اسرائیل کا ناسور اور عالمی سازش

اسرائیل کا ناسور اور عالمی سازش

ڈاکٹر سلیم خان

یہودیو ں کی جدید تاریخ پر ایک غائرنظر ڈالیں تو1880 ء میں عالمی  یہودی آبادی 77 لاکھ تھی ۔ اس میں   90فیصد  یورپ اور ان میں سے بھی  33 لاکھ مشرقی یوروپ  کے سابقہ پولش صوبوں میں آباد  تھی۔ان کے خلاف مسیحیوں کے اندر شدید مذہبی  نفرت پائی جاتی  تھی ۔ یوروپی  ممالک میں قوم پرستی کی لہر  نے انہیں  غیرقوم  بنا کر ان کا  جینا دوبھر کردیا تھا۔   اس امر کا ثبوت انیسویں صدی کے اواخر میں    روس اور یوکرین کے اندر رونما ہونے والے  تین  نمایاں قتلِ عام  ہیں جن میں  ہزاروں یہود قتل کیے گئے اور روس سے  22 لاکھ یہودیوں کو  ہجرت پر مجبور  ہونا پڑا۔ یوروپ کی زمین چونکہ  ان پر تنگ ہوچکی تھی اس لیے انہوں نے   فلسطین کا رخ کیا۔یہی وہ زمانہ تھا جب  بے یارو مددگار  یہودیوں  کو اپنی بے وطنی کا شدید احساس ہوا ۔  اس دورِ پرفتن میں  قومیت کے سیاسی  نظریہ سے خوفزدہ یہودی دانشوروں کی خاطر   اپنے لیے ایک علٰحیدہ ریاست  کا خواب دیکھنا ناگزیر  ہوگیا۔

یہودی ریاست   کے حصول کی خاطر       1890 میں  آسٹریائی مروج نیتھن برنبام نے پہلی بار صہیونیت کی اصطلاح وضع کی ۔  اس قومی تحریک   کو اپنے  آبائی وطن ارض فلسطین کی جانب   واپسی اور یہود ی حاکمیت کی بحالی کی کا نام دیا  گیا۔  1897 میں  تھیوڈور ہرتزل نے اسرائیلی ریاست  نامی کتاب لکھ کر آزاد اور خودمختار ملک  کے قیام کا تصور پیش کیا۔اس کے بعد پہلی صہیونی  کانگریس (شوری) کے  اجلاس  میں عالمی صہیونی تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔ 1917ء میں برطانیہ نے ترکوں کو شکست دےکر فلسطین   کو قبضہ میں لیا اور وہاں  یہود کے لیے قومی وطن کے قیام کی باضابطہ  سرکاری  منظوری اور حمایت کی،   تاہم  مقامی عربوں کے   شہری اور مذہبی حقوق  کی ضمانت دی گئی ۔1921ء میں برطانیہ نے دریائے اردن اور اس کے مشرقی میں فلسطینی علاقوں کے اندر یہودی آبادکاری کو ممنوع قرار دے دیا۔ تاہم عربوں کی آبادکاری جاری تھی ۔

اشتراکی انقلاب کی  خاطر روس کے اندربرپا  ہونے والی خانہ جنگی ہزاروں یہودیوں کے قتل اور ہجرت کاموجب بن گئی ۔ سوویت یونین میں سرخ آندھی نے چونکہ   نجی تجارت پر پابندی لگادی  اس لیے  یہودی تاجر  وں  کوپولینڈ جانا  پڑا   ۔ ۱۹۳۰ء میں یہودیوں کی آبادی  ایک کروڈ پچاس لاکھ  ہو گئی تھی  اس میں سے  40 لاکھ یہودی پولینڈ میں جمع ہوگئے   تھے۔  فلسطین میں ان کی تعداد  1لاکھ75 ہزار یعنی کل آبادی کا 17 فیصد ہوگئی تھی  ۔ 1933ء میں ہٹلر نے یہودیوں  کو قتل عام کرکےان کی شرحِ ہجرت میں بے شمار  اضافہ  کردیا۔ 1939ء میں برطانوی حکومت نے قرطاس ابیض جاری کرکے 1940ء تا 1944ء ہر سال 10,000 یہود کو ہجرت کی اجازت دی نیز ہنگامی صورت حال میں  25,000 یہودیوں کے نقل مکانی کو مباح کیا گیا۔اس دوران پورے  یورپ میں سے 60 لاکھ یہود کی باقاعدہ نسل کشی کا دعوی کیا جاتا ہے۔

1945ءتا 1948ء کے مرگ انبوہ(ہولوکاسٹ) بڑے پیمانے پر یہودیوں کو فلسطین کا رخ کرنے کا سبب بنا ۔ اس کے پیش نظر برطانوی سامراج نے غیر قانونی طور پہ فلسطین میں داخل ہونے والے یہود پر پابندی لگادی ۔1946ء تا 1948ء کے دوران یہودی ریاست کے قیام کی   جدوجہد دہشت گردی میں بدل گئی اور 14؍مئی 1948ء کوبن گوریون نے اسرائیل کی آزادی کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد وقوع پذیر ہونے والے واقعات یہ ظاہرکرتے ہیں کہ یہ ایک  عالمی سازش  تھی  کیونکہ یہودیوں کے سب سے بڑے دشمن سوویت یونین نے اسرائیل کو اقوام متحدہ میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی ۔ اس کے فوراً بعد  اقوام متحدہ نے یہودی اور عرب ریاستوں کے قیام کی باقاعدہ منظوری دے دی اور اس  ناسور  کو عالمی سطح پر  جواز عطا کردیا  گیا۔    گیارہ منٹوں کے اندر امریکہ  نے اسے تسلیم  بھی کرلیا۔  ان واقعات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یوروپ میں یہودیوں کے خلاف  نفرت اور اس نحوست سے  نجات کی شدید خواہش نے ایک  خفیہ سازش کےتحت  صہیونی ریاست کی راہ ہموار کی ۔

اس کے بعد جب بھی عربوں نے اس کو پسپا کرنے کی سعی  کی تو برطانیہ ، فرانس اور امریکہ سب مل کر بالواسطہ اور بلا واسطہ  اسرائیل  کی پشت پناہی  کرتے رہے  کیونکہ  اس  نوزائیدہ ریاست سے ان کے کئی مفادات وابستہ تھے ۔ مغرب کے مفادات میں سرِ فہرست   ان کی یہ ضرورت تھی  کہ انہیں   مشرق وسطیٰ میں ایک محتاج و مجبور مگر   معتبر آلۂ کار  چاہیے تھا کو اسرائیل کی صورت میں  حاصل  ہوگیا۔ اس کی مدد سے وہ  عرب دنیا کو اپنے زیر اثر  رکھنے کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرسکتے تھے ۔ اس احسان کے ذریعہ وہ   یہودیوں پر کیے جانے والے ماضی کے مظالم کی پردہ پوشی کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے تھے ۔ اپنا یہ کفارہ ادا کرنے کی خاطر  انہوں نے خود کوئی قربانی دینے کے بجائے  فلسطینی حقوق کوپامال   کیا۔  اسرائیل کے قیام کی وجہ سے مغربی ممالک کو  فتنہ پرور یہودی  کے اپنے علاقوں سے نکالنے کا جواز بھی مل گیا ۔ اس لیے عالمی برادری کے ذریعہ  اسرائیل کے خلاف منظور ہونے والی تمام  قرار دادوں  کو ویٹو پاور کے حامل ممالک بزور قوت  مستردکروا کر  عمل آوری میں رکاوٹ پیدا کرتے رہے۔  اس طفیلی  ریاست کی ہر طرح سے امداد  کی گئی اور اسے  تحفظ فراہم  کیا جاتا رہا یہاں تک کہ دوران جنگ بھی کمک پہنچائی گئی۔

1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت قریباً دس لاکھ یہودی مشرق وسطیٰ، افریقی اور عرب ممالک میں مختلف مقامات پر موجود تھے، جن کو کافی مشکلات کا سامنا تھا۔ اس سے قبل 1947 میں جب اقوام متحدہ نے فلسطین کو یہودی اور عرب ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تو دیگر مقامات پر موجود یہودی غیر محفوظ ہو گئے۔عراق سے ایک لاکھ بیس ہزار یہودیوں کو ایئرلفٹ کیا گیا یعنی جہازوں کے ذریعے اسرائیل لے جایا گیا۔ اسی طرح 1984 میں سوڈان کے مہاجر کیمپ میں موجود 8000 ایتھوپین یہودیوں کو اسرائیل لے جایا گیا۔ 1991 میں اسرائیلی جہازوں نے صرف 36 گھنٹوں کے اندر 15 ہزار ایتھوپین یہودیوں کو اسرائیل منتقل کیا۔ اس طرح چند سال کے عرصے میں قریباً 10 لاکھ یہودی اسرائیل پہنچے۔چند سال قبل تک ایسی خبریں آتی رہی ہیں جن میں خفیہ طور پر یہودیوں کو اسرائیل منتقل کیا جاتا رہا ہے۔

اس  عالمی سازش کے  نتیجے میں  مقبوضہ فلسطین  کے اندر فی الحال  عربوں کی آبادی صرف 20 فیصد  ہو گئی ہے ۔ اس  ظلم عظیم کی جانب   انگشت نمائی کرنے کے بجائے  ساری دنیا کا ذرائع ابلاغ اسرائیل کے حق میں رطب اللسان رہتا ہے اور اس کے ہر جبرو ظلم کو جائز قرار دیتا ہے۔ یہودی اپنی حیثیت جانتے ہیں اس کے باوجود  عالم ِ اسلام کو مصنوعی مرعوبیت   کا شکار کرنے کی خاطر   انہوں نے پوری دنیا پر یہودی حکمرانی کا  خواب بُنا  ہوا ہے جو ناممکن ہے۔ مذکورہ خواب  کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ   ان  لوگوں نے بڑی چالاکی سے  اپنے مغربی  آقاوں کے زیر تسلط دنیا  کو اپنی عالمی ریاست میں شامل ہی نہیں کیا تھا ۔    یوروپ کی ناراضی سے بچنے کے لیے وہ  عالم انسانیت کو  دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک  محدود کرکے اس  علاقہ پر سلطنت قائم کرنے کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں   حالانکہ اس کا بھی کوئی امکان نہیں ہے ۔

یہ ایک تحریر شدہ حقیقت ہے کہ  صہیونی اپنا نام نہاد   عالمی  غلبہ حاصل کرنے کی خاطر  تشدد ،دہشت گردی اور ظلم کو جائز سمجھتے ہیں لیکن ان کا   سارا زور  نہتے فلسطینیوں پر دکھائی دیتا  ہے ۔ اس کے برعکس   مختلف مسلم ممالک مثلاً مصر   اور ترکی وغیرہ سے  امن معاہدہ کرکے وہ انہیں اپنا ہمنوا بنانے کی فکر میں لگے رہتے  ہیں  ۔ اس حکمت عملی  کا دائرۂ  کار اب  متحدہ عرب امارات، سوڈان  اور بحرین تک پھیل چکا ہے۔صہیونی  تحریک چونکہ سیاست میں اخلاقی ا قدار کے قائل نہیں ہے اور مکر و فریب، خیانت وجھوٹ کو اختیارکرنا جائز سمجھتی ہے    اس لیے ان کے اپنے ناجائز ملک اسرائیل اب تک  کوئی مستحکم حکومت قائم نہیں ہوپائی یعنی جو زہر انہوں نے دوسروں کے لیے تیار کیا وہ خود ان کے اندر سرائیت کرگیا۔

(۰۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)