ نے اپنی پینے کے پانی سے اس متعلق خاص رپورٹ کو گرین نیشنل ٹریبونل(دہلی) میں داخل بھی کیاتھا اور معاملہ پر ضروری اقدام اٹھانیکی مانگ کی تھی اس معاملہ کی سماعت کے دوران ہی نیشنل گرین ٹریبونل (بھارت سرکار،دہلی)نے واضع کردیاتھاکہ ویسٹ اتر پردیش کی کالی ندی، کرشناندی اور ہنڈن ندی کے علاوہ آس پاس کے بیس سے زائد اضلاع کا پینے والا پانی زہریلاہوچکاہے اور جہاں جہاں سے یہ بڑی ندیاں گزررہی ہیں اب وہاں کاپانی بھی کسی بھی صورت پینے کے لائق نہی رہگیا ہے ! گرین نیشنل ٹریبونل(دہلی) کے احکامات کی روشنی میں ان اضلاع کاپانی اب خطرناک حد تک آلودگی اور گندے جراثیم سے بھرا ہوا ہے یہاں کا پانی استعمال کرنا اور پینا صحت کے لئے ہر صورت بہت ہی مہلک ہے مگر اسکے بعد بھی سرکار نے کوئی بندوبست آج تک بھی نہی کئے ہیں جو قابل تشویش اور قابل مذمت رویہ ہے یہ بھی سچ بات ہیکہ پچھلی سپا سرکانے بھی اس جانلیوا آفت سے عوام کو بچانے کاذریعہ تلاش نہی کیا !
قابل غورہے کہ گزشتہ سال موصول اطلاع کے مطابق سی پی سی ڈی (نئی دہلی ) نے نیشنل گرین ٹریبونل بھارت سرکار کو اپنی ایک اہم رپورٹ پیش کرتے ہوئے یہ بتادیاتھا کہ مغربی زون کے بجنور، میرٹھ، باغپت، شاملی، سہارنپور، بلند شہر،ہاپوڑ،مظفر نگر اور غازی آباد جیسے اہم اضلاع کے علاوہ دیگر بہت سے علاقوں کاپانی اب کسی بھی صورت پینے کے قابل نہی رہ گیاہے اس لئے بہتر ہے کی سرکار وقت رہتے جلد از جلد ان اضلاع میں علیحدہ طور پر صاف اور شفاف پینے والے پانی کا بندوبست کرائے اور یہ بھی تشہیر کرائی جائے کہ یہاں پانی پینے لائق نہی ہے اس اپیل سے متعلق افسران نے فوری طور سے خاص بندوبست کی ہدایت بھی جاری کرائی تھی مگر دوسال بعد بھی حالات بد سے بد تر ہی ہوتے جارہے ہیں کوئی توجہ ہی نہی ہے صاف کہناہیکہ اگر سرکار جلد ہی اس طرح کے اقدام نہی کرتی ہے توپھر حالات کسی بھی وقت بے قابو ہوسکتے ہیں جسکے نتیجہ میں عوام کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتاہے افسوس کی بات ہے کہ ایک سال کا قیمتی وقفہ گزرگیا مگر اس جانب سرکار نے کوئی معقول بندوبست آج تک بھی ایسانہی کیاکہ جس کے رہتے عوام کی قیمتی جانوں کو محفوظ کہاجا سکے ؟ ہمارے ان اضلاع کے ساتھ ہی ساتھ اب اتراکھنڈ کے چند ہمارے یوپی سے منسلک علاقوں کا پانی بھی پینے کے قابل نہی رہ گیاہے آپکو یہ بھی بتادیں کہ سرکار یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان اضلاع کا پانی آلودہ (زہریلا) ہو چکاہے مگر اسکے باد بھی عوام کی جانیں بچانے کے لئے پانی کی بہتر اور صاف شفاف سپلائی کے نظم پر سرکار اور حکام توجہ نہی ڈال رہے ہیں ان اضلاع کے سبھی افسران یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اس ضلع کے پانی کے صد فی صد پانی کے نمو نوں میں۶۹ فیصد پانی کے نمونہ گزشتہ ۱۰ سالوں سے لکھنؤ اور آگرہ لیبا ریٹیز لگاتار فیل کرتی آرہی ہیں مگر اسکے بعد افسران اورسرکار کاخاموش رہنا شک وشہبات پیدا کر تاہے اب تو ایسا لگنے لگاہے کہ شاید حکومت خد ہی اپنے عوام کوتندرست اور محفوظ دیکھنا ہی پسند نہی کر رہی ہے اور شاید اتنے خطرناک اور نازک وقت میں لاپر واہی اسی وجہ سے کی جارہی ہے! ضلع میں پینے کے پانی کی قلت کے سبب آج بھی ہزاروں لوگ مختلف بیماریوں سے دو چار ہیں گزشتہ ۶ سال کی مدت میں ضلع میں جتنے بھی مجسٹریٹ ضلع میں آئے سبھی نے بار بار ماتحت افسران کو اور نگر پنچایت ، ٹاؤں ایریا کمیٹی اور نگر پالیکاؤں کے مجاز افسران کو فوری طور پرپینے کے صاف و شفاف پانی کی سپلائی کے احکامات دئے مگر اسکے باوجود بھی ماتحت حکام گزشتہ دس سال کی طویل مدت کے وقفہ میں بھی مختلف موضی امراض سے جوجھتے اور خوف زدہ عوام کو پینے کا صاف شفاف پانی سپلائی کرنے میں پوری طرح سے ناکام بنے ہوئے ہیں؟