ایس ایس سی کے بچوں کے والدین کے لئے ایک خط۔۔۔۔۔

محترم والدين

آج دوپہر میں ایک بجے ایس ایس سی کے نتائج کا اعلان ہوا ہہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ اس وقت آپ لوگ ٹينشن میں ہو گے کیونکہ آپ اپنے بچے کو بہت اچھے پرسنٹیج سے کامیاب ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہو۔ اپنے بچوں کی کامیابی اور ترقی والدین کی فطری خواہش ہے مگر یاد رہے اس کو اتنے ہی نمبر ملنے والے ہیں جتنی اس نے محنت کی ہے اور اس نے اتنی ہی محنت کی ہو گی جتنی اس کو اس میں دلچسپی ہو گی۔ آپ کی خواہشات نتائج پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ یہاں آپ کو یہ نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امتحان دينے والے بچوں ميں سے کوئی بچہ آرٹسٹ ہو گا جس کو ميتھس ميں نمایاں کارکردگی دکھانے کی قطعاً ضرورت محسوس نہيں ہوئی ہو گی۔
کوئی بچہ بزنس مين بننا چاہتا ہو گا اس لئے اسکو انگلش ادب ميں کوئی دلچسپی نہیں ہو گی ۔
کسی کی موسیقار بننے کی تمنا ہو گی اور اسے کیمسٹری کا سبجیکٹ بور لگتا ہوگا۔
کوئی کھیل کی طرف مائل ہو گا اس لئے وہ فزيکل فٹنس کو فزکس سيکھنے سے زیادہ ضروری سمجھتا ہوگا۔
اگر آپ کا بچہ اچھے نمبر لے آتا ہے تو بہت مبارک لیکن اگر نہیں لیتا تو براۓ کرم اس سے اس کا اعتماد اور حوصلہ مت چھينيے ۔
اس کی دلچسپی کو سمجھئے اس کی پسند کا احترام کیجئیے اور جتائیے کہ آپ اس کے ساتھ ہیں، اسے یہ یقین دلائیے کہ منزل دکھانا آپ کا کام ہے مگر راستوں کے انتخاب کا اختیار اسی کو ہے۔
اس کو احساس دلائیے کہ ہمارے پیار کا دارومدار یہ پرسنٹیج نہیں ہے، ہم پھر بھی اتنا ہی پیار کرتے ہيں جتنا کیا کرتے تھے۔
یقین مانئےاگر آپ ايسا کريں گے تو مستقبل میں اسے بہت ترقی کرتا ديکھيں گے، آپ کا حوصلہ اور ساتھ اس کی قابلیت میں مزید نکھار لائے گا۔
ممکن ہے پڑوس کا یا خاندان کا کوئی بچہ آپ کے بچے پر سبقت لے جائے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مستقبل میں اسی کو ترقی اور کامیابی ملے گی اور آپ کا بچہ پیچھے رہ جانے والا ہے۔
یہ بات بھی سوچنے والی ہے کہ صرف ڈاکٹرز اور انجينئرز ہی دنیا میں خوشحال زندگی نہيں گزار رہے ہیں۔

دعاؤں کا طالب

احمد اظہار