حماس نے اسرائیل کی جانب سے سیزفائر کے اعلان کو فلسطینی عوام کی ’فتح‘ اورنیتن یاہو کی شکست قرار دیا ۔ فلسطینیوں نے جشن منا یا اور یہودی سوگوار ہوگئے‎‎‎

حماس نے اسرائیل کی جانب سے سیزفائر کے اعلان کو فلسطینی عوام کی ’فتح‘ اورنیتن یاہو کی شکست قرار دیا ہے فلسطینیوں نے جشن منا یا اور یہودی سوگوار ہوگئے‎‎‎
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان اس حالیہ جنگ میں کس کی شکست اور کس کی فتح ہوی تواس زمینی حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے ہی نہیں جنگ حوصلوں سے لڑی جاتی ہے ۔۔۔ دنیا نے دیکھا حماس کے مجاہدین اورفلسطین کے جانباز مرد ، خواتین اور معصوم بچوں نے اسرائیل فوج کے جدید ہتھیاروں اورگولہ بارود کا مقابلہ اینٹ , غلیل اور پتھروں سے کیا
حماس کی جانب سے صہیونی شہروں پر معمولی راکٹوں کی بارش نے اسرائیلیوں کو ناکوں چنے چبوا دیے اپنے ٰ آپ کو دنیا کا طاقتورملک سمجھنے والا دہشت گرد اسرائیل اسی لیےجنگ بندی پر راضی ہوگیاحماس اور فلسطینی جانبازوں نے اسرائیل کے جدید ہتھیاروں کا مقابلہ اپنی محدود طاقت کے ساتھ صرف اپنے حوصلے اورایمانی طاقت کے بل پر کیا بیت المقدس کی حفاظت کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی پیش کی ۔۔۔ اور اسی ایمانی طاقت سےاسرائیلی فوج کے اندر خوف کا ماحول پیدا کردیا۔۔۔۔ فلسطین کی تباہی و بربادی کا منظر دیکھنے والی خاموش تماشای بنی اسلام دشمن طاقتیں مصالحت کے میدان میں کود پڑی تب جا کر مصرو قطر کی مدد سے اور امریکی صدر جوباءیڈن کی مداخلت کے بعداسرائیل اور حماس کے درمیان ایک معاہدہ قرار پایا اور جمعرات کو جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ، اس کے بعد ہی غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی لانے والی جنگ کو روک دیا گیا جس نے 200 سے زیادہ افراد کو ہلاک کردیا۔ بہت سے فلسطینی جنہوں نے گذشتہ گیارہ دن اپنے گھروں میں گزارے تھے ،جشن منانے کے لئے سڑکوں پر آگئے۔ اگرچہ دونوں فریقوں نے اس جنگ بندی کو قبول کرلیا ہے ، لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ دوسرے کی طرف سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کا جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔ غزہ میں 232 سے زیادہ افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ، 65 بچے بھی شامل ہیں اور اسرائیل نے 2 بچوں سمیت 12 افراد کو کھو دیا۔
اسی لیے بقول معروف شاعر ساحر لدھیانوی صاحب کے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے

جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
لیکن بات جب اپنے تشخص اور مزہبی حمیت و ھریت کی آجاءے تو مشہور شاعر تاجدار تاج صاحب کا یہ شعر یاد آتا ہے
جنگ لازم ہے تو آ فیصلہ کرلیں ہم لوگ۔۔۔۔۔
ایک ہی بار نکل جاءے یہ دن رات کا ڈر۔۔۔۔۔
۔۔۔ یہی منظر اس جنگ میں دیکھنے کو ملا
فی الحال دنیا بھر کے ذراءع ابلاغ میں اس بات کا چرچہ ہیکہ اس جنگ میںاسرائیل کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اورایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ یہودیوں کی بڑی تعداد ہوائی اڈوں کے کھلنے کی منتظر ہے تاکہ اپنا بوریہ بستر لپیٹ کر راہِ فرار اختیار کرسکے
تازہ خبروں کے مطابق پوری دنیا سے غزہ کے شہریوں کے لئے انسانی ہمدردی کی امداد کا کام جاری ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ کے لئے انسانی ہمدردی اور تعمیر نو کی امداد کا وعدہ کیا ہے اور چین نے نقد رقم اور ویکسین کی پیش کش کی ہے۔
شکریہ دوستوں ۔۔۔۔ اس ویڈیو کو شیر ضرور کیجے ۔۔۔۔اور اپنا اور اپنے گھرکا خیال رکھیے ۔۔۔ اللہ حافظ ۔۔۔