کیا پردہ عورتوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے؟‎

آمنا سامنا میڈیا
خاس مضمون۔ شبنم خان : گجرات کچھ

“مسلمان ابھی تک دقیانوسی زمانے میں جی رہے ہیں اور کافر ترقی پر ترقی کیے جا رہے ہیں۔ھماری عورتوں کا پردہ کرنا ھماری ترقی میں رکاوٹ ہے”
اس طرح کی باتیں ہم سنتے رہتے ہیں مگر ان باتوں میں حقیقت کا پہلو کِتنا ہے؟آیا واقعی پردہ ترقّی میں رکاوٹ ہے؟مسلمانوں کی ترقّی میں پردہ نہیں در حقیقت بے پردگی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔جب تک مسلمانوں میں شرم و حیا باقی تھی تب تک فتوحات پر فتوحات کرتے چلے گئے۔وہ پردہ نشین مائیں تھی جنہوں نےبڑے بڑے بہادر جنرل و سپہ سلار ،عظیم حکمران،علمائے ربانیین اور اولیاء کاملین کو جنم دیا۔جنّتی عورتوں کی سردار بیبی فاطمہ(رضی اللہ عنہا) با پردہ تھی،حضور غوثِ پاک(رضی اللہ عنہ) کی والدہ با پردہ تھی، ال غرض جب تک پردہ تھا تب تک مسلمان خوب ترقّی کے منازل طے کرتا چلا گیا اور کافروں پر غالب رہا اور جب بے پردگی کا سلسلہ شروع کیا تو تنزل کے امیق گدھے میں گرتا چلا جا رہا ہے۔
ہم سوچیں کے بے پردہ​ رہنا یا​ اپنی عورتوں کو بے پردہ گھومانے سے ہم کونسی ترقّی حاصل کر لینگے؟ میکپ کی ہوئی بیگم کو غیر مردوں کو دیکھا کر ہم کونسے ترقّی کے منازل طے کر رہے ہیں؟ کاش ہم ہوش کے ناخن لیں کے پردہ اور حیاء ہی ھماری ترقّی ہے اور بے پردگی رکاوٹ۔
یورپ امریکا جیسے ممالک جنکی ہم ترقی کی مثالیں دیتے ہیں ان میں کیا ہو رہا ہے!!!،
بے پردہ عورتوں کے “منہ کالے ہونے” کی خبریں آئے دن​ ہم سنتے رہتے ہیں،ان بنام ترقی یافتہ ممالک میں غیر شادی شدہ جوڑے کے حمل گرانے کی “فیسیلٹی” موجود ہے،حرام کے بچوں کی جائے پنآه وہاں پر قائم ہے،بدکار ماں اور بدکار باپ بیچارے بچے کو،جسکا کوئی قصور نہیں اسے کچرا کندیوں میں فیک رہے ہیں یہ سب بے پردگی اور ناجائز فیشن کا نتیجہ​ ہے۔آپکو سنکر حیرت ہوگی کہ دوسری جنگ​ے عظیم میں امریکہ اپنے دوست ملک برطانیہ کی مدد کو پہنچا ،اُسکے سپاہی اس جنگ کے لیے کچھ سال وہاں ٹھہرے تو پیچھے ۷۰,۰۰۰ حرامی بچے چھوڑ گئے۔اور یہ ہے آپکے مثالی ترقّی یافتہ ملکوں کی حالت۔بعض جگہ تو یورپ میں حرام بچوں کی پیدائش ۶۰٪ سے بھی متجاوز ہو چُکی ہے۔کنواری ماؤں کی تعداد میں اضافے،طلاق کی بڑھتی تعداد ،گھروں میں بے امنی وغیرہ مسائل قائم ہو چکے ہیں۔
کاش اس معاملے میں ہمارے مرد حضرات حساس ہو جائیں کے اکبںر الہبادی نے کیا خوب کہا ہے:
“بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں،
اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑھ گیا،
پوچھا جو ان سے آپکا پردہ وہ کیا ہوا،
کہنے لگیں وہ عقل پے مردوں کی پڑ گیا۔”

جو با وجودِ قدرت اپنی محارم عورتوں اور بیویوں پر غیرت نہ کھائے اور انہیں بے بردگی سے منع نہ کرے وہ​” دیوس ” ہے اور دیوس کے بارے میں حدیث پاک میں آیا ہے کہ “تین شخص کبھی جنت میں داخل نہ ہونگے،دیوس ، مردانہ وضع بنانے والی عورت اور شراب نوشی کا آدی”(مزمعز زوائد جلد ۴٬صفحہ۵۹۹،حدیث نمبر۷۷۲۲)