حالات ونبض شناس طبیب -پر وفیسر طارق منصور

ڈاکٹرایم جے وارثی
اداروں کے حق میں یہ بات انتہائی خوش کن ثابت ہو تی ان کے سمجھنے والوں کے ہاتھ میں باگ ڈو ر دی جائے۔ گہوارۂ علم وادب اے ایم یو کے لیے یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ ا یک ایسے ذی علم کو وائس چانسلر کے عہدے سے سر فراز کیا گیا ، جو نہ صرف چمنِ سرسید کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، بلکہ انتظامی امور میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ اس لیے اب امید کی جاسکتی ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں مادرِ علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے تعلیم وتدریس کے میدان میں جوکامیابیاں حاصل کیں ، ان کی افادیت کو عام کرنے میں پروفیسر طارق منصوراہم کردار ادا کریں گے ۔ کیوں کہ وہ اس ادارہ کو نہ صرف ساڑھے تین دہائی سے جانتے ہیں ،بلکہ ایک ماہر منتظم بھی ہیں ۔ بحیثیت پرنسپل انھوں نے جواہرلعل میڈیکل کالج کو جو وسعت دی ہے ، وہ ان کی انتظامی صلاحیتیوں کا لوہا منوانے کے لیے کافی ہے ۔ چند برس قبل انڈیا ٹوڈے نے اپنے سروے میں اس کالج کو میڈیکل کے بہترین کالجوں میں آٹھوا ں مقام دیا ہے ۔ اس لیے اے ایم یو کے کارکنا ن پر امید ہیں کہ پروفیسر طارق منصور وائس چانسلر کے دورانیہ میں مادرِ علمی کے لیے قابل ذکر فریضہ انجام دیں گے ۔
ڈاکٹری کے پیشے سے جڑے افراد ویسے بھی نبض ٹٹولنے کے ہنر سے خاطر خواہ واقف ہوتے ہیں ، مگر جس طبیب کے اندر نبض شناسی کے ساتھ حالات شناسی کا سلیقہ بھی پیدا ہوجائے وہ یاد گار کارنامے انجا م دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے پروفیسر طارق منصور چار چار صلاحیتیں رکھتے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ ڈاکٹر ہیں ،گویا نبض شناسی میں ماہر ہیں ۔ دوسرا یہ کہ وہ حالات اور ماحول کو اچھی طرح پرکھتے ہیں، اس لیے وہ انتظامی امور میں ماہر ہیں ۔ تیسرا یہ کہ وہ ہمیشہ طلبا کے درمیان رہے ، جس سے طلبا اور اداروں کے مسائل اور ان کے حل سے اچھی واقفیت رکھتے ہیں۔ چوتھا کہ یہ وہ چمنِ سرسید کے پروردہ ہیں، اس لیے وہ اس ادارے کی تمام تر صورتحال سے باخبر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالتے ہی انھوں نے جو پیش قدمی کی اور اپنے عزائم کا اظہار کیا ، ان سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آنے والے برسوں میں اس ادارہ کے لیے وہ کیاکچھ کریں گے۔ مدت کار کے ابتدائی دنوں میں ایڈمینسٹریٹیو بلاک کے آڈیٹوریم میں خطا ب کرتے ہوئے انھوں نے اے ایم یو انتظامیہ اور مختلف ہاسٹلوں کے پرووسٹ سے کہا کہ ٹیم ورک کر کے ہم اے ایم یو کو بلندیوں پر پہنچائیں گے ۔ اسی طرح عہدہ سنبھالنے کے بعد یونیورسٹی کی رینکنگ میں سدھار لانے کا عندیہ بھی ظاہر کیا ہے۔ اِن ابتدائی عزائم سے ظاہر ہے کہ وہ انتظامی امور میں مہارت رکھتے ہیں ۔ وہی ادارے کامیابی سے ہمکنار ہوتے رہتے ہیں ، جہاں پوری ٹیم مل کر ادارہ کو بنانے سنوارنے کا کام کرتی رہے ۔ ٹیم ورک سے فائدہ اٹھانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا سربراہ ٹیم کے ہرفرد سے بہتر رشتہ استوار رکھے ، جو کہ پروفیسر طارق منصور میں موجود ہے ۔ یہی وجہ ہے کہانھوں نے جہاں اپنی یونیورسٹی انتظا میہ سے بہت سی اہم اہم باتیں کیں ، وہیں انھوں نے معمولی معمولی باتوں پر
انتظامی امور میں اگر ادارہ معتدل رہے تو اس کا ہر شعبہ فعال ہوتا ہے۔ پروفیسر طارق منصور یہاں کے ہرشعبے کو مزید فعال بنانے میں مصروف نظر آرہے ہیں ۔ جس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ انھوں نے دور دراز ممالک میں رہ رہے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا سے بھی تعلق استوار کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس قدم سے ظاہر ہے کہ اس ادارہ کا نہ صرف تعلیمی گراف بڑھے گا ، بلکہ معاشی اعتبار سے یہاں خوشحالی بھی آئے گی ۔ محترم وائس چانسلر نے الیومنائی سے اپیل کی ہے کہ وہ آن لائن تعلیم سسٹم سے جڑکر یہاں کے تعلیمی نظام کو وسعت دی جائے ۔امید ہے کہ الیومنائی کے تئیں اس پہل میں کامیابی ملے گی ، جس سے یونیورسٹی کا بیک وقت دوطرح کا فائدہ ہوگا ۔ ایک یہ کہ دور دراز ملکوں میں رہ رہے طلبا یونیورسٹی سے جڑجائیں گے ۔ دوسرا یہ کہ الیومنائی سے یہاں کے طلبا کا رشتہ اور بھی مضبوط ہوجائے گا ۔ طلبا ان سے بہت کچھ بآسانی سیکھ سکیں گے اور ان کی مدد سے ملک اور بیرون ملک میں ملازمت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوں گے۔
ان سرگرمیوں اور پروفیسر طارق منصورکی پچھلی خدمات کے جائزہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ہر موقع پر یونیورسٹی کے مفاد میں قدم اٹھائیں گے ۔ جس سے ا س ادارہ کا نہ صرف تعلیمی سطح پر گراف بڑھے گا ، بلکہ یہاں کے طلبا ذہنی اعتبار سے بھی فکر مندی کا ثبوت دیں گے اور آنے والے برسوں میں یہ ادارہ کامیابی کی راہ پر بآسانی آگے بڑھتا جائے گا۔ کامیابی کی راہ پر گامزن ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے تمام عملوں کو ساتھ لے کر چلا جائے اور جو جس عہدہ کے لائق ہو، انھیں وہ عہدہ عطا کیا جائے تا کہ ہر فرد اپنے شعبے اور کاموں کے تئیں بہتر فریضہ انجام دے سکے۔پروفیسر طارق منصور نے اس ضمن میں پروفیسر عبدالسلام اور پروفیسر اسفر علی خان کو او ایس ڈی مقرر کرکے بھی ایک اچھا پیغام دیا ہے ،کیوں کہ اپنے عہدوں پر رہ کر وہ قابل ذکر فریضہ انجام دیں گے ۔
ہم علیگ برادری پرامید ہیں کہ پروفیسر طارق منصور اے ایم یو کو جتنی گہرائی سے جانتے ہیں ، اُتنے ہی اچھے انداز میں ادارہ کے مفاد کے لیے اہم فریضہ انجام دیں گے ۔ ہم اس لیے بھی پرامید ہے کہ ایم اے یو سے نہ صرف موجودہ وائس چانسلر کا قریبی رشتہ ہے بلکہ ان کے والد محترم پروفیسر حفیظ الرحمن بھی یونیورسٹی کے صدر شعبہ قانون اور فیکلٹی آف لا ء کے ڈین رہ چکے ہیں۔ ان کے دادا معروف وکیل مولانا عبدالخالق علی گڑھ بورڈ کے پہلے چیئر مین رہے ۔ ان کے بڑے بھائی پروفیسر رشید الظفرجامعہ ہمدرد دہلی میں وائس چانسلر کی حیثیت سے فریضہ انجام دیا ۔ گویا اس طرح ایم اے یو سے نہ صرف پروفیسر طارق منصور کا تعلیمی رشتہ ہے ، بلکہ ان کا پورا تعلیم یافتہ خاندان جذباتی سطح پر اس ادارہ سے والہانہ لگاؤ رکھتا ہے۔
میرے خیال میں اگر وائس چانسلرصاحب نے لا اینڈ آرڈر اور علاقائی گروہ بندی کو پنپنے نہیں دیا تو یونیورسٹی کو عالمی سطح پر ایک نمایاں پہچان دلانے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے اپنے بیان میں یہ صاف طور پر کہہ دیا ہے کے وہ کسی قیمت پر علاقائیت کو پنپنے نہیں دینگے اور کسی بھی فرد کو لا ائنڈ آرڈر اپنے ہاتھ میں لینے نہیں دیا جائیگا۔ اس طرح محترم وائس چانسلر نے اپنے عزائم کا اظہار کر دیا ہے۔ لیکن ہمیں ایسا لگتا ہے کہ اگر محترم وائس چانسلر پراکٹر کسی IPSآفیسر کو لے آئیں تو لا اینڈ آرڈر کے کسی بھی طرح کے معاملے سے نبٹنے میں آسانی ہو گی۔ آج قوم و ملت کو محترم وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور سے بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں۔(یو این این)
(مضمون نگار مشہور ماہر لسانیات اور کالم نگار ہیں ۔ ان سے warsimj@gmail.comپر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)