انتظامیہ کی لاپرواہی کا نتیجہ پچھڑے علاقہ بنیادی سہولیات سے محروم

Ahmad Raza

raza24news@gmail.com

آمنا سامنا میڈیا سہارنپور ۔ (احمد رضا) کمشنری کی ملن ، پسماندہ اورپچھڑی مسلم بستیوں کے سدھار اور بہتری کے لئے گزشتہ عرصہ میں کتنی ہی مرتبہ یوپی اے کی مرکزی سرکار نے (دور اقتدار ) میں اپنی جانب سے کافی پیسہ یہاں بھیجاہے مگر آج تیرہ سال کے بعد بھی ان بستیوں کا حال اس سخت تپش اور آگ برساتی دھوپ میں پہلے ہی جیسا نظر آرہاہے وہ پیسہ جو مرکز بھیجتارہا وہ کہاں استعمال ہوا کس مد میں لگاہے کس طرح سے اس بڑی رقم کا استعمال ہواہے یہ مقامی نگر پنچایتوں، نگر پالیکاؤں اور مقامی نگر نگم کے کاغذات میں تو اندراج ہے مگر جس کام کے لئے یہ پیسہ آیاہے وہ کام کہاں کہاں کرایاگیا ہے یہ سچائی آج بھی موقع پر نہی ہے ہمارے سیاسی قائدین کوبھی اپنے پسماندہ اور پچھڑے عوام کے بھلے کے لئے حق مانگتے ہوئے شرم آتی ہے اسی لئے اس بنمدر بانٹ میں سبھی شامل ہیں عوام گزشتہ تیرہ سالوں کے ترقیاتی کاموں کی( مسلم بستیوں سے منسلک) سہی سہی رپورٹ مانگ رہے ہیں مگر اس مانگ پر سبھی خاموش ہیں؟ یہ ضرور ہے کہ وزراء کی چمچہ گری میں اور وزراء کی خاطر لاکھوں کی رقم خرچ کرنے میں ان نیتاؤں کو نہ جانے کیوں فخر کا احساس ہوتاہے وقت بے وقت ہونے والی ہلکی سی بارش سے شہر کے پرانے علاقوں میں گزرنا اب ناممکن بن کر رہ گیا دوسری جانب غلاظت اور گندے پانی کے جماؤ کے سبب عوام کا مسجدوں میںآناجانا بھی دشوار ہے، چلکانہ روڑ ، چکروتہ روڑ ، نور بستی ، حسین بستی ، آزاد کالونی ، حبیب گڑھ ، حاکم شاہ کالونی ، منصور کالونی ، دھوبی والا، کمیلہ کالونی ، نشاط روڑ، آلی آہنگران ، مہندی سرائے اور اسلامیہ ڈگری کالج سرائے حسام الدین،سرائے فیض علی،پل بنجاران، داؤد سرائے اور اسکے آس پاس کا علاقہ گندگی ،نالیوں اور نالوں میں بھرے ہوئے چوڑے سے گھراہواہے نتیجہ کے طور پر یہ تمام علاقہ بدبو اور مچھروں کی بہتات ہے گزشتہ تین سال سے ان علاقوں کے نالے اور نالیاں چوڑے سے بھرے ہوئے پڑے ہیں ضلع حکام بالخصوص نگر نگم کے صفائی ملازمین ہر روز آتے ہیں اور نمائشی انداز میں معمولی طورپر ہلکی سی صفائی کر کے چلے جاتے ہیں جبکہ گندگی جس کی تس ہی قائم رہتی ہے مندرجہ بالاپسماندہ علاقوں میں لاکھوں لوگ آباد ہیں نالوں اور نالیوں کا پانی آدھے سے زیادہ ان علاقوں کے گھروں میں گھسا رہتا ہے مچھروں کی پیداوار اس قدر ہے کہ ان جگہوں پر عام آدمی کا رہنا ناممکن ہے مگر غریبی کے ستائے مسلم لوگ ان علاقوں کو چھوڑکر جائے تو کہاں جائے حکام کو ان غریبوں کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہے سیاست داں ووٹ کے لئے ان بستیوں میں آتے ہیں اور جھوٹے وادے کر کے لوٹ جاتے ہیں گزشتہ تین ماہ قبل بھی سماج وادی پارٹی، بی ایس پی اور کانگریس کے لیڈران نے ان علاقوں میں آکر مسلمانوں کو سبز باغ دکھاگئے اور ووٹ لیکر چلتے بنے مگر اس کے بعد پارٹی کے ان لیڈران نے کبھی ان علاقوں میں دوبارہ سے آنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی آج ان علاقوں میں پینے کا پانی بھی گندے جراسیم سے بھرا ہوا ہے ، غلاظت اور گندگی کے باعث ان علاقوں میں کھلی ہوا میں سانس لینا بھی دوبھر ہے سخت گرمی بجلی کنیکشن دستیاب نہی، سرکاری علاج ودواؤں کی قلت، ٹوٹی سڑکیں اندھیری گلیاں، پرائمری تعلیمی اداروں کی کمی جگہ جگہ گندے پانی کا بھراؤ ،غلاظت اور چوڑے کے انبار لگے رہتے ہیں عام لوگوں کا بالخصوص بزرگوں، خواتین اور بچوں کا گزر ان بستیوں میں مشکل سے مشکل تر ہو گیا ہے ہر وقت سڑکیں گندے پانی اور کیچڑ سے لبا لب رہتی ہیں جتنے بھی مسائب ان علاقوں کے پسماندہ مسلمانوں کو برداشت کرنے پڑ رہے ہیں وہ کسی جہنم کی تکلیف سے کم نہیں سچ مانو تو ان علاقوں کے مسلمانوں کا روز مرہ کا جینا جہنم سا ہو کر رہ گیا ہے مگر لاچاری اور مجبوری کے سبب لاکھوں لوگ گندگی اور مچھروں کی یلگار کے بیچ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ابھی بھی علاج کے نام پر اس علاقہ کے عوام کے لئے سرکاری سطح پر فرسٹ ایڈ اسینٹر کابھی معقول کوئی بندو بست نہیں ہے!رفاع حاجت کیلئے بھی یہاں بیت الخلاؤں کے انتظامات اور گندے پانی کی نکاسی کے ذرائع نہی ہیں۔