صغیر قادری کا اعلان: رام مندر کے لیے نعوذ باللہ اعتکاف میں دعا ایک اور سنپولے نے زہر اگل

ایودھیا۔۱۳؍جون: (آمنا سامنا میڈیا ) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی قومی مجلس عاملہ کے رکن اور ملک میں مسلم دہشت گردی کی مخالفت میں مہم چلانے والے اندریش کمار نے کہا کہ ایودھیا میں بھگوان رام کے مندر کی تعمیر کے لئے محب وطن مسلمان تیار ہیں۔ ایسے مسلمان اقتصادی تعاون بھی دینا چاہتے ہیں۔ 11 جون کو ایک نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے اندریش کمار نے کہا کہ اب ملک کے مسلمانوں کی سوچ میں تیزی سے تبدیلی ہو رہی ہے۔ ویسے بھی بابر اور میر باقی جیسے لوگ اس ملک پر تشدد اور حملہ کرنے والے لوگ تھے۔ایک حملہ آور کے نام پر ایودھیا میں مسجد کس طرح ہو سکتی ہے؟ اسلام کے مطابق خدا کی عبادت کا مقام کسی حملہ آور انسان کے نام پر نہیں ہو سکتا، تاریخ گواہ ہے کہ بابر نے بھگوان رام کی جائے پیدائش کو توڑ ایک ڈھانچہ تیار کروایا تھا، اس ڈھانچہ کی وجہ سے ملک میں بہت خون خرابہ ہو چکا ہے، ملک میں امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ ایودھیا میں جلد رام مندر کی تعمیر ہو۔وہیں 10 جون کو ایودھیا میں سریو ندی کے کنارے مندر کی تعمیر کو لے کر ایک انوکھی پہل کی گئی۔مسلم کار سیوک سنگھ کے قومی صدر اعظم خاں کی قیادت میں سریو ندی کے کنارے پر ویدک متروچ چار کے بیچ ہون-پوجن کا اہتمام کیا گیا، شام کو روزہ افطار میں مندر تعمیر کے لئے دعا کی گئی ۔ خان نے کہا کہ روزے میں مانگی گئی دعا قبول ہوتی ہے، لہذا انشاء اللہ رام مندر کی تعمیر ہو کر رہےگی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان بیدار ہونے لگا ہے اور رام مندر کے حق میں آواز بلند کرنا بھی شروع کر دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو گمراہ کر کے بہکانے والے بھی بے نقاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو بہلا کر اپنا الو سیدھا کرنے والوں نے ہی معصوم کارسیوکوں پر گولیاں چلوائی تھیں، انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ کار سیوک بھگوان رام کی محبت میں آئے تھے لیکن یہاں نفرت کا شکار ہو گئے۔ فورم کے بزرگ کارکن صغیر قادری نے کہا کہ علامہ اقبال نے بھگوان رام کو امام ہند مانا تھا، ہمیں بھی انہیں امام ہند ماننے میں کوئی گریز نہیں ہونا چاہئے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس سالوں سے وہ رمضان کی 20 ویں تاریخ سے عید کی رات تک گھر بار سے دور مسجد میں رہ کر اعتکاف کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال بھی وہ دس دنوں کے اپنے اعتکاف میں رام مندر کی تعمیر کے لیے ہی دعا مانگیں گے۔ہری گوپال دھام کے مہنت نے نام نہاد مسلمانوں کی اس پہل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم آہنگی کا احساس ایسے ہی کام اور سوچ سے پیدا ہوتی ہے۔