امانت اور اسلام

 

معاملات میں سچائی اور ایمانداری کی تعلیم بھی اسلام کی اصولی اور بنیادی تعلیمات میں سے ہے،قرآن سے اور رسول اللہؐ کی حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اصلی مسلمان وہی ہے جو اپنے معاملات میں اور کاروبار میں سچا ،  کهرا، ایماندارہو، عہدکاپکا اور وعدہ کا سچاہو، یعنی دھوکہ فریب اور امانت میں خیانت نہ کرتا ہو، کسی کاحق نہ مارتا ہو، ناپ تول میں کمی نہ کرتا ہو،جھوٹے مقدمے نہ لڑتا ہو اور نہ جھوٹی گواہی دیتا ہو، سود ، اور رشوت جیسی تمام حرام کمائیوں سے بچتاہو اور جس میں یہ برائیاں موجود ہوں قرآن وحدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خالص مومن اور اصلی مسلمان نہیں ہے بلکہ ایک طرح کا منافق ہے اور سخت درجہ کا فاسق ہے،اللہ تعالی ہم سب کو ان تمام بری باتوں سے بچائے، اس بارے میں قرآن وحدیث میں جو سخت تاکیدیں آئی ہیں ان میں سے چند ہم یہاں بھی درج کرتے ہیں، قرآن شریف کی مختصر سی آیت ہے:

 

“یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ”۔

(النساء:۲۹)

 

اے ایمان والو!تم کسی غلط اورناجائز طریقے سے دوسروں کا مال نہ کھاؤ۔

 

اس آیت نے کمائی کے ان تمام طریقوں کو مسلمانوں کے لیے حرام کردیا ہے جو غلط اور باطل ہیں جیسے دھوکہ فریب کی تجارت ، امانت میں خیانت ،جوا، سٹہ اورسود، رشوت وغیرہ، پھر دوسری آیتوں میں الگ الگ تفصیل بھی کہی گئی ہے، مثلا جود کاندار اورسوداگر ناپ تول میں دھوکہ بازی اور بے ایمانی کرتے ہیں ان کے متعلق خصوصیت سے ارشاد ہے:

 

“وَیْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِیْنَoالَّذِیْنَ اِذَااکْتَالُوْاعَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَoوَاِذَاکَالُوْہُمْ اَوْوَّزَنُوْہُمْ یُخْسِرُوْنَo اَلَا یَظُنُّ اُولئِکَ اَنَّہُمْ مَّبْعُوْثُوْنَo لِیَوْمٍ عَظِیْمٍo یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ”۔

(المطففین:۱۔۶)

 

ان کم دینے والوں کے لیے بڑی تباہی (اور بڑاعذاب ہے) جو دوسرے لوگوں سے جب ناپ کرلیتے ہیں تو پورالیتے ہیں اور جب دوسروں کے لیے ناپتے یا تولتے ہیں تو کم دیتے ہیں-

کیا ان کو یہ خیال نہیں ہے کہ وہ ایک بہت بڑے دن اٹھائے جائیں گے ؟ جس دن کہ سارے لوگ جزا وسزا کے لیے رب العالمین کے حضور میں حاضر ہوں گے۔

 

دوسروں کے حق اوردوسروں کی امانتیں اداکرنے کے لیے خاص طور سے حکم ملاہے:

 

“اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا”۔

(النساء:۵۸)

 

اللہ تعالی تم کو حکم دیتا ہے کہ جن لوگوں کی جو امانتیں ( اورجوحق ) تم پر ہوں وہ ان کو ٹھیک ٹھیک اداکردو۔

ایمان کی آزمایش ہوتی ہئے ہمیشہ شیطان اور اپنے نفس سے لڑتے رہو اور اللہ کی مدد اور ثابت قدمی چلنے کی توفیق  مانگتے رہو، اللہ ہمیں آخرت کے دن کے خسارے و ناکامی سے بچائے آمین-