ملائم اور اکھلیش ایک با پھر آمنے سامنے17جولائی کو صدارتی انتخابات ملائم سنگھ این ڈی اے کے ساتھ جاسکتے ہیں،اپوزیشن کے اتحادپرضرب لگانے کی کوشش

لکھنو18جون :سماج وادی پارٹی (ایس پی)میں باپ بیٹے کے درمیان اب بھی سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے اور دونوں کی رائے ایک دوسرے سے جدا رہتی ہے۔اس بار ملک کے اگلے صدر کے انتخاب کے درمیان فاصلوں کی وجہ بن کر سامنے آیاہے۔ایک طرف قومی صدر کے طورپراکھلیش یادوجہاں بی جے پی کے خلاف متحد ہو رہے اپوزیشن کا حصہ ہیں، وہیں دوسری طرف ان کے والدملائم سنگھ یادونے این ڈی اے امیدوارکی حمایت کرنے کے اشارے دیے ہیں۔اس سال جولائی میں صدر پرنب مکھرجی کی مدت ختم ہونے والی ہے۔اس عہدے کے لئے 17جولائی کو صدارتی انتخابات ہونے ہیں۔فی الحال نہ تومرکزمیں حکمراں پارٹی نے اس سلسلے میں عوامی طور پر اپنے امیدوار کا اعلان کیا ہے اور نہ ہی اپوزیشن کی جانب سے کوئی نام طے کیاگیاہے۔اپوزیشن اس سلسلے میں نئی دہلی میں میٹنگ بھی کر چکا ہے، لیکن کسی نام پر حتمی مہرنہیں لگائی گئی ہے۔اس میٹنگ میں ایس پی کی جانب سے قومی جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ پروفیسر رام گوپال یادو شامل ہوئے تھے۔میٹنگ میں طے ہوا تھا کہ صدارتی انتخابات کے لئے نو پارٹیوں کا ایک پینل بنایا جائے گا۔ادھر بی جے پی کی جانب سے بھی مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کا سلسلہ جاری ہے۔مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور اطلاعات و نشریات کے وزیر وینکیا نائیڈو کی اس مسئلے پر ملائم سنگھ یادو سے ملاقات ہوئی تھی۔بتایا جا رہا ہے کہ ملائم نے این ڈی اے کے سامنے شرط رکھی ہے کہ وہ ان کے امیدوار کی حمایت کر سکتے ہیں۔ان کی شرط ہے کہ این ڈی اے امیدوار کٹر بھگوا چہرہ نہیں ہو۔اس کے ساتھ ہی تمام کی حمایت بھی اس امیدوار کو حاصل ہونا چاہئے۔اس طرح ملائم نے ایک طرح سے براہ راست طور پر اکھلیش کے خلاف اپنی منشا ظاہر کر دی ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کانگریس کوبھی جھٹکا دیاہے۔اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں کانگریس سے گٹھ بندھن کو لے کر ملائم آغاز ہی اکھلیش کی تنقید کرتے رہے ہیں۔انتخابات میں کراری شکست کے بعد انہوں نے اکھلیش کی مخالفت کرنے والے اپنے چھوٹے بھائی شیو پال یادو کو بھی برقرار رکھا۔اب جس طرح سے انہوں نے این ڈی اے کے تئیں نرمی دکھائی ہے، وہ بی جے پی کے خلاف متحد ہو رہے اپوزیشن کے لئے خطرے کا اشارہ ہو سکتاہے