وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہوا

وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہوا

از قلم : ڈاکٹر سلیم خان

اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر برائے مشرقی وسطی ٹور وینس لینڈ نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہیں یہ  اسرائیل و غزہ کا تصادم   مکمل جنگ کی صورت نہ اختیار کر لےلیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک جنگ کا آغاز ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ نے تو اپنے گول مول بیان میں مغربی کنارے اور غزہ میں تازہ تشدد کی لہر پر تشویش کا بھی اظہار کرتے ہوئے کہہ دیا  کہ ’’ہم تشدد، نسلی تقسیم اور اشتعال انگیزی کے مقصد کے لیے ہر طرح کے تشدد کی مذمت کرتے ہیں‘‘۔ مگر امریکہ نے وہی پرانا راگ الاپا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے ۔ برطانیہ نے  اسرائیل کی غیر انسانی بمباری کے بجائے حماس کے راکٹ حملے پر تشویش کا اظہار کیا ہےحالانکہ   تادمِ تحریر غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری میں شہدا کی تعداد 145ہوگئی ہے۔ ان میں 42 بچے اور 23 خواتین اور ایک بزرگ شہری شامل ہے جب کہ بمباری میں1100 سو سے زاید افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔

ویسے یہ یکطرفہ معاملہ نہیں ہے ۔ اس تصادم کے نتیجے میں  اسرائیلی فوج نے وسطی اسرائیل اور تل ابیب میں ایک بار پھر خطرے کے سائرن بجائے ہیں۔ موجودہ تصادم  کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب شمالی اسرائیل میں سائرن بجائے گئے۔اس سے قبل حماس تنظیم کی جانب سے داغے گئے راکٹوں کے سبب جنوبی اور وسطی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بجائے گئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے  تسلیم کیا ہے کہ12مارچ صبح تک غزہ کی پٹی سے تقریبا 1500 راکٹ اسرائیل کے مختلف شہروں پر داغے جا چکےتھے۔سنیچر 15فروری کو غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر 278 راکٹ داغے گئے۔ان راکٹ حملوں میں کئی اسرائیلیوں کے واصلِ  جہنم ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے حالانکہ اسرائیل اس تعداد کو ہمیشہ چھپاتا رہا ہے۔

پورے اسرائیل کی آہنی گنبد سے حفاظت کی ڈینگ مارنے والی صہیونی حکومت کی پول اس وقت کھل گئی جب اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک وڈیو کلپ گردش کرنے لگی جس میں تل ابیب کے ایک پُل پر  غزہ کی جانب سے داغے  جانے والے راکٹ نے اڑا دیا۔وڈیو کلپ میں پُل پر آگ کے شعلے اور دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے اور چیخ و پکار مچی ہوئی ہے۔  اسرائیل نے فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے راکٹ حملوں کے خطرے کے باعث تل ابیب کا بن گوریون ہوائی اڈہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ دشمن کے حملوں سے دارالخلافہ کا ہوائی اڈاہ بند کردیا جائے  اور تل ابیب کی تمام پروازوں کو صحرائے نقب میں واقع رامون کے ہوائی اڈے کی سمت موڑ دیا جائے لیکن حماس کے راکٹ وہاں بھی آہنی چھتری  کو پھاڑ کر پہنچ گئے ۔  اپنی طاقت کے غرور میں مبتلا اسرائیل کے لیے  اس سے بڑی  ذلت و رسوائی کی بات اور کیا ہوسکتی  ہے کہ حماس نے اسے دنیا سے الگ تھلگ کرلیا اور سارے ممالک نے اپنی پروازیں معطل کردیں  ؟

اسرائیل  کے اندر  خوف کا یہ عالم ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی سرحد کے قریب فوجی گاڑیوں کی آمد ورفت بند کردی ہے۔ اس بار اسرائیل کو غزہ کے علاوہ اندرون ِ ملک بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور درجن بھر سے زیادہ شہروں میں عربوں اور یہودیوں کے درمیان خونیں تصادم ہوئے ہیں۔  اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے اسرائیل میں دو ہفتے کے لیے ہنگامی حالت یعنی ایمرجنسی لگا نا پڑا ۔ اسرائیل کے اندر تصادم کی  ابتدا ءلد شہر سے ہوئی تھی جہاں عربوں اور یہودیوں کی مشترک آبادی  ہے۔ یہاں پر جب  فسادات پھوٹ پڑے تو  اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو کو  دورہ کرنا پڑا۔ اس موقع  یاہو نے کہا تھا  کہ ان کی حکومت اسرائیل کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت کا استعمال کرے گی۔ اس بیان میں غزہ کو بیرونی اور شرق اردن و اسرائیلی علاقوں میں موجود عربوں  کو اندرونی دشمن تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ دونوں اسرائیلی ظلم کے خلاف  اپنے جائز حقوق کے لیے بر سرِ پیکار ہیں۔ اس مرتبہ اسرائیل شرق اردن میں تعینات  حفاظتی دستوں کو اپنے علاقوں میں واپس بلانے پر مجبور ہوگیا ہے۔

بدعنوانی کے الزامات میں گھرے بن یامین نیتن یاہو  پچھلے دوسالوں میں چوتھی بار ایک مستحکم حکومت بنا  نے میں ناکام ہوچکے ہیں اب اس جنگ کے ذریعہ اپنی ساکھ قائم کرنے کے لیے پھڑ پھڑا رہاہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حماس نے برسوں میں پہلی مرتبہ یروشلم پر راکٹ فائر کر کے ’اپنی حد پار کی ہے۔‘ اس سے پہلے وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ حماس نے ’سرخ لکیر عبور کر لی ہے اور یہ تنازع کچھ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔‘ اس گیدڑ بھپکی کے جواب میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ ’اسرائیل نے بیت المقدس اور الاقصیٰ میں آگ لگائی جس کے شعلے غزہ تک پہنچ گئے ہیں اس لیے نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہے۔‘ یعنی سرخ لکیر کو پار کرنے کی شروعات  تو خود اسرائیل نے مسجد اقصیٰ  کے تقدس کو پامال   کرکے کیا ہے اور  اب اس کی قیمت چکا رہا ہے۔ اسماعیل ہنیہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ قطر، مصر اور اقوامِ متحدہ نے ان سے رابطہ کرکے قیامِ امن کی اپیل کی ہے لیکن اسرائیل کے لیے حماس کا پیغام یہی ہے کہ ’اگر وہ بات بڑھانا چاہتے ہیں اور ہم تیار ہیں اور اگر وہ بات ختم کرنا چاہتے تو بھی ہم تیار ہیں۔‘

اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہےکہ قابض اسرائیلی دشمن کے خلاف ہماری جنگ زمان ومکان کی قید سے آزاد ہے۔ انہوں نے  دشمن کے خلاف اب کھلی جنگ لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ ان کے مطابق مجاہدین کے  حوصلے بلند اور عزائم مضبوط ہیں ۔  مزاحمتی قوتوں‌کے کے بازو لمبےہیں اور وہ   ہرطرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے اپنے ایمان افروز بیان میں   کہا کہ غزہ کی پٹی کے مظلوم عوام کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اسرائیل اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ وہ   چندمجاہدین کو شہید کرکے ہماری طاقت کو کمزور کردے گا۔ ہمارے ایک شہید  کی جگہ لینے کے لیے  مجاہدین کی ایک طویل قطار موجود ہے۔ فلسطینی مجاہدین  آزادی، حق واپسی اور نصرت کے جذبے سے سرشار ہیں۔اسماعیل ہنیہ نے اس موقع پر  القسام کے شہید کمانڈر باسم عیسیٰ‌کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ باسم نے جہاد اور مزاحمت کے میدان میں اپنی جان کی قربانی پیش کی ہے۔ دراصل اہل ایمان کے اسی جذبۂ شہادت سے ساری دنیا کے مستکبرین دہشت زدہ رہتے ہیں ۔

اسلامی تحریک  مزاحمت “حماس” کے سربراہ اسماعیل ہنیہ  کا حوصلہ اس تنازع سے پہلے بھی بلند تھا انہوں نے ایک انٹرویو میں  کہا تھا  کہ القدس اسرائیلی ریاست کی جارحیت اور محاذ آرائی میں تنہا نہیں ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس میں ہمارے عوام کی حفاظت کے لیے غزہ کے بہادر مزاحمت کےلیے تیار ہیں۔ صیہونی اگر  وجود القدس میں اپنی جارحانہ پالیسی جاری رکھیں  گے تو کوئی بھی  پرسکون نہیں ہوگا۔ انہوں ماضی قریب کی  فتوحات کی  نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ القدس کے نوجوان اس وقت جیت گئے جب انہوں نے قابض آباد کاروں اور پولیس کو باب العامود اور سیڑھیوں سے باہر نکلنے پر مجبور کرکے القدس  کے اسلامی ورثے کا تحفط کیا ۔ اسماعیل ہنیہ نے زور دے کر کہا  تھا کہ القدس میں جو کچھ ہورہا ہے وہ غیرمعمولی نہیں ہے۔ فلسطینی شہری القدس کے تحفظ اور اس کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ کے رہنما  خالد مشعل نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے مصر، ترکی، قطر اور امریکا نے کوششیں تیز کردی ہیں۔ خالد مشعل کے مطابق ان کے دو مطالبات ہیں۔ غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جارحیت روکی جائے، اسرائیلی فوج مسجد اقصیٰ سے نکل جائے اور فلسطینیوں کو قبلہ اول میں آزادانہ عبادت کا حق دیا جائے۔انہوں نے  اس عزم کو دوہرایا  کہ الشیخ جراح میں اسرائیل کو فلسطینیوں‌کے خلاف جرائم بند کرکے حراست میں لیے گئے تمام فلسطینیوں‌کو رہا کرنا  ہی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ قابض ریاست کے ساتھ جاری محاذ آرائی ایک  قومی جنگ ہے جو وطن عزیز کی آزادی تک جاری رہے گی۔ دنیا کی کوئی طاقت فلسطینیوں کو اپنے مزاحمت کے حق سے محروم نہیں کرسکتی ہے۔ آخر کار فتح اور نصرت القدس اور مسجد اقصیٰ کی ہوگی۔ مشعل نے کہا کہ اسرائیلی ریاست آگ سے کھیل رہی ہے۔ ان شاء اللہ یہ خود ساختہ  آگ غاصب اسرائیل کو بھسم کردے گی۔  بقل شاعر؎

وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہوا                             جس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہے