کوکن میں سیلاب کی تباہی: قدرتی یاانسانی کارستانی رفاہی تنظیمیں باہمی ربط پیدا کریں

کوکن میں سیلاب کی تباہی: قدرتی یاانسانی کارستانی
رفاہی تنظیمیں باہمی ربط پیدا کریں

از قلم: مولانا محمد برہان الدین قاسمی

کوکن سیلاب2021

مغربی گھاٹوں میں شدید طوفانی بارش، اور کوئنا اور کولکیواڑی ڈیموں سے پانی نکلنے کی وجہ سے ساحلی کوکن علاقے کی چھوٹی ندیوں کوبھر دیا تھا، جو 22/ جولائی 2021 کو رائے گڑھ اور رتناگری اضلاع میں بری طرح تباہی کا باعث بنا۔
ہندوستان میں عید الاضحی کے پہلے دن کے بعد ہی دیر شام میں سیلاب کا آغاز ہوا۔ یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر بھاری بارش کی وارننگ اور ڈیموں سے پانی باہر نکا لنے کی ضرورت تھی تو خطرے والےعلاقوں سے لوگوں کو منتقل کرنے کے لیے کوئی منصوبہ کیوں نہیں اپنایا گیا تھا؟ کچھ عہدیداروں نے بتایا کہ انہوں نے لوگوں کو منتقل کرنا شروع کردیا تھا۔ تاہم! بہت سے لوگ عارضی پناہ گاہوں میں جانے کے لیے تیار نہیں تھے۔

اگرچہ خطہ کوکن کے باسیوں کو ہر سال شدید بارش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اس سال طوفانی بارش بہت زیادہ رہی، اوروہاں ریڈ الرٹ کی وارننگ بھی جاری کردی گئی تھی۔ 23 /جولائی2021 کو ہندوستان ٹائمز میں فیصل ملک کی رپورٹ کے مطابق، ہائی ٹائیڈ اور ڈیموں سے پانی بہنے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوگئی تھی۔

رتناگری کے ضلع کلکٹر ڈاکٹر بی این پاٹل کے مطابق “کوینا اور کولکیواڑی ڈیم کے قریبی جگہوں میں بہت زیادہ بارش ہوئی، جس کے بعد دونوں ڈیموں سے پانی چھوڑا گیا۔ مسلسل بارش اور ہائی ٹائیڈ یعنی تیز لہر کی وجہ سے پورا چپلون شہر سیلاب میں ڈوب گیاتھا۔”

تباہ کن سیلاب کے پانچ دن بعد راقم بذات خود مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (ایم ایم ای آر سی) کی طرف سے ایک ایمر جنسی امدادی ٹیم کے ساتھ 27 اور 28 /جولائی کو رتناگری ضلع کے چپلون شہر موجود رہا۔
زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ سوال مزید پختہ ہوجاتاہے کہ آیاکوکن میں سیلاب کی تباہی محض قدرتی تھی یا اسمیں کسی انسانی عمل کی کمی بھی داخل تھی؟
اس کا سیدھاجواب پانا شاید فی الحال مشکل ہو، تاہم، مقامی بلدیاتی اداروں، ارلی وارننگ سسٹم (ای ڈبلیو ایس) اور نیشنل ڈیزاسٹر رِسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کے حکام یقینی طور پر خراب صورتحال کو زیادہ بہتر طور پر سنبھال سکتے تھے۔

*ممبئی کی رفاہی تنظیموں نے فوری تعاون کیا*

چپلون شہر میں 27/ جولائی تک، این ایچ 66/سے سڑک کا ربط، بجلی اور پانی کا کنیکشن، اسی طرح کھانا بنانے کےلیے گیس کی فراہمی، جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہوگئی تھی۔
مہاراشٹرا کے کوکن اور پونے ڈویژن میں آنے والے سیلاب کے بعد یہ ایک بہت بڑی تباہی تھی جس میں مصدقہ ذرائع کے مطابق کم از کم 213 انسانی جانیں تلف ہوئیں۔ غریب، پسماندہ اور درمیانے طبقے کے لوگ جن کے مکان ودوکان زمین سے 11 فٹ کی بلندی تک تھے، حتی کہ شہری علاقے کےافراد، سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ان کے مکانات اور کاروبار یاتو مکمل طور پریا بہت حد تک تباہ ہوچکے ہیں اور انہیں اپنی معمول کی زندگی کی طرف دوبارہ لوٹنے کے لئے بیرونی امداد کی ضرورت ہے۔

یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ تمام فلاحی ادارے، خاص طور پر مسلمان غیر سرکاری تنظیمیں اور ممبئی، تھانے اور مہاراشٹرا کے کم متاثرہ قریبی علاقوں کے رضاکار حضرات، کوکن کے بری طرح متاثرہ علاقے کی طرف لوگوں کو بچانے کے لئے پہنچ گئے، اور پھر جلد ہی امدادی سامان سے بھرے ٹرک بھی پہنچ گئے جو تاحال جاری ہے۔

میں نے چپلون کے آزاد نگر اور اس کے آس پاس مختلف ریلیف تقسیم کرنے کے مراکز کا دورہ کیا، جیسے کہ چپلون مرکز جہاں تبلیغی جماعت اور جمعیت علمائے ہند کے رضاکار امدادی اشیاء کی تقسیم کی ذمہ داری نبھارہے ہیں۔ ملت نگر کا سینٹر جہاں جمعیت اہل حدیث کے رضاکار باہر سے بھیجے گئے امدادی اشیاء تقسیم کررہے ہیں۔ جماعت اسلامی ہندکی طرف سے عارضی ریلیف دفتر قائم کیا گیاہے، جہاں ان کے رضاکاردیگر کاموں کے ساتھ خاص کر ضرورت مندوں کوپکاہواکھانا فراہم کررہے ہیں۔
یہ مقامی رضا کارخود حالات کا شکار ہونے کے باوجوددوسروں کی خاطراپنی صحت کو خطرے میں ڈال کر بہت زیادہ محنت کر رہے ہیں، یہ افراد یقینا تعریف کےمستحق ہیں۔

تاہم! این جی اوز، امدادی سامان کے بہتر استعمال اور متاثرین کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانےکو یقینی بنانے کے لیے کچھ نکات کو ملحوظ خاطر رکھ سکتی ہیں۔ یہ چند تجاویز حسب ذیل ہیں:

1. مختلف این جی اوز کے ذمہ داروں کے درمیان باہمی ربط ہونے کی صورت میں فائدہ زیادہ ہوگا،اور وسائل کے انتظام میں بھی مدد ملے گی نیز ایک ہی کام متعدد تنظیموں کے ذریعے ہونے کے نقصانات سے بھی بچا جا سکے گا۔
2. اب صورتحال اتنی خراب نہیں ہے اور افراتفری کا ماحول اب نہیں ہے۔ لہذا ترجیحات کی تعیین کی جائے اور پھر مطلوبہ منصوبہ بندی کے ساتھ سکون سے رفاہی کام کو آگے بڑھایاجائے۔
3. این جی اوز کی عملی میدان کے اعتبار سے کام کی تقسیم کی جائے، اس سے متاثرہ علاقوں کو بہتر اور دیرپا مدد ملے گی۔ مثلا: کوئی خاص تنظیم دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ راشن کٹس کی تقسیم کی ذمہ داری ترجیحی طور پر لے سکتی ہے، تو کوئی دوسری تنظیم علاج ومعالجہ پر اپنی خاص توجہ مرکوز کرسکتی ہے۔
4. متاثرہ علاقے کے ذمہ داران سے باہمی گفت وشنید کے بغیر ایسے سامان جن کی زیادہ ضرورت نہ ہو کو جمع کرنا یا بھیجنا بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔ جیسے کہ استعمال شدہ کپڑوں اور صاف صفائی کی چیزوں کو امداد کےطور پر بھیجنے میں لوڈ اور ان لوڈ کرنے میں مزدوروں کے خرچ کے علاوہ ٹرانسپورٹ کا غیر ضروی خرچ آئے گا۔
5. مناسب سروے کے بعد بازآبادکاری کی منصوبہ بندی کی جائے اور پھر عمل کیا جائے۔
6. ممبئی کی تنظیموں کو کوکن کے علاوہ، پونے ڈویژن کے تحت مغربی مہاراشٹر کے کچھ علاقوں پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہئے، کیوں کہ سانگلی اور ستارا جیسے اضلاع بھی کم متاثر نہیں ہیں، اگرچہ انکے تعلق سے میڈیا میں کوئی خاص رپورٹنگ نہیں کی گئی.

*بلدیاتی ادارے اور حکومت کو اپنے کام میں تیزی لانے کی ضرورت ہے*
حکومت مہاراشٹرا نے ابھی تک کوکن اور مغربی مہاراشٹرا میں سیلاب سے ہونے والے کل مالی نقصانات کا حتمی تخمینہ تک نہیں لگایاہے، جب کہ اس تباہی کوایک ہفتے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلی دونوں کی ریلیف فنڈ سے
ریلیف پیکیج کااعلان ہونابھی باقی ہے چہ جائے کہ ان کے فنڈ سے لوگوں کی امداد شروع ہو۔ مقامی لوگوں کو چپلون کے کارپوریشن سے یہ امید تھی کہ سیلاب کے بعد ہی کم از کم سڑکوں اور عوامی مقامات کی صفائی کا کام بہتر طریقہ سے انجام دیں گے۔ لوگوں نے اپنے گھروں کی صفائی شروع کردی ہے۔ کچروں کے ڈھیر بشمول تلف شدہ کرانہ کی چیزیں، مزید برآں مٹی زدہ اور خراب ہوچکے لکڑی کے سامان اب سڑکوں پر پڑے ہیں اور لوگ منتظر ہیں کہ بلدیہ کی گاڑی انہیں اٹھاکرلے جائے۔
سیلاب کے بعد نقصان دہ باقیات کو لمبے عرصے تک آبادی والے علاقے میں یونہی چھوڑے رکھنے سے آفات کے بعد آنے والی بیماری کاخطرہ بھی پیدا ہوسکتاہے۔
—————————————-
مضمون نگار مرکز معارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سنٹر (ایم ایم ای آر سی) ممبئی کے ڈائریکٹر اور ایسٹرن کریسنٹ کے ایڈیٹر ہیں۔