نکاح کرنا کیا حرام بھی ہے؟

آمنا سامنا میڈیا گجرات شبنم خان

نکاح کبھی فرض،کبھی واجب,کبھی مکروہ اور بعض اوقات تو حرام ہے.چنانچہ
۱)اگر یہ یقین ہو کے نکاح نہ کرنے کی صورت میں زنا میں مبتلا ہو جاےگا تو نکاح کرنا فرض ہے.ایسی صورت میں نکاح نہ کرےگا تو گنہگار ہوگا.

۲)اگر مہر و نان نفقہ دینے پر قدرت ہو اور غلبئہ شہوت کے سبب زنا یا بد نگاہی یا مشت زنی میں مبتلا ہونے کا اندےشہ ہو تو نکاح کرنا واجب ہے.اگر نہ کرےگا تو گنہگار ہوگا.
۳) اور اگر یہ اندیشہ ہو کے نکاح کرنے کی صورت میں نان و نفقہ و دیگر ضروری باتوں کو پورا نہ کر سکےگا تو نکاح کرنا مکروہ ہے.
۴)اگر یہ یقین ہو کے نکاح کرنے کی صورت میں نان و نفقہ و دیگر ضروری باتوں کو پورا نہ کر سکےگا تو نکاح کرنا حرام ہے.اس صورت میں نکاح کرےگا تو گنہگار اور جہنم کا حقدار قرار پاےگا.ایسے شخص کو چاہیے کہ روزہ رکھا کرے کہ،حدیث پاک مین آیا ہےکے،سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وسلم)نے ارشاد فرمایا،148نکاح میری سنت ہے،پس جو شخص میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہںیں.لہذا نکاح کرو،کیوں کہ میں تمہاری کثرت کی بناء پر دیگر امتوں پر فخر کرونگا.جو قدرت رکھتا ہو وہ نکاح کرے اور جو قدرت نہ پائے تو روزہ رکھا کرے کیوںکہ روزہ شہوت کو توڑتا ہے.148 (سنن ابن ۔ماجہ،کتاب النکاح,رقم ۱۸۴۶،جلد ۲,صفہ۴۰۶)

✓✓ مہر،نان و نفقہ و ازدواجی حق پورے کرنے پر قادر ہو اور شہوت کا بہت زیادہ غلبہ نہ ہو تو نکاح کرنا سنت مئکدہ ہے،ایسی حالت میں نکاح نہ کرنے پر اڑا رہنا گناہ ہے.