اسلم چشتی فرینڈس سرکل کی ایک شام عالم غازی پوری کے نام

اسلم چشتی فرینڈس سرکل کی ایک شام عالم غازی پوری کے نام

مشہور شاعر عالم غازی پوری کے اعزاز میں 29 مئی بروز اتوار رات 9 بجے اسلم چشتی فرینڈس سرکل کی جانب سے کوالٹی سفائر این آئی بی ایم روڈ کونڈوا( پونے) کے ٹیرس پرایک شعری نشست کا اہتمام کیا گیا – اس موقع پر عالم غازی پوری صاحب کا خیرمقدم گُل پوشی اور شال سے کیا گیا – اس شعری نشست کی صدارت پونے کے مشہور شاعر حسام الدین شعلہ صاحب نے کی اور نظامت کے فرائض عبدالحمید ہُنر صاحب نے بڑے سلیقے سے ادا کیے –

جن شعراء حضرات نے اس نشست میں شرکت کی ان کے نام ہیں حسام الدین شعلہ ، عالم غازی پوری، اسلم چشتی ، ضیاء باغپتی، رفیق قاضی، انور فراز، عبدالحمید ہُنر، تنویر شولاپوری، شفیع احمد شفیع –

اس نشست میں شرکت کرنے والے شعراء کے مُنتخب اشعار پیشِ خدمت ہیں –

یاد تیری ہو تو یوں راہ گذر کاٹوں گا
پھول کی پتّی سے ہیرے کا جگر کاٹوں گا

حسام الدین شعلہ

اب یار کہاں میں تری تصویر لگاؤں
پہلے ہی یہاں چہروں سے دیوار بھری ہے

عالم غازی پوری

تہذیبوں کے لاکھوں پھل آ جائیں گے
اُردو کا اک پیڑ لگا دو بستی میں

اسلم چشتی

دلوں کے بیچ اب اتنی کدورت ہو گئی ہے
مَحبّت موم سے پتّھر کی صورت ہو گئی ہے

ضیاء باغپتی

کچھ اعتبار ہی نہیں اَمن و امان پر
جیتے ہیں ہم نہ جانے یہاں کس گمان پر

رفیق قاضی

تھکا اک مسافر شجر دیکھتا ہے
وہ شہروں کو بنتے کھنڈر دیکھتا ہے

انور فراز

مرے قفس کو یوں ہی تار تار کس نے کیا؟
تو ہی بتا دے مرے جگری یار کس نے کیا؟

عبدالحمید ہُنر

زندگی سلجھائیں کیسے راستہ ملتا نہیں
راستہ مل بھی گیا تو رہنما ملتا نہیں

تنویر احمد تنویر

عزیز کس کو نہیں شہرتیں رقم کر دے
خدایا پہلے مُجھے گھر میں معتبر کر دے

شفیع احمد شفیع

یہ نشست رات 12 بجے اسلم چشتی کے شکریہ پر اختتام پذیر ہوئی