سرکاری ملازمین اکثر عوام کا استحصال کرتے رہتے ہیں؟

سہارنپور (احمد رضا) آج بھی ہمارے ضلع میں سیکڑوں شکایتی معاملات پاور کارپوریشن ، ایس ڈی ایم صدر، تحصیل دفاتر، نگر نگم، چک بندی،شوگر فیکٹریز،آرٹی او محکمہ، جل نگم اور سپلائی آفس سے متعلق سیکڑوں شکایات مقامی سینئر افسرانکے سامنے عام دنوں میں اور ہر پکھواڑے تحصیل دوس یا پھر تھانہ دوس کے موقع پر پیش ہوتی رہتی ہیں ان شکایات پر کیا کار واہی ہورہی ہے اس غیر ذمہ دارانہ لاپر واہی پر متعلقہ افسران کی جانب سے کوئی بھی ٹھوس کاروائی مقررہ قت اور میعاد کے اندر سرکاری ملازمین کے خلاف نہی کی جاتی اور نہی کبھی لاپرواہی برتنے پر ملازمین کے خلاف سخت ایکشن لیاگیا ہے ہاں ایماندار اور سچ بولنے والے ملازمین کو وقت وقت پر بڑی بڑی آزمائشوں سے بلا وجہ گزنا پڑ تاہے رشوت خور ملازم اور چھوٹے افسران مزے لیتے ہیں تحصیل دوس پر ضلع بھر سے سیکڑوں شکایات موصول ہوتی ہیں مگر موقع پر چار یا پانچ شکایات پر ہی سہی کاروائی کیجاتی ہے باقی شکایات اگلے تحصیل دوس تک دھول میں دبی رہتی ہیںیہی ایک سچ ہیکہ وجہ سے عوام کی شکایتیں جوں کی توں قائم رہتی ہیں اور مظلوم عوام تنگی ا وپریشانی میں مبتلا رہتے ہیں عام چرچہ ہے کہ ریاست کے زیادہ اہم محکمات کے افسران عام آدمی کے ساتھ متکبرانہ رویہ اپناتے ہیں اور دھونس ڈپٹ سے پوچھ تاچھ کرتے ہیں دبنگوں کے ذریعہ فصل کٹنے اور ناجائز قبضہ کرنے کے معاملات پر جب تک پولیس جانچ کرتی ہے تب تک فصل ناجائز طور سے کاٹ لیجاتی ہے اور مافیاء زمینوں پر ناجائز قبضہ بھی جما لیتے ہیں! افسران سیاسی دباؤ میں یا پھر کسی سیاسی لیڈر کے دباؤ میں شکایت لیکر آنے والے عام آدمی کی شکایت سننا تو دور درخواست ہاتھ میں لیناتک بھی پسند نہی کرتے ہیں اگر یقین نہی ہوتا تو آپ اپنی کھلی آنکھوں سے ریاست کے سرکاری افسران اور ملازمین سے خد کسی شکایت سے متعلق مسئلہ پر پوچھ تاچھ کر کے دیکھ لیں کہ سچ کیاہے کانگریس اور بہوجن سماج کے لیڈران تو سرکاری دفتروں اور ملازمین کی یہ سچائی اپنی ہر تقریر میں لاکھوں کے مجمع میں بیان کرتے رہتے ہیں مگر اسکے بعد بھی سنوائی نہی کی جارہی ہے محکمہ پاور کارپوریشن نے عام آدمی کا جس طرح سے استحصال کر رکھا ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملتی جب سے سرکار نے بجلی چوری کو جرم قرار دیا تھا اسی وقت سے غریبو ں پر پاور کارپوریشن محکمہ کی جانب سے مصیبتوں کی باڑھ سی آگئی ہے محکمہ کا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا افسر جس چاہے کو بجلی چوری کا ملزم قرار دیکر اسکے خلاف متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کرا دیتا ہے نتیجہ کے طور پر جس کے خلاف رپورٹ ہوتی ہے وہ اپنی جان اور عزت بچانے کے لئے اندنوں بھاری رقم جرمانہ کے طور پر یا پھر محکمہ کے افسران یاملازم کو رشوت کے طور پر ادا کرکے اپنی جان بچاتا ہے اس طرح کے درجنوں کیس ہر روز اس شہر کے پسماندہ اور پچھڑے علاقوں میں رونما ہوتے ہیں جب انکی شکایت ضلع حکام سے کی جاتی ہے تو ضلع حکام بھی ان شکایتوں کو اسی محکمہ کے سینئر افسر کے پاس جانچ کے لئے بھیج دیتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس شکایت کو ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے اور شکایت کرنے والا محکمہ کی جانب سے اور زیادہ تنگ و پریشان کر دیا جاتا ہے حکام کو بار بار باور کرایا جا چکا ہے کہ اس طرح کی شکایت اپنی سطح سے کسی دوسرے محکمہ کے صاف ستھری ذہنیت والے افسر سے کرائی جائے تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ سچائی اور سچا وا قعہ کیا ہے اور پھر پولیس بھی بجلی چوری کے معاملات میں ایمانداری کے ساتھ جانچ کر نے سے خد کو کیوں بچاتی ہے پچھلے دو ماہ کے دوران صوبہ کے قابل قدر چیف سیکریٹری افسران کو عوم کی شکایات سنکر دور کرنے کے بار بار احکامات جاری کرتے رہے ہیں نئی یوگی سرکار کے نئے چیف سیکریٹری نے اپنا چارج سنبھال لینے کے بعد پہلی فرصت میں تمام اضلاع کے سبھی افسران کو تحریری طور پر آگاہکیاتھا کہ عوامی شکایتوں کا ازالہ فوری طور پر سب سے اہم مانتے ہوئے کیا جائے مگر افسوس کی بات ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی افسران نے اپنارویہ ابھی تک بھی نہی بدلاہے؟ پولیس ، تحصیل ، چکبندی ، اوقاف ، بیسک ایجوکیشن ، نگر نگم اورمحکمہ پاور کارپوریشن میں موجود افسران اور ملازمین پ آج بھی پہلی سرکاروں کیطرح ہی سے جو چا ہ تے ہیں وہ کر رتے ہیں مفلسی، پستی اور لاچاری سے انکا دور تک بھی واسطہ نہی ہے! مقامی عدالتیں بھی محکمہ بجلی کی شکایتوں کو اور پولیس کی ایف ۔آئی۔آر کو ہی درست مانتے ہوئے بجلی چوری کے ملزم کو سیدھے طور پر ضمانت دینے سے انکار کر دیتی ہیں جس وجہ سے غریب آدمی جھوٹے الزام کا ملزم ہونے کے باوجود موٹی رقم خر چ کر کے اپنی جان اور عزت بمشکل بچا پانے میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ ضلع انتظامیہ کے افسران اگر پولیس، پاور کارپوریشن ، ضلع سپلائی افسر، اوقاف ڈپارٹمنٹ، نگر نگم اور آرٹی او محکمہ کے خلاف خصوصی طور سے ہر دن آنے والی شکائیتوں کا ازالہ اپنی سطح سے منصفانہ طور پر کریں اور کرائیں تو عام آدمی کو بہت جلد اور سستے طور پر انصاف حاصل ہو سکتا ہے اور سچ بھی ظاہر ہو سکتاہے !