بش کا جوتا اور میکرون کا تھپڑ

بش کا جوتا اور میکرون کا تھپڑ

ڈاکٹر سلیم خان

امریکہ کی تاریخ جارج بش اور جارج ڈبلیو بش  ہی ایسے باپ بیٹے ہیں جن کو کرسیٔ صدارت  پر فائز ہونے کا موقع ملا ۔ ان کے نام  اور کام دونوں یکساں ہیں اس لیے فرق کرنے کے لیے پوچھا  جاتا ہے کون سا  بش ؟ وہ جوتے والا ؟؟ یا  دوسرا؟؟؟ یہ حسن اتفاق ہے کہ  نشانہ چوکنے کے باوجود جوتا جارج ڈبلیو  بش کی پہچان بن گیا ۔  اسی طرح اب فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کو بھی ان کے تھپڑ کی وجہ سے  یاد کیا جائے گا۔ لوگ پوچھیں گے کون سا فرانسیسی صدر وہ تھپڑ والا؟ آئندہ سال فرانس میں صدارتی انتخاب ہے۔ اعتدال پسند  سمجھے جانے والے ایمانوئل میکرون ۲۰۲۲ کے اندر دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہونے کے چکر میں  ہیں۔ وہ ‘فیل دا پلس آف دا کنٹری‘ یعنی  ‘لوگوں کی نبض پر ہاتھ رکھنے‘ کے ارادے سے ملک بھر میں گھوم رہے تھے کہ ایک انتہا پسند نے ان کے گال پر ہاتھ رکھ دیا لیکن یہ کام اس نے  اتنی  زور سے کیا کہ اس کی دھمک  پوری دنیا میں سنائی دی ۔

ماکرون دراصل  انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی  حریف مارین لے پین کے مقابلے اعتدال پسند ضرور ہیں لیکن جہاں تک مسلمانوں کا سوال ہے ان دونوں کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں ہے ۔ جمہوریت اور سیکولرزم کی آڑ میں  دونوں اسلام اور مسلمانوں کےیکساں  دشمن ہیں ۔ حالیہ انتخابی جائزوں کے مطابق انہیں لے پین   پر معمولی سبقت حاصل ہےلیکن اپنی مقبولیت میں مزید اضافہ کرنے کی خاطر وہ دو ماہ  میں 12 مختلف شہروں کادورہ کررہے ہیں ۔  اس مہم پر جنوب مشرقی علاقہ میں    لیوں شہر کے اسکول سے لوٹتے ہوئے  استقبال میں  جمع ہجوم کے اندر  ایک شخص نے ہاتھ ملانے سے قبل  ان کے ہاتھ کو پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے منہ پر زوردار  طمانچہ رسید کر دیا۔ میکرون کے محافظین  نے فوری طور پر حملہ آور  کے علاوہ ایک اور شخص کو  گرفتار کر کے  تفتیش شروع کردی ۔ سبز ٹی شرٹ ، داڑھی اور لمبے بال  والے شخص نے ماسک پہن رکھا تھا اور تھپڑ مارنے کے بعد مقامی زبان میں ‘میکرون  کو ہٹاؤ’ کے نعرے لگا رہا تھا۔

گرفتار شدہ دوسرے شخص کا قصور بڑا تھا کیونکہ اسی کی ویڈیو نے معاملے کو دنیا بھر میں پھیلا دیا ورنہ بعید نہیں کہ رفع دفع ہوجاتاکیونکہ  صدر میکرون نے بھی   اسے ایک انتہائی پرتشدد شخص  کا انفرادی فعل قرار دے دیا۔صدر میکرون نے    تھپڑ مارنے کے واقعہ  کوایک مخصوص  سوچ کا غماز قراردیا   اورکہا  اس طرح کے افراد عوامی مباحثے میں شامل نہ ہونے کے قابل نہیں ہیں یعنی اسے نظر انداز کردیا جائے ۔ صدر صاحب کا یہ رویہ کچھ عجیب ضرور ہے لیکن  ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو اس طرح کے اہانت آمیز سلوک کا عادی بنالیا ہے۔ گزشتہ سال  جولائی میں جب وہ اپنی  اہلیہ بریجیٹ کے ساتھ  وسطی پیرس میں  ایک باغ کی  سیر کر رہے تھے تو مظاہرین کے ایک گروہ  نے انہیں  گالیاں دی تھیں لیکن چونکہ اس کی ویڈیو وائرل نہیں ہوئی اس لیے بات آئی گئی ہوگئی۔

اس سے پہلے 2016 میں  جب وہ وزیر معیشت  تھے تو  انہوں  نےمزدوروں کی فلاح بہبود کے لیے اصلاحات شروع کردیں ۔ یہ اسی طرح کا معاملہ ہوگا جیسے وطن عزیز میں کسانوں کی خاطر ہورہا ہے اور وہ بیچارے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے ملک کے وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر عقلمند ہیں جو کسانوں سے ملنے نہیں گئے بلکہ ان کو اپنے پاس بلایا لیکن میکرون خود بہ نفسِ نفیس انہیں سمجھانے بجھانے کے لیے جاپہنچے ایسے میں  ایک محنت کش نے ان پر انڈا دے مارا ۔ ویڈیو سے یہ پتہ نہیں چل سکا کہ وہ انڈا    سڑا ہوا تھا یا نہیں ۔  آگے چل کر میکراں نے اعلان کیا کہ اس سے ان  کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی ۔ یعنی وہ اپنی بات پر اڑے رہیں گے ۔ جیسے مودی اڑے ہوئے ہیں۔ اس واقعہ کے دوسال  بعد فرانس کے اندر حکومت مخالف  یلو ویسٹ نامی تحریک نے احتجاج شروع کیا تو ان کو سمجھانے بجھانے کی خاطر بھی میکرون وہاں پہنچ گئے لیکن مظاہرین نے انہیں شورو ہنگامہ کرکے بلکہ دھکا دے کر لوٹا دیا۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس چکنے گھڑے پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

صدر ِفرانس  تو اس معاملے کی جانب سے توجہ  ہٹانا چاہتے ہیں لیکن نہ جانے کیوں  ان  کےحواریوں  اور دشمنوں نے اسے خوب اچھالا۔  فرانسیسی وزیرِ اعظم جین کاسٹکس نے قومی اسمبلی میں  مذکورہ تھپڑ کی مذمت کرتے ہوئے  کہا کہ آج فرانس کی جمہوریت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں مباحثہ، دلائل اور خیالات کے اختلافات اور قانونی طریقے سے رائے کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن تشدد، زبانی یا جسمانی حملے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وہ تو اچھا ہوا کہ وزیر اعظم نے جسمانی حملے کے ساتھ ساتھ زبانی حملوں کا ذکر فرما دیا ۔  اس تناظر میں انہیں جمہوریت کی بقاء اور اظہار رائے کی آزادی کے نام پر  بدنامِ زمانہ کارٹون اور اس کی حمایت میں اسلام اور مسلمانوں پر کیے جانے والے زبانی حملوں کا جائزہ لینا چاہیے کیونکہ جسم کے زخموں سے زیادہ گہرا زخم زبان کا ہوتا ہے اور وہ آسانی نہیں بھرتا ۔ کون جانے تھپڑ مارنے والے کی کیسی کیسی دلآزاری ہوئی ہو؟

وزیر اعظم نے تو خیرخواہی میں اپنے صدر سے ہمدردی  جتائی لیکن حزب اختلاف  کی رہنما میرن لی پین نے اس کا سیاسی فائدہ اٹھالیا ۔  انہوں نے کہا حالانکہ وہ صدر میکرون  کی شدید مخالف ہیں لیکن اس کے باوجود صدر پر حملہ قابلِ گرفت جرم ہےاس لیے وہ  ملک کے صدر کو نشانہ بنانے کی ناقابلِ برداشت جارحیت کی مذمت کرتی ہیں۔ ان کے بقول صدر میکرون  سے سیاسی طور پر لڑ ائی تو ممکن ہے  لیکن  وہ تشدد کی  متحمل نہیں ہیں ۔ میرن لی پین اور ان کی جماعت میکرون پر تو تشدد کی قائل نہیں مگر اپنے ہی ملک میں بسنے والی سب سے بڑی اقلیت کے ساتھ اس سلوک کی رواداد نہیں ہیں۔ مذکورہ بالا دونوں جماعتوں کی مخالف سوشلسٹ پارٹی کے رہنما اور سابق فرانسیسی صدر فرانسس اولاند نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہمارے اداروں کے خلاف ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ قبول اقدام کیا گیا ہے۔ پوری قوم کو صدر سے اظہارِ یکجہتی کرنی چاہیے۔

یہ حسن اتفاق ہے کہ  اسلام کو دہشت گردی کا منبع کہنے والے صدر اور ان کے حواریوں کو اس ایک  تھپڑ نے احساس دلا دیا کہ فرانس ہی نہیں بلکہ یورپ بھر میں انتہائی دائیں بازو کے گروہوں سے جڑے خطرات اور خدشات میں اضافہ ہو رہا ہےحالانکہ  اس کی بنیادی  وجہ ان سیاستدانوں ابن الوقتی ہے۔ فرانس کے  تفتیشی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تھپڑ مارنے والا شخص 28 سالہ ڈامین تاریل قرون وسطی کے دور کی تلوار بازی کا مداح ہے اور اس حوالے سے ایک کلب بھی چلاتا ہے۔ویسے  ڈامین کا کوئی  مجرمانہ ریکارڈ  نہیں ہے اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ نظریاتی مخالف ہے ۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ  تھپڑ رسید کرتے ہوئے  وہ میکرون کی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کررہا تھا۔فرانسیسی قانون کے تحت  ڈامین کو  سرکاری عہدیدار سے مار پیٹ پر تین سال قید اور 45 ہزار یورو کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔تاریل کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو اس کی ہیکڑی نکل گئی اور اس  نے کہا  کہ اس حرکت کا ارتکاب بلا ارادہ ہوگیا ۔  تاہم اس موقع پر وہ قرون وسطیٰ کے شاہی  دور کا  نعرہ لگا رہا تھا  کیا وہ بھی فی البدیہہ ادا ہورہے تھے۔

فرانس میں انتہائی دائیں بازو کے حامی  ٹی وی چینلز نے اس واقعہ  کو بڑے فخر اور  جوش و خروش کے ساتھ پیش کیا ۔ فرانس میں ایسے پرتشددخیالات کے حامل لوگ  اور گروہ ‘فرانسیسی شناخت‘ کو لاحق خطرات کا بہانہ بناکر  پہلے مسلمانوں کی مخالفت کرتے تھے اب اپنوں کو نشانہ بنانے لگے  ۔  یورپ میں ایسے متعدد گروہوں پر پابندی عائد کی جا چکی ہے لیکن ان کی مقبولیت میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت الٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ  (ارضِ جرمنی کے لیے متبادل) کی لیڈر فراؤکے پیٹری نے تجویز کیا تھا کہ جرمن سرحد کو غیرقانونی طریقے سے عبور کرنے والوں کے خلاف ہتھیار استعمال کیے جائیں۔ یہ جماعت جرمنی میں یورپی اتحاد پر شکوک کی بنیاد پر قائم ہوئی  تھی اور پھر یہ متحدہ یورپ کے   انتظامی قوتوں کے خلاف ہوتی چلی گئی۔ کئی جرمن ریاستوں کے انتخابات میں یہ پارٹی پچیس فیصد ووٹ حاصل کرنے میں بھی  کامیاب رہی جو اس کے اثرو رسوخ میں اضافہ کا  بین ثبوت ہے۔ تاریل کے ساتھی آرتھر سی کے گھر سے بھی  نازی رہنما اڈولف ہٹلر کی کتاب ‘مائن کامپف‘ یعنی  ‘میری جدوجہد‘ ملی ہے۔ غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں اس شخص کو  عدالت کے اندر  پیش کیا جائے گا۔ مسلمانوں پر عدم برداشت کا نعرہ لگانے والا نام نہاد  روشن خیال  یوروپ پھر سے تاریک دور کی جانب لوٹ رہا ہے ۔ علامہ اقبال نے یہی تو پیشن گوئی کی  تھی ؎

دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے              کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی            جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گا