جمہوری نظام کو پچھاڑتے ہوئے با اثر سیاسی گھرانہ ہر سطح پر سب سے طاقتور مسلمانوں کاپچھڑا،پسماندہ اوردلت طبقہ ریزرویشن سے محروم!

آمنا سامنا بیورو چیف سہارنپور( خاص رپورٹ احمد رضا) آزادی کے چند سال بعد ہی ایک خاص مصلحت کے تحت ۱۹۵۰ میں ہریجنوں کو ریزرویشن دیاگیا اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۷۸ تک ملک کا ہریجن کہا جانیوالا طبقہ سرکاری نوکریوں میں بڑے پیمانہ پر داخل ہوئے اسکے ساتھ ساتھ ہریجن فرقہ کے افسران نے اپنی ہی برادری کے نوجوانوں کو بھی اپنی سفارش سے بڑے پیمانہ پر سرکاری نوکریوں میں داخل کرا جسکا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ اعلیٰ ذات ہندو گھرانہ کے افراد کے برابر ہی سپریم عہدوں پر ہریجنوں کا تقرر ہونے لگا آج یہ تعداد ہم سبھی کے سامنے ہے بغیر کسی سروے اور چھان بین کے سیاسی مفاد پرستی کے سببیہ رزرویشن آج بھی جاری ہے جبکہ آج اس رزرویشن کی سب سے زیادہ ضرورت مسلم فرقہ کو ہے مگر اس جانب کسی کی نظر ہی نہی جارہی ہے یعنی کے دلت اوردیگر پچھڑے افراد رزرویشن اور سیاسی کرم فرماؤں کے سہارے آج ملک کے انتظامیائی نظام کے ساتھ ساتھ پولیس میں بھی اچھی تعداد میں دیکھے جاسکتے ہیں مگر مسلم فرقہ آج سب سے کم تعداد میں کہیں مہیں نظر پڑتاہے ان وجوہات پر کوئی توجہ ہی نہی دے رہاہے نتیجہ کے طورپر رزرویشن پانے والوں کی تعداد اندنوں سرکار کے ہر چھوٹے اور بڑے محکمہ میں دیگر اقوام کی تعداد سے بھی زیادہ تسلیم کی جارہی ہے ملک کی آبادی میں مسلم قوم کاتناسب ہر لحاظ سے ۲۲فیصد سے کم نہی مگر ریزرویشن پانے والوں کے سامنے لاکھ قابلیت ہونے کے بعد بھی سرکاری ملازمتوں میں ہماری حصہ داری ۲ فیصد بھی نہی ہے آخر یہ کیسی جمہوریت، کیسا دستور اور کس طرح کا انصاف ہے؟ ہمارے صوبہ کی تین کمشنریوں میں جھوٹے بڑے ۲۰۰ ، افسروں کی بھیڑ ہے وہی اس بری بھیڑ میں مسلمانوں کی تعداد کل کا ایک فیصد سے زیادہ نہی ہے وہیں اعلیٰ ہندو ذاتوں کی تعداد کا فیصد بھی اب کم نظر آرہا ہے جبکہ دلت، ہریجن اور ہندو پچھڑی برادریوں کی حصہ داری ساٹھ فیصد کو بھی پار کر چکی ہے ! ملک میں لمبے عرصہ سے جاری من مانی والے رزرویشن کا یہ غٰیر منصفانہ گھونٹ آکر ہم پچھڑے، پسماندہ اور کمزور ہندوستانیوں کو کب تک پینا پڑیگا!
ملک کی نامور سوشل تنظیم پچھڑاسماج مہاسبھاکے قومی سربراہ جناب احسان الحق ملک نے آج پریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری تنظیم نے اپنے تمام ہم نظریہ قائدین کی جانب سے مرکزی سرکار کو ایک مکتوب کے ذریعہ مسلمانوں کے ساتھ سرکاری طور پر کئے جانے والے تعصب سے آگاہ کرتے ہوئے آرٹیکل ۳۴۱ میں ترمیم کرنے کی مانگ دہرائی ہے۔ جناب احسان الحق ملک نے کہاکہ اگر گجرات ہائی کورٹ یا مہاراشڑا ہائی کورٹ کا کوئی بھی قابل جسٹس اس رزرویشن کولیکر کسی بھی مقدمہ میں اپنی ذاتی مگر قومی مفاد میں رائے زنی کرتاہے تو ملک کے موقع پرست اور مفاد پرست سیاست داں یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قابل جسٹس کے خلاف لوک سبھا میں مہا ابھیوگ پیش کر دیتے ہیں مگرمقام حیرت یہ ہے کہ سابق آنجہانی راجہ وشوناتھ پرتاپ سنگھ سرکار کے قابل قدر فیصلہ کے بعد بھی مرکز اورریاستی سرکاریں پچھڑے اور دلت مسلمانوں کو انکے حصہ کا رزرویشن دینے میں لگاتار ٹال مٹول کیوں کرتی آرہی ہیں اور اس قوم کو لگاتار پستی کی جانب دھکیلنے کی پالیسی پر کامزن ہیں جبکہ ہندو پچھڑوں اور ہندو دلتوں کو اس رزرویشن کا فائدہ لگاتار دیا جارہاہے صرف یوپی ہی میں یادو برادری کے لوگ کم تعداد ہونے کے بعد بھی ہر سرکاری محکمہ میں اہم عہدے پر فائز ہیں جہاں بھرتی ہوتی ہے اس قوم کی بھاگی داری ۵۰ فیصد سے بھی زیادہ رہتی ہے یہ سب کیاہے اگر طاقتور گھرانوں کا یہ عمل ملک کے قابل تعظیم آئین کا مزاق نہی تو پھر کیاہے؟ پچھڑا سماج کے سربراہ احسان الحق ملک نے بتایاآزاد بھارت کی تاریخ میں مرکزی اور زیادہ تر ریاستی سرکاروں نے اقلیتی فرقہ کے ساتھ جوغیر منصفانہ رویہ اپنایاہے وہ ہر صورت سے قابل مذمت عمل ہے مرکزی سرکار نے آرٹیکل ۳۴۱ کے بابت جو رخ آج تک اپناہواہے اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ ایک خاص سازش کے تحت ہی دلت مسلمانوں کو مراعات سے محروم رکھا جارہاہے؟ یادرہے کہ مسلم دلتوں سے متعلق ایک پیٹشن ۲۰۰۸ سے سپریم کورٹ میں زیر التواہے جسمیں مذہبی سطح کے رزرویشن کی دفعہ ۳۴۱ کو چیلنج کیاگیاہے بد قسمتی دیکھئے کہ یوپی اے کی مرکزی سرکار نے اس اہم مقدمہ میں سرکار میں رہتے ہوئے جواب تک داخل کرنا مناسب ہی نہی سمجھا آجکل ۲۰۱۴ مئی سے لگاتار مرکز میں نریندر مودی سرکار کام کر رہی ہے مگر اس سرکار نے بھی اس مقدمہ میں عدم دلچسپی کاہی مظاہرہ کیاہے قابل ذکر ہے کہ جب ہندو دلتوں کو ملک میں آزادانہ طور سے لگاتار ریزرویشن دیا جارہاہے، بدھشٹوں اور سکھوں کوبھی اس سے مستفیض کیا جارہاہے پھر مسلم دلتوں اور عیسائیوں کو اس مرزعات سے لگاتار محروم کیوں رکھا جارہاہے۔ انو سوچت جاتی کمیشن کے سربراہ پی ایل پونیااور مرکزی مائینوریٹیز کمیشن بھی اس بابت مرکز کو اپنی سفارشات بھیج چکاہے پھر بھی ہندو دلتوں، سکھوں اور بدھشٹوں کی مانند مسلم دلتوں کو ریزروہزشن سے دور کیوں رکھا جارہاہے سرکار سپریم کورٹ میں اپنا حلف نامہ پیش کرنے سے گزشتہ آٹھ سالوں سے کیوں بچتی آرہی ہے اس سوال کا جواب آج قوم کی نئی نسل پر زور ڈھنگ سے طلب کرتی ہے اور کہتی ہے کہ ہمارے ساتھ ہی یہ دوہرا پیمانہ کیوں؟ اہم بات ہے کہ جناب اے ایچ ملک پچھلے دس سالوں سے آرٹیکل ۳۴۱ کو لیکر لگاتار دلت مسلموں اور عیسائیوں کے حق کی خاطر جدوجہد کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں سینئر سوشل قائد جناب اے ایچ ملک نے گزشتہ ایک سال سے ملک کے مختلف علاقوں میں بھاجپا سے جڑے تنظیموں کے ذمہ داران کی جانب سے کی جانے والی چھیڑ چھاڑ کو ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ بتاتے ہوئے ا ن سبھی سے ان شرمناک حرکتوں سے باز آنے کی اپیل کی ہے ؟