آئی سی یو میں   کورونا کا شکار   ، سنگھ پریوار

آئی سی یو میں   کورونا کا شکار   ، سنگھ پریوار

ڈاکٹر سلیم خان

مغربی بنگال میں مودی اور دیدی کا’  کھیلا ‘ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے اور لگتا ہے یہ کمل اور پتوں کا کھیل   قومی انتخاب تک چلےگا۔ ٹورنامنٹ  میں  پہلے لیگ میچ ہوتے ہیں جس کے اندر ہلکی پھلکی ٹیمیں چھٹ جاتی ہیں۔ اس کے بعد  کوارٹر فائنل ، سیمی فائنل اور بالآخر فائنل میچ کھیلا جاتا ہے ۔ اس طرح طلائی تمغے سے لے کر کانسے کے تمغوں تک  کا حقدار طے ہوجاتا ہے۔  قومی سیاست کا فائنل میچ تو 2024 میں کھیلاجانا ہے۔ اس سے قبل کوارٹر فائنل  مغربی بنگال میں کھیلا جاچکا   اور سیمی فائنل آئندہ سال اتر پردیش میں کھیلا جائے گا۔  مغربی بنگال کے اندر بی جے پی کو اپنے بلند بانگ دعووں کے باوجود کراری ہار کا سامنا کرنا پڑا  تو یہ کہہ کر دل بہلا گیا کہ گزشتہ صوبائی کی 3 سیٹوں کے مقابلے اس بار 77مقامات پر کامیابی مل گئی  اور تمام حزب اختلاف کا  مکمل صفایہ ہوگیا  ۔  یہ باتیں اچھی لگتیں اگر 200 پلس کا دعویٰ نہیں کیا جاتا ہے اور 2 مئی دیدی گئی  کانعرہ نہیں بلند ہوتا  ۔ابھی حال میں ممتا بنرجی نے وزیر اعظم کی نشست میں بنا اجازت داخل ہوکر اپنی رپورٹ اور مطالبات رکھےاور   کھلی توہین  کرکے لوٹ آئیں ۔ اسے دیکھ   بی جے کے رہنما منوج تیواری کا مشہور لوک گیت(چٹ دینی مار دیہلے کھینچ کے طمانچہ ، ہی ہی ہنس دیہلے پنکیا کے پاپا)  معمولی ترمیم کے ساتھ  خود ان کی  پارٹی   پر صادق آگیا ؎

دیدیا نے مار دیہلے کھینچ کے طمانچہ            ہی ہی ہنس دیہلے، یوپیا کے پاپا

اترپردیش کے اندر سیمی فائنل  یعنی صوبائی انتخاب سے قبل پنچایتی الیکشن کے بہانے ’وارم اپ‘ میچ کھیلاگیا ۔ اس میں   رام کی ایودھیا ، یوگی کے گورکھپور اور مودی کے وارانسی میں  شکست کا منہ دیکھنے کے بعد بی جے پی کے پاس  کوئی بہانہ نہیں بچا ۔ اس دو طرفہ شکست کے بعد پہلے تو سنگھ نے مثبت سوچ کے نام پر  عوام کی توجہ ہٹانے اور بھگتوں کے زخموں کو سہلانے کی کوشش کی لیکن ا س سے بات نہیں بنی تو اب  سنجیدگی سے وچار منتھن کا سلسلہ شروع ہوگیا  ہے۔  وہ سنگھ جسے راشٹر کی سیوا کے لیے تقریباً سو سال قبل قائم کیا گیا تھا ،جب قوم کو اس کی خدمت سب سے زیادہ درکار تھی تو گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب ہوگیا ۔  اس کی محدود سرگرمی تبلیغی جماعت کے بہانے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور مسلم پھیری والوں کو زدوکوب کرنے میں نظر آئی ۔ اس کے برخلاف مسلمان سڑکوں پر ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرکےپیدل  گھر جانے والوں کو کھانا تقسیم کرتے دکھائی دیئے ۔    کورونا کا زور تھما تو یہ سنگھ سیوک بی جے پی کی سیوا کرنے کے لیے بہار پہنچ گئے اور خوب خدمت کی لیکن اس کو اقتدار میں نہیں لاسکے ۔لالو پرشاد یادو  کے بیٹے نووارد  تیجسوی نے نہ صرف  مودی بلکہ  سنگھ پریوار کو بھی دوڑا  لیا   مجبوراً  انہیں نتیش کمار کا بغل بچہ بننے پر مجبور ہونا پڑا۔

بہار کے بعد سنگھ پریوار پھر غائب ہوگیا اور  چار ماہ کی تعطیلات مناکر مغربی بنگال میں نمودار ہوا۔  وہاں بھی وہ بی جے پی کی سیوا کررہا تھا ۔ اس کو انتخابی کامیابی دلانے کےلیے آتنک مچا رہا تھا۔  اس نے مغربی بنگال میں تشدد کی ایسے شعلے بھڑکائے کہ  خود اس کے کئی  سویم سیوک اپنی ہی لگائی ہوئی  آگ میں بھسم ہوگئے۔ سنگھ اور بی جے پی کو اس کا بھی کوئی افسوس نہیں ہوا بلکہ وہ اس آگ پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکتا رہا اور اقتدار میں آنے کا سہانا خواب سجا تا رہا۔  اس دوران  کورونا کی دوسری لہر  آن پہنچی ایسے میں  بنگال کے انتخابات کو ملتوی یا کم ازکم مختصر کرنے کے بجائے اتر پردیش میں  پنچایت الیکشن کا ناعاقبت اندیش  فیصلہ کیا گیا ۔ سنسکرت میں اسے ’وناش کالے ویپریت بدھی‘ یعنی تباہی کے دور میں عقل کا الٹ جانا یا ماوف ہوجانا کہتے ہیں ۔ بار بار منع کرنے کے باوجود   ایک ہزار   دوسو سے زیادہ جونیر اساتذہ اور نہ جانے ان کے  کتنے اہل خانہ اور پاس پڑوس کے لوگوں کی بلی چڑھا کر     انتخابات کرائے گئے  اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ بھاجپ سمیت پورا  سنگھ پریوار چاروں خانے چت ہوگیا ۔

سنگھ پریوار کے پاکھنڈ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ موہن بھاگوت جب بیمار ہوتے ہیں تو کورونا کے وارڈ میں  بھرتی ہوجاتے ہیں ۔  بی جے پی شعلہ بیان رکن پارلیمان پرگیہ ٹھاکر  بھی جب بیمار ہوتی ہیں تو دہلی کے ایمس کی جانب دوڑ لگاتی ہیں یا ممبئی کے کوکیلا بین اسپتال میں ہوائی جہاز سے تشریف لاکر اپنا علاج کرواتی ہیں  لیکن جب ٹھیک ہوکر بھوپال میں اپنے رائے دہندگان کے درمیان جاتی ہیں تو ان  کا لب و لہجہ بدل جاتا ہے۔  وہ ان سے کہتی ہیں کہ میں کورونا سے اس لیے محفوظ ہوں کیونکہ ہر روز گائے کا پیشاب پیتی ہوں ۔  وہ اپنے رائے دہندگان کو علی الاعلان گئوموتر پینے کی تلقین کرتے ہوئے یہ  پروچن بھی دیتی ہے کہ اس شبھ  کاریہ (کارِ خیر)  سے پہلے انہیں  مندرجہ ذیل پرارتھنا کرنی چاہیے:’’  آپ ہمارے لیے امرت کا سوروپ ہیں(گئوموتر گویا آبِ حیات ہے ) میں آپ کو گرہن کررہی ہوں (یعنی  نوش فرما رہی ہوں )۔ آپ میرے بھیتر کی رکشا کریں کیونکہ میرا جیون راشٹر کے لیے ہے(گئوموتر اندر سے میری حفاظت کرے اس لیے کہ میری زندگی قوم کے لیے وقف ہے)۔

اس احمقانہ بیان  کو پڑھنے کے  بعد اگر کوئی سوچتا ہے کہ پرگیہ ٹھاکر  بیوقوف ہے تو  یہ اس  کی نادانی  ہے۔ اس لیے کہ اگربفرض محال  بھوپال کے اندر کوئی   اس کا ووٹر خود یا اس کے افرادِ خانہ کا فرد کورونا سے متاثر ہوجائے تو اپنی رکن پارلیمان کے قریب اس خوف سے  نہیں پھٹکے گا کیونکہ وہاں جو دوائی ملے گی اس کا انتظام تو وہ خود بھی کرسکتا ہے۔ اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کا اس بہتر رام بان اپائے (تیر بہ ہدف) کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔    خیر فی الحال پرگیہ ٹھاکر کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ اسے تو 2024  میں اگلا الیکشن لڑنا ہے ۔ مدھیہ پردیش کے صوبائی الیکشن کو بھی کافی وقت باقی ہے اور  شیوراج چوہان  ویسے بھی اس دریدہ دہن خاتون سے خاصہ فاصلہ رکھ کر چلتے ہیں۔  انہیں پتہ ہے وہ کبھی   بھی نادانستہ کسی بڑی  مشکل میں گرفتار کرسکتی ہے ۔  مسئلہ موہن بھاگوت کا بھی نہیں ہے کیونکہ انہیں تو الیکشن لڑنا ہی نہیں ہے۔ آر ایس ایس میں  سرسنگھ چالک کو ہٹایا نہیں جاتا ۔ وہ خود ہٹ جائے تو اور بات ہے  لیکن بی جے پی کے لیے مشکل یہ ہے کہ اتر پردیش کا انتخاب  اس کے سر پر آلگا ہے۔

انتخاب کے معاملے میں بی جے پی اور دیگر سیاسی جماعتوں میں وہی فرق ہے جو ایک عام طالبعلم اور محنتی اسٹوڈنٹ میں ہوتا ہے۔ عام طلباء امتحان کی تاریخوں کا اعلان ہوجانے کے بعد سنجیدگی سے پڑھائی لکھائی شروع کرتے ہیں اس کے برعکس محنتی طالب علم پور ا سال  سے پڑھائی میں  لگارہتا ہے۔ بی جے پی سال بھر  تیاری کرکے الیکشن لڑتی ہے  اور مغربی بنگال میں تو اس نے دو سال صرف کردئیے۔  یہ اور بات ہے کہ اسے کامیابی نہیں ملی لیکن وہ لوگ بددل بھی نہیں ہوتے۔  اتر پردیش کے پنچایتی الیکشن دراصل بی جے پی  کے لیے آزمائشی (پری لمنیری)   امتحان جیسا تھا لیکن بدقسمتی سے اسے خلاف توقع ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ   کورونا کی دوسری لہر نے نے سب سے زیادہ تباہی اترپردیش اور بہا ر میں مچائی ہے  ۔ دواخانے، دوائی اور آکسیجن کی کمی کو تو جھوٹ بول کر چھپا دیا گیا  لیکن  گنگا میں بہتی لاشوں نے راز فاش کردیا ۔

امتحان کی اس نازک گھڑی میں    سنگھ کے وہ سیوک جو انتخابات میں گھر گھر جاکر ووٹ مانگتے ہیں رائے دہندگان کی مدد کے لیے آگے نہیں آئے۔ ان کو دوائی کی ضرورت پڑی تو جسم پر گوبر  پوت  کر گئوموتر  پینے کا مشورہ دینے لگے تاکہ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ آئے چوکھا۔  اس طرح مریضوں کو دواخانہ لے جانے کی  محنت  اور دوائی فراہم کرنے کی مشقت سے چھٹکارہ مل گیا کیونکہ  گوبر تو اپنے گھر یا پاس پڑوس کے اندر مفت میں موجود تھا ۔  اس طرح آکسیجن  اور وینٹی لیٹر وغیرہ کی ضرورت سے بھی نجات مل گئی  لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوا کہ جب لوگ مرنے لگے ۔موت کے بعد  انسان کی باوقار  آخری رسومات  اس کا حق ہے۔ ہندو مذہب میں اس کے لیے لکڑی کی ضرورت پڑتی ہے ۔ ایسے میں عظیم  سنگھ پریوار اس کا انتظام کرنے سے بھی قاصر رہا ۔ اب سوال  پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کوئی بہت بڑا چیلنج تھا ؟ اس کا جواب سرکاری اعدادو شمار کے مطابق  معلوم کیا جانا چاہیے۔  ملک بھر میں تادمِ تحریر کورونا سے صرف 3لاکھ 29 ہزار اموات ہوئی ہیں ۔ اس کو اگر دس گنا بھی بڑھا دیا جائے تو یہ تعداد 33 لاکھ تک پہنچے گی ۔

بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ  وہ دنیا کی سب سے امیر پارٹی ہے اور اس کا نظارہ انتخابی مہم کے دوران دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کے کل   18 کروڈ ارکان ہیں تو سوال یہ ہے کہ افراد اور دھن دولت کی   یہ افراط  کیا  3 سے 33 لاکھ  تک لوگوں کو مرنے کے لیے لکڑی تک فراہم نہیں کرسکتی؟   بی جے پی والے اگر میدان  میں آتے تو اس کے لیے انہیں  سرکار کی  بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ لوگ تو مندر کے لیے کروڈوں روپئے زبردستی وصول کرلیتے ہیں۔  ایسے میں  کوئی ہندو کو اپنے اعزہ و اقرباء کی لاش کو ندی میں نہیں بہاتا  یا  اسے ساحل  پر تین فٹ کے گڈھے میں گاڑ نے کے لیے  مجبور نہ  ہوتا ۔ اتر پردیش کی سرکار تو ابھی تک 20ہزار اموات بھی تسلیم نہیں کرتی تو اسے لکڑی فراہم کرنے میں مشکل کیا تھی ؟  ایک فرد کے لیے 100روپئے کی لکڑی پکڑیں  تب  بھی صرف  20 لاکھ روپئے ہوئے ۔   اس سے  زیادہ خرچ تو یوگی کے ایک  انتخابی دورے  پر ہوجاتا ہے۔ اس کے باوجود مودی ، یوگی اور سنگھ پریوار اس معمولی سے ہدف کو حاصل کرکے ملک کو بدنامی سے بچانے میں ناکام ہوگیا۔ ایسے میں  سنگھ سے مرعوب  ان لوگوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ  جنھوں نے اسے آسمانی مخلوق بنادیا تھا ۔    ارشادِ ربانی ہے؎’’اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اُس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے‘‘۔